بنگلہ دیش نے واجپئی کو’’ لبریشن وار آنر‘‘ ایوارڈ فراہم کیا
02:40PM Mon 8 Jun, 2015
ڈھاکہ7جون(آئی این ایس انڈیا(
بنگلہ دیش نے آج سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو اس کی آزادی میں فعال کردار ادا کرنے اور اس ملک سے ہندوستان کے دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی شراکت کے لئے عظیم ’’لبریشن وار آنر‘‘ ایوارڈ فراہم کیا۔بنگلہ دیش کے صدر عبد الحامد نے یہاں صدر کی رہائش گاہ بنگ بھون میں منعقد شاندار تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بنگلہ دیش لبریشن وار آنر ایوارڈ تفویض کیا۔اس تقریب میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور یہاں کی حکومت کے اعلی حکام نے حصہ لیا۔90 سالہ واجپئی کی طرف سے اعزاز حاصل کرنے کے بعد مودی نے کہا کہ یہ دن ہم تمام ہندوستانیوں کے لئے بڑا قابل فخر ہے کہ اٹل بہاری واجپئی جیسے ایک عظیم لیڈر کو نوازا جا رہا ہے۔انہوں نے اپنی مکمل زندگی ملک کی خدمت کے لئے وقف کر دی اور عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑی۔سیاسی نقطہ نظر سے وہ میرے جیسے سیاسی کارکنوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔انہوں نے 6دسمبر 1971کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں واجپئی کی تقریر کو یاد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے رشتے اٹوٹ ہیں جو کسی دباؤ میں نہیں ٹوٹیں گے اور کسی سفارتکاری کا شکار نہیں بنیں گے۔مودی نے کہا کہ وہ سیاست میں کافی دیرسے آئے لیکن وہ ان نوجوان کارکنوں میں شامل تھے جو 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے ستیہ گرہ کرنے کے واجپئی کے اعلان پر دہلی آئے تھے۔مودی نے اپنے آپ کو ان کروڑوں لوگوں میں سے ایک بتایا جو واجپئی کے اس خواب کااحساس ہونا دیکھنا چاہتے تھے۔یہاں دو روزہ دورے پر آئے وزیر اعظم نے کہا کہ واجپئی اگر خود یہ اعزاز حاصل کرنے کے لئے آج یہاں موجود ہو پاتے تو کتنا حیرت انگیز ہوتا۔انہوں نے امید جتائی کہ واجپئی جلد صحت یاب ہوں گے اور ایک بار پھر سب کی رہنمائی کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب بنگلہ دیش کے مجاہدین آزادی خون بہا رہے تھے تب ہندوستانی بھی ان سے کندھا سے کندھاملاکرلڑرہے تھے اور ایک طرح سے بنگلہ دیش کے خواب کی تکمیل میں مدد کی۔بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اس موقع پر کہا کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں واجپئی کی سرگرمیوں کی اہم شراکت رہی ہے۔حسینہ نے مودی کو واجپئی کا اہل جانشین اور واجپئی کی طرح بنگلہ دیش کا ایک بڑا دوست بتایا۔انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی میں ہندوستان کی مدد کو قبول کیا اور اس بات کو بھی یاد کیا کہ اس وقت ہندوستان نے بنگلہ دیش کے لوگوں کو پناہ دی تھی۔خراب صحت کی وجہ سے بھارت رتن 90سالہ واجپئی تقریب میں موجود نہیں ہو سکے۔پریس ریلیز میں واجپئی کی تعریف ایک انتہائی قابل قدر سیاسی رہنما کے طور پر کی گئی ہے اور بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت کے لئے ان کے فعال کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ سنگھ کے صدر اور لوک سبھا رکن کے طور پر واجپئی نے اس سمت میں کئی اقدامات اٹھائے۔آزادی کی لڑائی کو حمایت دینے میں تیزی لانے کے لئے حکومت ہند سے مطالبہ کرنے کے لئے سنگھ کے کردار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔اس میں بنگلہ دیش اور اس کے وجود میں آنے کی کوشش میں لگے لوگوں کے حق میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر واجپئی کے پختہ رخ کا ذکر کیا گیا۔اس میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے لوگ بنگلہ دیش آزادی اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے کے لئے ہمیشہ اٹل بہاری واجپئی کے اہم شراکت کو یاد رکھیں گے۔