مسلمان اس ملک کے ٹیکس نظام میں تماشائی نہیں  بلکہ اپنے آپ کو اس کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے: ڈاکٹررحمن خان

03:41PM Sun 23 Jul, 2017

بنگلورو؍جولائی(بھٹکلیس نیوز)کسی بھی معاشرے کی بقاء کیلئے ٹیکس نظام ضروری ہے ، عام طورپر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو معاشی اور تجارتی سرگرمیاں جو حکومت اور ٹیکسوں سے جڑی ہوں اپنے آپ کو دورہی رکھتے ہیں۔ لیکن گوڈس اینڈ سرویس( جی ایس ٹی) کے ٹیکس اصلاح نظام کو لاگو کئے جانے کے بعد اس کے متعلق جانکاری حاصل کرنے اور اس میں معلومات حاصل کرنے کے لئے جس طرح کی دلچسپی کا مظاہرہ ہورہاہے وہ بہت ہی مسرت کی بات ہے۔ ان خیالات کا اظہار راجیہ سبھا کے رکن وسابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمن خان نے کیا۔ بسم اللہ ایجوکیشنل ٹرسٹ(بی ای ٹی) کے زیر اہتمام بی ای ٹی سعادت النساء کالج کے آڈیٹوریم میں’’جی ایس ٹی کے ہندوستانی معیشت پر اثرات‘‘ کے عنوان پر منعقد ایک روزہ ریاستی سطح کے سیمینار کا افتتاح کرنے کے بعد ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ جی ایس ٹی میں گہری دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے۔ مسلمان اس ملک کے ٹیکس نظام میں تماشائی نہیں بلکہ اپنے آپ کو اس کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ وہ اس نظام سے الگ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس انسان کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے کو ئی بھی معاشرہ ٹیکس کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ ہم جو ٹیکس اداکرتے ہیں اس رقم سے حکومت یا حکمران عوام کی فلاح وبہبودی کے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی ادائیگی کرکے ہم کسی پراحسان نہیں کرتے بلکہ اپنی ہی فلاح وبہبودی کے لئے اپنی طرف سے جو واجب الادا آمدنی کا حصہ ہے وہ حکومت کو اداکرتے ہیں۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ ٹیکس کی رقم کے ذریعہ حکومتیں عوام کی ترقی اور حفاظت کا انتظام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام کے معاشی نظا میں ٹیکس کی غیر معمولی حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت کے ہر صاحب صاب پر زکوۃ کی ادائیگی فرض قرار دیاہے ، یہ ٹیکس نہیں تو اور کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں زکوۃ کی ادائیگی کا کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے ، من مانے طریقے سے زکوۃ جسے چاہئے دی جاتی ہے لیکن اسلامی ممالک میں زکوۃ کے علاوہ ٹیکس کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور وہاں ٹیکسوں کی ادائیگی کو منظم بنایاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک معاشرے کو معاشی طورپر مظبوط بنانے کی یقینی بنانے کے مقصدسے ہی اسلام نے زکوۃ کے نظام کو قائم کیاہے۔ جب اسلام نے زکوۃ کو فرض قرار دیا ہے تو اس سے یہ احساس کرلینا چاہئے کہ اسلام میں ٹیکس کی کیااہمیت ہے۔ ڈاکٹررحمن خان نے مزید کہا کہ ہم اپنی زندگی کے ہر موڑ پر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کے ذریعہ ٹیکس اداکررہیہیں۔ بیرونی ممالک سے کچھ منگوارہے ہیں تو کسٹم ڈیوٹی اداکرتے ہیں ۔ایک ریاست سے دوسری ریاست کو مال لایاجارہاہے تو اس کے لئے آکڑائے دیتے ہیں کچھ خرید وفروخت کررہے ہیں تو سیلس ٹیکس اداکرتے ہیں یہاں تک کے سنیما گھروں میں بھی تفریج ٹیکس اور ہوٹلوں میں لکژری ٹیکس اداکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام الگ ٹیکسوں کو مربود کرکے ایک جامعہ ٹیکس نظام جی ایس ٹی کے تحت متعارف کرایاگیاہے۔ اس کو ملک بھر میں’’ ایک ملک ایک ٹیکس‘‘ کے طورپر متعارف کردیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اگر ٹیکس میں کمی کی جائے تو خیر مقدم کیا جاتا ہے اور اضافہ پر ناراض ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جی ایس ٹی پر بھی اسی طرح کا رد عمل سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی طرف سے جہاں برآمد اور درآمد نظام میں یکسانیت لانے کی بین الاقوامی پہل ہوتی ہے اسی کے تحت عالمی سطح پر رائج جی ایس ٹی نظام اس ملک میں متعارف کرانے کی پہل آج نہیں بلکہ 10 سال قبل ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مال کی خرید وفروخت پر ٹیکس کے ساتھ ساتھ خدمات پر ٹیکس لاگو کرنے کا ایک نیارجحان اس ملک میں چل پڑا ہے جس کے سبب ان تمام ٹیکسوں کو ایک زمرہ میں لاتے ہوئے جی ایس ٹی ترتیب دیاگیاہے۔ ان ٹیکس میں ریاستی اور مرکزی حکومت کا الگ الگ متعین کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی نظام کو متعارف کرانے کے بعد مختلف اشیاء کی قیمتوں پر اس کا اثر کیاہوگا اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ تاجروں کو حکومتوں کے طرف سے متنبہ کیاجارہاہے کہ قیمتوں میں جو کمی واقع ہورہی ہے اس کا فائدہ گاہک کو پہنچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کوفوائد سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔ جی ایس ٹی ٹیکس نظام کے ذریعہ ایک مرتبہ کسی چیز کا ٹیکس اداہوجائے تو دوبارہ اس چیز کے لئے ٹیکس اداکرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کے سبب ظاہر ہے کہ قیمتیں کم ہوں گی۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے اس موقع پر طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ(سی اے) کو اس کو اپنائیں اور ملک کے معاشی نظام کو سمجھ کر اس میں کام کرنے مہارت حاصل کریں یہ مہارت ان کے لئے آئی اے ایس سے بھی بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ قبل ازیں نوجوان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اشون ڈی راؤ نے کہا کہ جی ایس ٹی کے ذریعہ یکساں ٹیکس نظام ملک کو معاشی طورپر مضبوط کرے گا ، جی ایس ٹی کا نفاذ تمام ریاستوں میں کیا جاچکاہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام کے لاگو کئے جانے سے ٹیکس کی چوری کرنے والوں کو آسانی سے پکڑا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ ہی ٹیکسوں کے ذریعہ حکومتوں کو ہونے والی آمدنی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جبکہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی پائی جاتی ہے کاروبار کے شعبے دنیا بھر میں ٹیکس نظام کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجرز پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بڑھتی ہوئی تشویشات کے پیش نظر مختلف محصولات کی جانکاری دی اورقیمتوں کے اڈجسٹمنٹ جسے مسائل کے دوران یہ کانفرنس بہت اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری سیکٹر اور سرویس سیکٹر پر اس کے اثرات پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ صارفین اور ملک کی معیشت پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مسٹر اشون نے کہا کہ جی ایس ٹی ترقی کی راہ ہموار کرے گا ، ملک ایک نئے نظام کی طر چل پڑے گا، کالے دھن اور بدعنوانی کو روکنے میں مدد کے ساتھ ہی یہ ایمانداری سے کاروبار کرنے کے لئے حوصلہ افزائی میں مدد کرے گا۔افتتاحی تقریب کی صدارت ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات وحج الحاج آر روشن بیگ جو بی ای ٹی کے چیرمین بھی ہیں فرمائی۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے کے لئے20؍کمپیوٹرز کی ضرورت کو ڈاکٹر کے رحمن خان کے سامنے پیش کیا تو رحمن خان نے فوری فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بی ای ٹی ادارے میں چارڈٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) سیل کے قیام کے لئے بھی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دیواکر اینڈ اسوسی یٹس چارٹرڈاکاؤنٹنٹ کے پولالی دیواکر راؤ بھی موجود تھے۔ قبل ازیں نورصداء کی تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ بی ای ٹی سعادت النساء کالج شعبہ کامرس کی لکچررمترمہ مروامونا نے خیرمقدم کیا، جبکہ شعبہ انگلیش کی لکچرر ناہد پروین نے ہدیہ تشکرپیش کیا۔ جبکہ شعبہ کامرس کی لکچررزنسرین تاج نے نظامت کے فرائض انجام دےئے۔ اس موقع پر بی ای ٹی کے اعزازی سکریٹری محمد کریم الدین ، جوائنٹ سکریٹری جے شفیع اللہ، کارگزار صدر عبدالجبار، ایم جی ،صابر کے علاوہ دیگر ٹرسٹیاں اور پرنسپل پروفیسرسمیہ فاطمہ کے علاوہ مختلف کالجوں کے لکچررز اور طالبات موجود تھیں۔