جامعہ اسلامیہ فاتح العالم (الیکٹرانک سٹی بنگلور )کا اولین سالانہ انعامی اجلاس عام

03:25PM Thu 25 May, 2017

بنگلور (بھٹکلیس نیوز )الیکٹرانک سٹی مہا لکشمی نگر 249 احمد عباس جاوید نامہ نگار کی اطلاع کے بموجب آج یہاں مدرسہ ہذا کا پہلا سالانہ انعامی اجلاس عام منعقد تھا ۔ یاد رہے گذشتہ سال مدرسہ جامعہ اسلامیہ کا قیام یہاں شہر کے مضافات الیکٹرانک سٹی میں عمل میں لایا گیا تھا !بعد نماز عصر اجلاس کا آغاز حافظ و قاری رضوان بیگ صاحب شمسی زید مجدہ کی قرءآت قرآن مجید سے عمل میں آیا ۔ پھر جامعہ اسلامیہ کے زیر تربیت مختلف طلبا نے اپنا اپنا مظاہرہ فرماتے ہوئے نعتوں کا نذرانہ عقیدت نبی کریم ﷺکی شان اقدس میں پیش کرکے داد و تحسین پائی اور اسی طرح کئی طلبانے بڑی ہی مسحور کن لحن میں بیحد متاثر کن انداز سے پورے آداب و قواعد کے ساتھ قرآت قر آن مجید فرماتے ہوئے سامعین اجلاس کو حیرت زدہ کرڈالا ۔خصوصیت سے اک معصوم طالب علم قاری محمد عمیر نے قرآن کی سورہ یوسف پڑھتے ہوے خوب داد و تحسین سے نوازے گئے ۔اس نورانی اجلاس کی اک خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہاں اس بات کا اک روح پرور نظارہ بھی کثیر تعداد میں شرکاء اجلاس نے دیکھا کہ ایمان کا پیاسا 249 راہ ہدایت کا طالب 249 حق کا متلاشی 249 صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا 249 اک مسافر 249 اک بندہ ء خدا نے یہاں پہنچ کر حضرت والا اجلاس کے مہمان خصو صی مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی کے دست پر مشرف بہ اسلام ہوا ! اس نوجوان نووارد اسلام کو آپ مفتی صاحب نے اس کے سابقہ نام روی کمار سے بدل کر عبدلرحیم نام سے نوازا ۔ اور اس کو اس نام کے معنی رحم کرنے والے کا بندہ بتاتے ہوئے اس کے حق میں دعائے خیر بھی فرمائی اور کلمہ توحید پڑھواتے ہوئے اللہ تعالی کی وحدانیت اور محمد عربی ﷺکی رسالت اور پیغمبرانہ مقام ومرتبہ سے اس نو جوان عبدلرحیم کو آگاہ فرماتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر اسکو مبارکباد او ر دعاؤں سے نوزا ! اس کاروائی کو انجام دینے کے بعد آپ مفتی صاحب نے جو اس موقعہ پر یہاں خصوصی طور پہ مدعو مہمان تھے نے اپنے کلیدی خطاب کا آغاز کیا ۔ آپ حضرت والا نے اپنے خطاب کا موضوع سخن انسانی جسم اور اس کی روح کو بنواتے ہوئے اس پر بھر پور روشنی ڈالی اور سیر حاصل تقریر فرمائی ۔ آپ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق فرمائی تو اس کی تمام تر انسانی ضروریات کے لئے یہ دنیا بنوائی جس میں دریا 249پہاڑ 249 زمین و آسمان 249 آب و ہوا دھوپ چھاؤں درخت سورج چاند ستارے اور سامان خورد نوش کو ہم انسانوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے رکھا ۔ آپ نے دوران خطاب سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے اس بات کا بھی اظہار فرمایا کہ انسان کے جسم کے لئے ساری دنیا و کائنات کو ہمارے طابع فرمانے کے بعد ہمارے جسموں کے اندر بسنے والے ہمارے ارواح کی روحانی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی اس خدا نے روحانی تسکین اور اس کی تطہیر کے لئے مقدس آسمانی صحیفے اتارے اور اپنے انبیا و پیغمبروں کے ذریعہ ہماری روحانی تربیت و ضروریات کا خیال رکھا اس نظام کا نام ہے روحانیت جو آدمیت اور انسانیت کے اندر پنہاں رہتی ہے ۔ اور جب یہ روح اس پنجرہ کو چھوڑ کر عالم ارواح میں جہاں سے یہ بحکم خدا یہاں ہمارے جسموں میں ڈالی گئی تھی واپس اللہ ہی کے حکم سے چلی جاتی ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا انتقال ہوگیا ! آپ مفتی صاحب نے مزید فرمایا کہ انسان نے دھات پر محنت کی تو ہوائی جہاز 249تیز رفتار ٹرین اور موٹر گاڑیاں ایجاد کرلی یہ تمام ترقیات و ایجادات صرف انسانی جسم کی ضروریات کی تکمیل کرتی ہیں لیکن ہماری روح کی ضرورت کا سامان یہاں ان دینی مدارس میں انجام دیا جاتا ہے ۔ جس کو آپ دینی تعلیم و تربیت کا نام دیتے ہیں۔ آپ مفتی صاحب نے مولانا مفتی سید مزمل احمد قاسمی و ازہری بانی و مہتمم مدرسہ جامعہ اسلامیہ فاتح العالم (الیکٹرانک سٹی بنگلور ) و مدیر اعلی ہفت روزہ نور قیوم بنگلور کی سعی و جہد کو سراہتے ہوئے اس جگہ جہاں عیسائیت آہستہ آہستہ اپنے قدم جماتی جارہی ہے اک مظبوط اسلامی قلعہ ایسے باطل نظریات و عقائد کے مقابل تعمیر کرکے یہاں سے روحانیت کی تربیت اور ہمارے طلبا کے قلوب کی تطہیر کا ساماں کررہے ہیں۔ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے حق میں اور اس دینی درس گاہ کی ترقی درجات کے بھی دعا فراتے ہوئے ان کے والد محترم جناب سید زبیر احمد صاحب کو بھی مبارکباد سے نوازا کہ آپ کی تربیت سے فیض پاکر ان کے فرزند نے یہاں اس علاقہ میں جہاں ضلالت و جہالت کے بادل منڈلارہے تھے حق کا پرچم بلند کرتے ہوئے ایمان و اسلام کا چراغ جلایا ہے انشااللہ اس کی کرنوں سے یہ پورا علاقہ روشن و منور ہوجائے گا ۔ مفتی صاحب نے مستقبل کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار فرمایا ۔قاری محمد رضوان بیگ صاحب شمسی زید مجدہ صدر آل انڈیا ریم دعوۃ القرآن بی ٹی یم لے آوٹ بنگلور نے اجلاس کی نظامت کے فرائیض انجام دئے ۔ داعی اجلاس مولانا مزمل احمد قاسمی نے حاضرین اجلاس و مہمانان خصوصی کا خیر مقدم و استقبالیہ بھی فرمایا اور اختتام سے قبل اظہار نشکر بھی فرمایا ۔ اس موقعہ پر یہاں مہمانان اعزازی کو مدرسہ جامعہ اسلامیہ فاتح العالم کی جانب سے تہنیت بھی فرمائی گئی قاری رضوان بیگ صاحب شمسی کی روح پرور دعا کے بعد اک پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی فرمایا گیا !