ناساز گار حالات کے باوجود مسلمانوں کے عزم میں کمی نہیں آئی: مفتی اشرف علی باقوی

03:52PM Mon 17 Jul, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) ملک میں ایک مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان بھر میں مساجد کی تعمیر اور اقامت دین میں ایک انداز ے کے مطابق 10گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو نت نئے مسائل اور پریشانیوں کے ذریعہ عرصہ حیات تنگ کئے جانے کے باوجود آج ملک میں مسلمان ان سب مسائل کے باوجود عزم اور حوصلہ کے ساتھ جابجا مساجد کی تعمیر کا کام انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ شام بعد نماز مغرب دہلی پبلک اسکول ساتنور علاقہ میں اس اسکول کے احاطہ میں ماحول دوست عالیشان مسجد، مسجد عائشہ رحمانیہ قاسمیہ میں اپنی امامت میں اس مسجد میں نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی صاحب نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ امیر شریعت نے سابق مرکزی وزیر روکن راجیہ سبھا جناب کے رحمن خان اور ان کے فرزندان کو اس جدید نوعیت کی ہائی ٹیک ماحول دوست مسجد کی تعمیر پر مبارکباد اوران کے حق میں دعائے خیر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں مساجد کی تعمیر کرنے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں اور کہاگیاہے کہ صاحب ایمان صرف خدا سے ڈرتے ہیں ان کو کسی کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں حالیہ پریشان کن ماحول کے باوجود مساجد کی تعمیر وتوسیع کا سلسلہ جاری ہے اور دشمنان اسلام آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے ہیں۔ رحمن خان اور ان کے فرزندوں نے جس مقام پر یہ مسجد تعمیر کی ہے یہ عصری تعلیمی درسگاہ ہے اور یہ ثابت کردکھایاگیاہے کہ آج کے ماحول میں مسلمان عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو فراموش نہیں کررہے ہیں۔ڈاکٹر کے رحمن خان نے اپنی سیاسی وملی مصروفیات کے باوجود اپنے فرزندوں کو ساتھ لے کر یلہنکا سے قریب ساتنور کی ڈی پی ایس اسکول کے احاطہ میں جو مسجد تعمیر کی ہے وہ ایک بے مثال نمونہ ہے ۔ اس مسجد کیلئے 10کلو ویٹ بجلی پیدا کرنے والے شمسی توانائی کا پلانٹ قائم کیاگیاہے اس کے علاوہ یہاں بارش کے پانی کو ضائع نہ ہونے دینے رین ہاروسٹنگ نظام بھی فراہم ہے ۔ وضوخانہ کے پانی کو بی ضائع کئے بغیر یہاں پانی کا بہتر استعمال کرنے کے بھی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ جناب کے خان نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ایسی ایک مسجد کی تعمیر کا خواب دیکھا تھا وہ آج پورا ہواہے۔ اس مسجد تعمیر سے طلبا کے علاوہ اطراف واکناف کے افراد کیلئے ایک مرکز بنے گا۔ مسجدوں کا قیام اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس حکم کی تکمیل صرف تعمیر سے نہیں بلکہ مسجدوں کو آباد کرنے سے ہوتی ہے۔ مساجد صرف نماز اداکرنے کیلئے بلکہ یہ اسلام کی اشاعت کا بھی مرکز ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ میں مسجد کا ایک انقلابی رول ہوتا ہے اسی لحاظ سے مسجدوں کا استعمال بھی ہونا چاہئے۔ ملت میں اتحاد واتفاق پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مسلمان کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہوکر دشمنان اسلام کے عزائم کو پورا ہونے نہ دیں۔ ہمیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔ ریاستی وزیر برائے ترقیات وحج آرروشن بیگ نے عصری تعلیمی درسگاہ میں مسجد تعمیر کئے جانے پر اپنی مسرت کااظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کے رحمن خان اوران کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ حج ہاؤز کی تعمیر کے بعد اس علاقہ میں مسلم آبادی بڑھتی جارہی ہے ۔ حج ہاؤز کے اطراف مسجد اور ایک قبرستان کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلہلی کی جگہ پر جو وقف بور ڈ کی ہے اس سلسلہ میں انہوں نے وزیر برائے قانون جئے چندرا سے بات کی ہے ہم سب کو اس سلسلہ میں کوشش کرتے ہوئے زمین حاصل کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرنی چاہئے۔ کے پی سی سی کے نئے نائب صدر عبید اللہ شریف نے کہاکہ مسجد گواہ ہے کہ آئندہ چل کر مسلم آبادی بڑھنے کی گواہی دے رہی ہے۔ مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے کہاکہ مسجد اللہ کی ہے مسجد میں کسی اور کی ملکیت نہیں ۔ ایک شخص پوری دنیا پر حکومت کرسکتا ہے لیکن اس کی حکومت دائرہ میں مساجد نہیں آتیں اس لئے کہ مساجد خالص اللہ کی ملکیت ہے ۔ مولانا نے کہاکہ مساجد کیلئے جو ذمہ داران بنائے جاتے ہیں وہ مساجد کی خدمت اور انتظامات سنبھالنے کے لئے ہوتے ہیں۔ اس لئے حرمین شریفین کے رکھوالوں کو بھی خادم حرمین شریفین کہاجاتا ہے۔ مائنارٹیز کمیشن کے چےئرمین نصیراحمد نے بھی ڈاکٹر کے رحمن خان اور ان کے فرزندوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رحمن کے اہل خانہ میں مسجد کے قیام کی جو تڑپ تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے بہت جلس پورا کردکھایاہے۔ اس مسجد کی تعمیر سے اطراف واکناف کے افراد کو کافی سہولت ہوگی۔ مسجدتعمیر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کے پاس اجر ضرور ملے گا۔ قبل ازیں ابرار احمد صاحب قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ الحاج مقبول احمد نے نعت پاک پیش کی۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے تمام کا خیرمقدم کیا اورانکے بڑے فرزند مقصود علی خان نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ آخر میں امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی کی دعاپر جلسہ اختتام کو پہنچا۔ نمازمغرب کی امامت مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے کی اور دعا مفتی صاحب نے کی۔ نظامت کے فرائض مولانا ضمیر صاحب نے انجام دئے۔ سی ایم کے صدر الحاج مقبول احمد، سی ایم علیم اللہ خان، ضیاء اللہ شریف، مولانا نورالامین انور، روحان بیگ، وقف بورڈ کے سی ای او ذوالفقار احمد جے شفیع اللہ کے علاوہ عمائدین ، قائدین ، کئی مساجد مدرسوں اور اداروں کے ذمہ داران بڑی تعداد میں شریک تھے۔