شام کو روسی تجویز مثبت قدم ہے : براک اوباما

03:32AM Tue 10 Sep, 2013

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی طرف سے شام کو حملے سے بچنے کے لیے اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دینے اور بعد میں اسے تباہ کروانے کی تجویز کو ممکنہ طور پر مثبت قدم قرار دیا ہے۔ امریکی ٹی چینلز کو پیر کو انٹرویوز میں براک اوباما نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ انھیں روس کی تجویز پر شک بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں امریکی کانگریس کی طرف سے شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت ملنے کی کچھ زیادہ امید نہیں ہے۔ کانگریس میں بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے بحث شروع ہو چکی ہے۔ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت کم ہی ہے۔ کلِک’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویز کلِک’کارروائی نہ کرنے کے خطرات، کرنے سے زیادہ‘ کلِکامریکہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے: بشار الاسد دوسری طرف امریکی عوام بھی شام پر حملے کے خلاف ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے عوامی جائزوں کے پیر کو آنے والے نتائج کے مطابق پانچ میں سے ایک امریکی خیال کرتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے دوسری حکومتوں کو شیہ مل جائے گی۔ اس سے پہلے روس نے شام سے کہا تھا کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے اور بعد میں اسے تباہ کروا دے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو کے مطابق انھوں نے یہ تجویز شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم سے ملاقات میں دی تھی جس کا انھوں نے خیر مقدم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ولید معلم کو مشورہ دیا تھا کہ شام مکمل طور پر عالمی کنوینشن برائے کیمیائی ہتھیار میں شمولیت اختیار کر لے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت جنگی جرائم کی مرتکب ہے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے شام پر حملے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے یورپ کا دورہ کیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے خبردار کیا تھا کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر فوجی کارروائی نہ کرنے میں خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ ہیں۔ یک نیوز کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہ حملے سے بچنے کے لیے بشار الاسد کیا کر سکتے ہیں، جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا مکمل ذخیرہ ایک ہفتے میں جمع کروا دیں۔ بعد میں امریکی حکام نے وضاحت کی کہ جان کیری ایک سنجیدہ پیشکش کی بجائے فرضی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس کی شام نفی کرتا ہے۔ BBC URDU 120320132649_barak_obama_304x171__nocredit