جموں وکشمیر: سوشل میڈیا کے ذریعہ منفی پروپیگنڈا پھیلانے والوں پر کسے گا شکنجہ ، پولیس اپنائے گی یہ طریقہ کار
12:14PM Fri 11 Jan, 2019
Share:
افواہ بازوں کی طرف سے پھیلائے جانے والےمنفی پروپگنڈے اور جعلی خبروں کی روک تھام کیلئے جموں کشمیر پولیس خصوصی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لائے گی۔پولیس ذرائع سے یو این آئی کو معلوم ہواہے کہ جموں وکشمیر پولیس افواہ بازوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے منفی پروپگنڈے اور جعلی خبروں کی روک تھام کیلئے خصوصی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لائے گی تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر کئے جارہے مواد کو بھی مانیٹر کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا عصر حاضر کے منظر نامے میں فائدہ بخش بھی ہے اور ضرررساں بھی ہے۔ بعض شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل اور انتقام کیلئے سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ ایسے سماج دشمن عناصر کا شکنجہ کسنے کیلئے اور ان کی طرف سے پھیلائے جارہے منفی مواد کی روک تھام کیلئے پولیس خصوصی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جو شخص بھی سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرے گا یا منفی پروپگنڈے کی تشہیر کرے گا تو مانیٹرنگ افسر اس کو فوری طور پکڑ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ تاہم یہ لیبارٹریاں پولیس کے سائبر مانیٹرنگ سیل سے کام کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ان لیبارٹریوں میں انہی افسروں کو تعینات کیا جائے گاجو جدید ٹیکنالوجی کے اسرار و رموزسے واقف اوراس کے علم سے بہرہ ور ہوں اور جو جدید کمپوٹر کے آلات کے استعمال کرنے میں مہارت رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا 'جوں ہی واٹس اپ گروپوں یا فیس بک پر کوئی قابل اعتراض مواد ایپ لوڈ کرے گا تو مانیٹرنگ ٹیم فوراً اس موبائیل نمبر کا سراغ لگانے اور مزید کارروائی کرنے کیلئے متحرک ہوگی۔
انہوں نےمزید کہا کہ محکمہ ایک وہاٹس ایپ گروپ اور ایک فیس بک پیج بھی جلد شروع کرنے پر غور کررہا ہے ۔ تاکہ ان پر شکایات بھی درج کی جائیں اور سوشل میڈیا پر ہورہی سرگرمیوں پر بھی نظر گذر رکھی جائے۔جو کوئی بھی قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرے گا تو سی آر پی سی کے سیکشن 107 کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس نے یہ اقدام جعلی واٹس ایپ گروپوں اور جعلی فیس بک پیجوں کے بارے میں درج ہورہی شکایات کے پیش نظر اٹھایا ہے۔