’چتا کی راکھ تو ٹھنڈی ہو جانے دیتے‘ گوا میں بی جے پی کی حکومت سازی پر شیو سینا کا حملہ
02:31PM Thu 21 Mar, 2019
شیو سینا نے اپنی اتحادی جماعت بی جے پی کو ایک مرتبہ پھر نشانہ پر لیا ہے۔ شیو سینا نے گوا میں بی جے پی کی طرف سے کی گئی حکومت سازی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جمہوریت کی بدحالی قرار دیا ہے۔ شیو سینا نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ میں کہا کہ آنجہانی وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر کی چتا کی راکھ بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ بی جے پی نے اقتدار کا شرمناک کھیل شروع کر دیا۔
شیو سینا نے دعوی کیا کہ اگر بی جے پی نے منگل تک انتظار کیا ہوتا تو گوا میں اس کی حکومت گر گئی ہوتی، دو نائب وزائے اعلیٰ میں سے ایک کانگریس میں شامل ہو گیا ہوتا اور اسے اپنا من پسند عہدہ مل گیا ہوتا۔
واضح رہے کہ پیر کی شب 2 بجے پرمود ساونت نے گوا کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔ اس سے قبل بی جے پی اور اس کی معاونین جماعتوں کے درمیان کئی میٹنگیں ہوتی رہیں۔ اقتدار کے لئے کئی سمجھوتے کیے گئے، آخر کار حمایت دینے والی دو چھوٹی جماعتوں سے ایک ایک نائب وزیر اعلی بنایا گیا۔ ان دونوں وزرائے اعلیٰ نے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کے ساتھ حلف لیا۔
شیو سینا نے سامنا میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا کہ بی جے پی کو چتا کی آگ ٹھنڈی ہونے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اگر پیر کے بجائے منگل کو حلف برداری ہو جاتی تو کیا بدل جاتا؟ شیو سینا نے کہا کہ چتا جل رہی تھی اور اقتدار کے لالچی اقتدار کے لئے ایک دوسرے کی گردن پکڑ رہے تھے۔ کم از کم چار گھنٹے انتظار کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ شیو سینا نے مزید کہا کہ گوا کے لوگ سوگ میں ہیں۔ سابق وزیر دفاع کے انتقال کے بعد ایک دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا گیا لیکن قومی پرچم کو سر نگوں کرنے کی فرصت نہیں تھی۔
شیو سینا نے گوا میں نائب وزیر اعلیٰ بنائے جانے پر بھی سوال اٹھائے۔ شیو سینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے چار سال پہلے کہا تھا کہ اس کی حکمرانی میں کسی ریاست میں کوئی نائب وزیر اعلیٰ نہیں بنایا جائے گا، اس لئے مہاراشٹر میں شیو سینا کو یہ عہدہ نہیں دیا گیا، لیکن اس کے بعد بہار، اتر پردیش، جموں و کشمیر اور گوا میں نائب وزیر اعلیٰ بنائے جا چکے ہیں۔