ڈی کے شیوا کمار کو وزیر اعلیٰ کے طورپر پیش کرنے کے لئے کانگریس اعلیٰ کمان کا فیصلہ
04:10PM Mon 14 Aug, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔کانگریس اعلیٰ کمان نے وزیر برائے توانائی ڈی کے شیوا کمار کو اگلے وزیر اعلیٰ کے اُمیدوار کے طورپر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور ابھی تک اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور صرف پارٹی سطح پر اس پر بحث ہورہی ہے اور اعلیٰ کمان نے شیوا کمار کا نام پیش کرکے وزیر اعلیٰ سدارامیا یادیگر لیڈروں کے درمیان کسی بھی طرح کے اختلافات کو موقعہ دینا نہیں چاہتی۔ اگر اگلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تو شیوا کمار کو ہی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے امکانات زیادہ ہوگئے ہیں ۔لیکن اس کا فیصلہ اراکین اسمبلی کے اجلاس میں ہوگا۔ شیوا کمار نے تمام مرحلوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ کمسن لیڈر ہونے کے باوجود کئی شاندار کارنامے انجام دینے کے ذریعہ پارٹی کو مشکلات سے باہر نکالا ہے ۔انکم ٹیکس کے چھاپے، پوچھ تاچھ اور کئی پریشانیوں کے باوجود گجرات کے تمام 44اراکین اسمبلی کی مہمان نوازی کی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل کو راجیہ سبھا کے انتخابات میں شاندار کامیابی دلوانے کے ذریعہ پارٹی کانام اونچا کیا ہے ۔وزیر اعظم نریندرمودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کی تمام سازشوں کو ناکام کردیا اور دونوں کو ناک تلے فولاد کے چنے کھلانے پر مجبور کردیا۔ اس لئے مودی اور امیت شاہ کے حکم پر انکم ٹیکس افسران کے ذریعہ سمن جاری کرکے بار بار پوچھ تاچھ کے نام پر دفتر کو طلب کیا جارہا ہے اور شیوا کمار اپنا فرض سمجھ کر سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ شیوا کمار بہت غصہ مزاج کے شخص ہیں پھر بھی ڈسپلن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ سونیا گاندھی اور احمد پٹیل نے شیواکمار کو انتخابات میں کامیابی دلوانے پر مبارکباد پیش کی ہے ۔اب شیواکمار کے سامنے کئی ذمہ داریاں آپڑی ہیں۔ اعلیٰ کمان شیوا کمار کو اب گجرات ریاست کی ذمہ داری سونپنے کے علاوہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی ذمہ داری بھی سونپنے کا فیصلہ لیاہے ۔شیواکمار نے گجرات کے تمام اراکین اسمبلی کی اچھی مہمان نوازی کی اور اس سے قبل مہاراشٹرا کے اراکین اسمبلی کی بھی مہمان نوازی کرنے کے ذریعہ مہاراشٹرا حکومت کی حفاظت کی تھی۔شیوا کمار نے کئی ضمنی انتخابات اور دیگر انتخابات کی ذمہ داری لے کر پارٹی اُمیدوارو ں کو کامیاب بنا دیا تھا۔ گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ کے ضمنی انتخابات میں بھی بڑی ذمہ داری لے کر سرینواس پرساد جیسے تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان کو ایک معمولی پارٹی ورکر کے ذریعہ شکست دلوائی تھی۔اب شیوا کمار ریاستی سطح اور قومی سطح پر ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کانگریس چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ایک وکلیگا لیڈر کی کمی محسوس ہونے لگی تھی ۔شیوا کمار نے اس کمی کو دور کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں شیوا کمار پارٹی کے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔دوسری طرف شیوا کمار نے جے ڈی ایس کے باغی اراکین اسمبلی کو بھی ٹکٹ دلوانے کا فیصلہ لیاہے ۔ اسمبلی انتخابات کے لئے کن اُمیدواروں کاانتخاب کرناہے اس کا فیصلہ بھی شیواکمار کرنے والے ہیں۔