عوام ہر سطح پرمایوس پولیس اورسرکاری اسپتال بھی راحت اورسہولیات فراہم کرنے میں ناکام

02:09PM Wed 29 Mar, 2017

کمشنری کی آدھی سے زائد مسلم بستیاں آج بھی بجلی ،پانی اور صفائی کیلئے ترستی رہی ہیں ؟ سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) بھاجپا کی سرکار تشکیل ہوجانیکے چھ دن بعد ہمارے ممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما اچانک ریاستی وزیر دھرم سنگھ سینی کے ہمراہ قصبہ پلکھنی پہنچے تو عوام کے مسائل اور شکایات سنتے سنتے یہ قائدین یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے کہ یہاں ایک ہی رات میں شرارتی عناصر نے ۲۷ دکانوں میں نقب لگاکر بہ آسانی قیمتی سازوسامان اور نقدی لوٹ لی واقعہ کا پتہ لگجانے کے بعد بھی مقامی پولیس کی ۱۰۰ نمبر والی گشتی گاڑیاں اور سرساوہ تھانہ کی پولیس تین گھنٹے کے بعد موقع پر پہنچی اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے ممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما کو انیس، قربان ،ندیم، اعجاز، کلن، امجد، چاند میاں اور راجیش نے بتایاکہ صاحب ہماری تو کل جمع پونجی ہی ختم ہوچکی ہے ہماری مدد کرو اس دردناک منظر کے بعد ممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما سیدھے شیخ الہند میڈیکل کالج پہنچے تو وہاں پردہ نشیں سیکڑوں خواتین، مرد اور بچوں کی قطاریں دیکھ کر پوچھنے لگے کہ یہاں کیا ہورہاہے تویہاں مسلم خواتین اور مردوں نے روتے ہوئے بتایاکہ صبح سے علاج کیلئے لائن میں کھڑے ہیں بھیڑ کی وجہ سے نمبر ہی نہی آرہاہے یہ سنکر جب ممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما چیف میڈیکل افسر کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہاکہ شیخ الہند کے نام سے یہ کالج اور اسپتال تو بن گیاہے مگر نہ تو یہاں معالج ہیں نہ یہاں مشین، نہ یہاں دوائیں اور نہ ہی یہاں بلڈ ٹیسٹ ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی سہولیات ہیں اب آپ ہی بتائیں کہ ہم مریضوں کا علاج کیسے کریں ہم سبھی ٹیسٹ، ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور دوائیں مریضوں کو بہ مجبوری باہر سے لکھ کر دے رہے ہیں جبکہمریض سہولیات مانگ رہے ہیں اس لئے یہاں بھاری بھیڑ رہتی ہے اور وسائل کی کمی کے باعث ہم عوام کی مدد کرنے میں قاصر ہیں؟عوام کی ایسی حالت دیکھ کرممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما ریاستی وزیر دھرم سنگھ سینی نے پولیس افسران کو نقب زنوں کا پتہ لگانے اور متاثرین کی رپورٹ درج کر امداد دلانیکی سخت ہدایت دی اور شیخ الہند میڈیکل کالج میں پائی جانے والی خامیوں اور یہاں موجود سیکڑوں اقلیتی فرقہ کے عوام کی جائز شکایات سے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کو مطلع کرتے ہوئے عمدہ سہولیات دستیاب کرانیکی مانگ کی اور بتایاکہ لاپرواہی سرکاری عملہ کو فوری طور سے ہٹایا جائے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہیکہ ہماری سب سے حساس سہارنپور کمشنری ( جو سہارنپور،شاملی اور مظفرنگر جیسے تین بڑے اضلاع پر مشتمل ہے) میں ساٹھ فیصد مسلم آبادی آج بھی جان بچانے کیلئے معقول علاج، دواؤں،صفائی، صاف شفاف پینے کا پانی اور بجلی جیسے بنیادی مسائل سے دو چار ہے ضلع کے سیکڑوں گاؤں میں مسلم آبادی گندی بستیوں میں رہنے کو مجبور ہے جہاں آجبھی صاف پینے کا پانی، عمدہ ہیلتھ سینٹر اور بجلی کی معقول سپلائی بھی ان علاقوں میں گزشتہ ۲۰ سالوں سے میسرہی نہیں سیکڑوں بستیاں تو دس دس دن کا پانی دور دراز کے علاقوں سے لاکر اپنے گھروں میں ضرورت کے لئے جمع کرنیکو مجبور ہیں بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی ہی نہی بلکہ کانگریس کے وزراء، ممبران لوک سبھا اور اسمبلی کے ممبران گزشتہ ۳۰ سالوں سے ان لاچار دبے کچلے پست اور پچھڑے عوام کی بنیادی مشکلات اور مسائل سے بخوبی واقف تھے مگر ووٹ کے لالچ میں ان بستیوں کے عوام کو سنہرے خواب دکھاتے رہے اور اقتدار کا مزہ لوٹتے رہے؟ تیس سال بعد ان اضلاع کی مزدور پیشہ بستیوں کا آج بھی یہی حال ہے اسکے برعکس کمشنری کے تینوں اضلاع شاملی، مظفر نگر اور سہارنپور میں دلتوں، بالمکیوں، جاٹوں اور گرجروں کی ہزاروں بستیاں آج بجلیصفائی اور پینے کے صاف ستھرے پانی کے ذخیروں سے مستفیض ہورہی ہیں۔ اقلیتی فرقہ کی بہتری، مدد اور خوشحالی کی دفلی بجانے والے آج اپنے گناہوں اور جھوٹ کے عوض پیدل ہوکے ہیں بھاجپا کو اللہ نے اقتدار بخشاہے اب بھاجپاکو ان بستیوں میں اپنے نعرے سبکا ساتھ سبکا وکاس کو سہی اور سچ ثابت کر دکھانا ہوگا تاکہ وہ آنے والے ۲۰۱۹ کے لوک سبھا چناؤ میں اسی طرح جیت حاصل کر سکے ۔آپکو یہ بھی بتادیں کہ کمشنری کی ہزار کے قریب گھنی بستیوں میں عوامی صحت کے نقطۂ نظر سے بھی یہاں کسی بھی طرح کے ہیلتھ سینٹروں کا بھی معقول اور قابل اطمینان انتظام نہی ہے سرکاریں آر ہی ہے اور جا رہی ہے ان کا پرسان حال کوئی نہی صرف شہر سہارنپور میں ہی کمیلا کالونی ، آزاد کالونی ، پیر والی گلی، حکم شاہ کالونی ، حلال پور ، حسن پور ، مانک مؤ اور شہر کے بیچ کے درجن بھر علاقہ ایسے ہیں کہ جہاں ہر وقت گندا پانی بھرا رہتا ہے ان علاقوں میں عوام کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے ، پہچان پتر نہیں ہے صحت کو محفوظ رکھنے کیلئے سرکاری طور پر اسپتالوں کا انتظام تو دور بچوں کی پڑھائی کے لئے سرکاری طور پر سرکاری اسکولوں کا ہی بندو بست نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ علاقہ دلت بستیوں سے بھی دلت ہے تو اسمیں کوئی شک نہیں شہر کے ان علاقوں میں اکثر پانی بھرا رہتا ہے پانی کی نکاسی کا نگر نگم کی جانب سے معقول بنددو بست نہیں ہے ان علاقوں کے ۲۵فیصد گھر آج بھی گندے پانی کے بیچ رہ کر گزر بسر کرنے کومجبور ہیں حکومتوں کے نمائندے اکثر ان علاقوں میں آکر اپنے جلسے اور پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں مگرا فسوس کی بات ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد وہد دوبارہ ان علاقوں کا رخ نہیں کرتے کمیلا کالونی کا علاقہ ،حکم شاہ کالونی اور حبیب گڑھ کے علاقہ بیماریوں کا گڑھ بنے ہیں اس جانب حکام نے اور سرکاری عملے نے آج تک کوئی بھی دھیان نہیں دیا ہے ووٹ مانگنے کے لئے بھکاریوں کی طرح سیاسی پارٹیوں کے نمائندے یہاں لگاتار بیس سالوں سے آرہے ہیں لیکن ان مسلم بستیوں کی حالت زار پر آج تک کسی کو بھی ترس نہیں آیا علاقہ کے ذمہ دار مسلم رہبر جمال احمد نجمی کاکہنا ہے کہ سب سے زیادہ مسلم ووٹ ان ہی علاقوں میں موجود ہے اور سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ ان ہی علاقوں میں آکر مسلمانوں کو سبز باغ دکھاتی ہیں اور ووٹ حاصل کرنے کے بعد پھر پانچ سال کے لئے غائب ہو جاتی ہیں اپنی بے باکی کے لئے مشہور قابل سیاست داں جناب صابرعلی خان کا کہنا ہے کہ ملک کی آزادی میں جس قوم نے سب سے زیادہ حصہ داری کی اور سب سے زیادہ قربانیاں دی آج وہی قوم ذلیل و خوار ہو رہی ہے اور وہی قوموجودہ حکومتوں میں گندی بستیوں میں اپنی زندگی گزارنے کو مجبور ہے جناب جمال احمد نجمی کا کہنا ہے کہ اگر سرکار کو زرا بھی شرم ہے تو ان علاقوں میں آکر ان علاقوں میں وزرا کو بھیج کر سروے کرائیں اور بتائے کہ ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے لئے گزشتہ پانچ ریاستی سرکار وں نے ۳۰ سالوں سے آج تک کون کون سے ترقیاتی اور فلاحی عملی اقدام یا مراعات ممہیا کرائی ہیں ۔ امرود کے نئے پودے لگانے کیلئے زمین کو اچھی طرح تیار اور گوبر کی گلی سڑی کھاد کا زیادہ استعمال کریں۔۔ماہرین ذراعت الہ آباد ۔ (بھٹکلیس نیوز) ماہرین زراعت نے باغبانوں کو امرود کے نئے پودے لگانے کیلئے زمین کو اچھی طرح تیار اور گوبر کی گلی سڑی کھاد کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ امرود کے باغبانوں و کاشتکاروں کو نئے پودے لگانے کا عمل 15اپریل تک مکمل کرنے کابھی مشورہ دیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ باغبان و کاشتکار نئے پودے لگانے کا عمل بروقت مکمل کرلیں ۔ ماہرین نے کہاکہ امرود ایک ایسا پھل ہے جس کا پودا ہر قسم کی زمین میں لگایاجاسکتاہے تاہم اچھی پیداوار کیلئے اگر ذرخیز میرازمین دستیاب ہو تو اس کے مزید بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ باغبان امرود کا پودا لگانے کیلئے زمین کو اچھی طرح تیارکر لیں اور گوبر کی گلی سڑی کھاد کا زیادہ استعمال کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ویسے تو امرود کی درجنوں اقسام زیر کاشت ہیں تاہم لاڑکانہ صراحی ، سرخا، شرق پوری گولہ اور صدا بہار اپنے ذائقے ، لذت اور خوبصورتی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امرود جہاں کھانے میں انتہائی لذیز ہے وہیں یہ بہت سے جسمانی امراض میں بھی انتہائی مؤثر ثابت ہواہے۔انہوں نے کہاکہ امرود میں شامل آئرن اور وٹامن کی وافر مقدار نزلہ ، زکام، کھانسی ، وائرل انفیکشن سے نجات دلاتی ہے ۔ اسی طرح امرود کا استعمال انسان کو ایگزیما سمیت دیگر جلدی امراض اور کاسمیٹکس کے استعمال سے پہنچنے والے جلدی نقصان سے بھی بچاتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ امرود میں موجود حیاتین ، پوٹاشیم جسم کے اندر موجود زہریلے و فاسد مادوں کو بآسانی خارج کرنے میں مدد دیتاہے۔ اسی طرح امرود کا استعمال بڑھاپے کی جھریوں ، مسوڑھوں کی سوزش ، دانتوں سے خون کی آمد بند کرنے سمیت آنکھوں کی بیماری موتیاسے بھی بچاؤ میں معاون ہے۔