طلباء کے ڈراپ آؤٹس کی ایپ بنیاد والے حاضری سسٹم سے جانچ ہوگی

12:46PM Tue 25 Sep, 2018

بنگلورو:25؍ ستمبر(سالار نیوز) کرناٹک نے اسکول کے بچوں کی حاضری کا پتہ لگانے اپنے سسٹم کو کارگر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس تعلیمی سال میں حکومت نے 8,212ڈراپ آؤٹس یا اسکول کے باہر کے بچوں کی شناخت کی ہے۔ وزارت برائے انسانی وسائل (ایم ایچ آر ڈی) کے مطابق تاہم ریاست میں ڈراپ آؤٹ بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ تعداد 16.12 لاکھ ہو سکتی ہے جن کی عمر 6-13سال ہے۔ آئی ایم آر بی کے سروے کے مطابق 9.94لاکھ بچے جو کبھی اسکول کو نہیں گئے ان کی عمر 6-14سال ہے۔ ایم ایچ آر ڈی نے یہ بھی کہا ہے ریاست یہ یقینی بنائے کہ قبل ازیں شناخت کردہ 15,601ڈراپ آؤٹس میں کم از کم 80%کا اس تعلیمی سال میں اسکولوں میں اندراج ہو۔7-14سال کا کوئی بھی بچہ جو 7 دنوں تک اسکول کو نہیں جاتا ، یا جس نے کوئی اسکول میں شرکت ہی نہیں کی اسے آؤٹ آف اسکول سمجھا جائے گا۔بچوں کی ایک قابل لحاظ تعداد ہجرت اور بچہ مزدوری کے سبب ڈراپ آؤٹ ہوجاتی ہے۔سرکاری اسکولوں کے لیے اتھارٹی اب ٹیک قابلیت والے حاضری کاپتہ لگانے والے سسٹم پر کام کر رہی ہے۔کمشنر برائے عوامی ہدایات پی سی جعفرنے کہا کہ ’’اس کے ذریعے ان بچوں کے مسائل سے نپٹا جاسکتا ہے جو اسکولنگ سسٹم میں آتے ہیں اور ان کی ٹریکنگ نہیں ہوتی۔حکومت ایک ایپ بنیاد والے سسٹم کی جانچ کر رہی ہے جو حاضری کو ریکارڈ کرے گا۔ حاصل کردہ ڈیٹاکو ایس ای ٹی ایس پر اپ لوڈ کیا جائے گا جسے حکومت نے انفوسس کی مدد سے تیار کیا گیاہے‘‘۔جعفر نے کہا’’ہم کلائیو لینڈ ٹاؤن بنگلورو کے ایک اسکول میں اس کی جانچ کر رہے ہیں، اور وہ کام کر رہا ہے۔‘‘بائیو میٹرک حاضری کاحکومت کا منصوبہ کچھ وقت لے سکتا ہے۔ اسے آلات اور جوڑ کی ضرورت ہے۔بائیو میٹرک مقامی طور پر یا آدھار کی بنیاد پر رکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہم ایک کمپیوٹر انٹرنیٹ سیٹ اپ پر غور کررہے ہیں جس میں انگلیوں کے نشانات جڑے ہوں۔جب تک جوڑ کے مسائل حل نہیں ہوجاتے یہ مناسب نہیں لگتے۔‘‘جعفر نے کہا کہ فی الحال اساتذہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اعداد ایس اے ٹی ایس پر اپ لوڈ کریں۔ایس اے ٹی ایس کے پاس 1.2کروڑاسکولی طلبا کی اطلاعات ہیں جن میں سے 89لاکھ کے پاس سے آدھار جمع کرلیا گیا ہے۔