عشق رسالت اور محبت رسول ہی ایمان کی بنیاد : علامہ سید رضاء الحق آمری

01:58PM Tue 14 Feb, 2017

کتابت، خوش خطی اور خطاطی ،اسلامی فنونِ لطیفہ کا نمونہ۔ درگاہ آثار شریف کی سالانہ میلاد النبی کانفرنس میں علمائے کرام کا خطاب نئی دہلی، (بھٹکلیس نیو) بے شک نماز فرض ہے اور حضور علیہ السلام کی آنکھوں کی ٹھندک ہے اور اس کے بغیر مومن کے عمل کا کوئی اعتبار نہیں لیکن عشق رسالت اور محبت رسول کی چاشنی نہیں تو پھر فرائض کی ادائیگی محض دکھاوا ہے۔مدینہ شریف کے منافق بھی نمازیں پڑھتے بلکہ پیغمبر اسلام کی امامت میں نمازیں ادا کرتے لیکن ان کے دل میں رسول رحمت کا عشق ومحبت نہیں تھی، اس لئے دنیا میں ہی ان کی نمازیں اور عبادتیں ان کے منہ پر مار دی گئیں اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ بالکل اسی طرح آج بھی اگر دل میں محبت رسول کا چراغ روشن نہیں تو سب کچھ منافقت کی علامت ہے۔اس کی علامت یہ ہے کہ شان رسالت میں ادنی سی بھی گستاخی سن کر غصہ نہ آئے اور بات بنانے کی کوشش کی جائے کہ ہم سب کلمہ گو ہیں اور سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے ۔دوستو!یہ بات بنانا بھی منافقت ہے،اس لئے کہ شان رسالت ایک ایسی چیز ہے کہ اس ہر شخص کا اپنا منفرد نظریہ قابل قبول نہیں، یہاں تو صرف قرآن اور صحابہ کا عاشقانہ نظریہ چلے گا۔ مذکورہ ایمان افروز بیان چنئی سے تشریف لائے علامہ سید رضاء الحق علیمی شاہ آمری نے کل رات ایوان غالب ،دہلی میں درگاہ آثار شریف کی جانب سے ہونے والے سالانہ جلسہ میں دیا۔ علامہ سید رضاالحق علیمی نے مزید کہا کہ اِس کا مطلب ہر گز یہ نہیں سمجھنا کہ نمازوں سے غفلت برت کر بھی کوئی عاشق رسول ہو سکتا ہے، وہ عاشق رسول نہیں جو نمازوں سے غافل ہو، بے نمازی کا عشق رسول جھوٹا ہے۔ اس لئے دوستو! یاد رکھو کہ عشق رسالت اور محبت رسول ہی ایمان کی علامت اور بنیاد ہے۔سالانہ میلاد النبی کانفرنس کے اجلاس میں سینیگل امبسڈر، ترکی،ترکمینستان، عرب لیگ اور ملیشیا سے بڑی تعداد کے علاوہ کئی ممالک کے سفرا موجود تھے۔درگاہ آثار شریف شاہی جامع مسجد دہلی کے نگراں و متولی سید وقار احمد حسینی صاحب نے جلسہ کی سرپرستی فرمائی ۔سید احراز احمد آمری نے کہا کہ ہم نسبتوں والے لوگ ہیں اور نسبت سے زندگی ممتاز ہوتی ہے۔آج کی میلاد النبی کانفرنس کو ایک دوسری نسبت بھی خطاطی کی پرورش کے ذریعہ ہو گئی ہے۔ یہ فن لطیف بھی اسلامی فن کاری اور مسلمانوں کے ذوق جمال کا نمائندہ فن ہے، اس لئے ہم ملیشیا کےRestu Foundation کے ان باذوق حضرات کے قائدانہ اشتراک کے ساتھ ہندوستان کے اندر اس کی پرورش کرنے کی کوشش کریں گے۔میلاد النبی کانفرنس سے پہلے دوپہر سے نمازِ مغرب تک ہوئے ’’کل ہند اسلامی خطاطی مقابلہ ‘‘کا نتیجہ پیش کرتے ہوئے داتو عبد اللطیف میراثہ صدر ریستو فاؤنڈیشن ملیشیا نے کہا کہ دنیا کے باضابطہ اور مستقل علوم و فنون میں خوش خطی اور خطاطی بھی ہے، یہ ایک لطیف فن ہے جس کا تعلق انسان کے ذوق جمال سے ہے، یہ ایک جمالیاتی فن ہے جس کی تعمیر و ترقی اور تہذیب و تدوین میں بڑے بڑے علمائے دین نے بھی حصہ لیا ہے جس کی عام نمائندگی کتابت اور قلمی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔سید فراز احمد آمری نے اعلان کیا کہ اگر ہندوستان کے نوجوانوں نے خطاطی سے دلچسپی دکھائی اور جمالیاتی ذوق کا مظاہرہ کیا تو ہم بھی آگے بڑھ کر ان کا استقبال کریں گے۔ہم نے جو تجربات کیے ہیں ان کو محسوس شکل میں ایک دوسرے کو دینے کی کوشش کریں گے۔اس کی ابتدا ہم ابھی سے کرنے جا رہے ہیں اور آج کے خطاطی مقابلہ میں شریک ۲۰ ہندوستانی خطاط میں سے ۶ حضرات کو ملیشیا میں خطاطی کی تعلیم و تربیت اور تجربہ کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے۔عرب لیگ اسٹیٹ میشن کے صدر ڈاکٹر مزین المسعودی نے کہا کہ ہندوستان کی جمالیاتی تہذیب و ثقافت میں خطاطی نے ایسی جگہ بنائی ہے کہ گذشتہ آٹھ سو سالوں میں ہندوستان کی تاریخی عمارتوں اور مساجد و مقابر کے درو دیوار ، اِس جمالیاتی فن کاری کا وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔ صرف دہلی جیسے تاریخی شہر میں اس فن کی جمالیاتی نمونے اورمظاہر دو سو سے زائد تاریخی عمارتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس لئے درگاہ آثار شریف شاہی جامع مسجد دہلی نے اس کو پھر سے زندہ کرنے کا عزم کیا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ایک دوسرے کے تعاون سے ہم سب یہ خدمت انجام دے سکیں گے۔ہندوستان کے مشہور خطاط ارشاد حسین فاروقی کو درگاہ آثار شریف ،Restu foundation کی جانب سے سید وقار احمد حسینی نے ان کی خدمات کی بنیاد پر مومینٹو دیا ۔میلاد النبی کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا ۔سید اعظم علی نظامی سجادہ نشین درگاہ حضرت ترکمان بیابانی و مولانا ناظر القادری امام غوثیہ مسجد سنگم وہارنے نظامت کے فرائض انجام دِیے اور پیرزادہ سید اسامہ محی الدین چننی و مولانا محبوب ظفرنے نعتوں کے گلدستے پیش کیے۔ اجلاس میں سید ابراز احمد حسینی ، سید شاہ حسن جامی نیشنل سکریٹری آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ، سید وکیل احمد فخری درگاہ شاہ عبد السلام کناٹ پلیس، جمیل انجم صابری سکریٹری انجمن محبان وطن دہلی، سید انفال نظامی سجادہ نشین حضرت محبوب الٰہی، مولانا انور علی سہیل فریدی سجادہ نشین خانقاہ آبادانیہ بدایوں، نجم الصیفی میشن تعلیم دہلی، سید شاداب، مولانا اقلیم رضا لمرا فاہونڈیشن، مولانا ظفر الدین برکاتی ایڈیٹر کنز الایمان، مولانا مقبول احمد سالک مصباحی وغیرہ کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جواہر لال یونیورسیٹی، ہمدرد یونیورسیٹی، جامعہ حضرت نظام الدین اولیا، دار القلم دہلی اور بہت سے دینی مدارس اور عصری درسگاہوں کے اساتذہ و طلبہ اور محققین بڑی تعداد میں شریک تھے۔ جلسہ کا اختتام صلاۃ و سلام اور سید رضا الحق علیمی صاحب کی دعا پر ہوا۔بعد جلسہ تمام حضرات کو تبرک ، کلینڈر، کتابیں، طغرہ،اسٹیکرس وغیرہ تقسیم کئے گئے۔