صدر کے خطاب پر سکریٹری راجیہ سبھا کو رحمن خان کا ترمیمی نوٹس
03:57PM Wed 7 Feb, 2018
نئی دہلی/بنگلورو۔7فروری (سالارنیوز) صدر جمہوریہ کی تقریر پر راجیہ سبھا کے سکریٹری کو ترمیمی نوٹس دیتے ہوئے سابق مرکزی وزیر ورکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا ہے کہ صدر نے اپنی تقریر میں ملک کے 85 فیصد خواتین جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے جنہیں روزانہ جس ہراسانی کا سامنا ہے اور ان کے شوہروں نے انہیں طلاق اور دیکھ بھال کا خرچ دئے بغیر پچھلے کئی برسوں سے الگ کردیا ہے وہ اپنے حقوق کے لئے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کے معاملہ میں حکومت کی کیا پالیسی ہے؟ اس کو حکومت نے واضح نہیں کیا لیکن حکومت مسلم خواتین کے معاملہ پر فکر مند ہے جو شرعی قوانین کے مطابق خوشحال زندگی بسر کررہی ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ صدر نے اپنے خطاب میں یہ نہیں کہا کہ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے 45 برس سے زیادہ عمر کی خواتین کو چار عورتوں کے گروپ میں محرم کے بغیر اجازت سعودی حکومت نے دی ہے اور ہندوستانی حکومت نے اس سعودی پالیسی کو اپنایا ہے ۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ حکومت نے سماجی اور تعلیمی پسماندہ مسلم خواتین کی سرکاری سروس میں نمائندگی برائے نام کی ہے ۔حکومت حج سبسڈی کو فوری ختم کرنے کی وجہ بتانے میں ناکام ہے ۔ حکومت حج سبسڈی پر کتنی رقم خرچ کرتی تھی ،صدر نے اپنی تقریر میں نہیں بتائی ہے ۔مجھے افسوس ہے کہ صدر نے اپنے خطاب میں ہندوستانی بینکوں کے مالی حالات سے متعلق کچھ نہیں کہا ہے ۔ صدر کے خطاب میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہورہی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گررہی ہیں۔