آج بھی ٹوئٹر پر ہیں ایم جے اکبر وزیرمملکت برائے امورخارجہ
12:44PM Fri 19 Oct, 2018
می ٹو مہم کے دوران وزیرمملکت برائے خارجہ امورایم جے اکبر پرتقریباً 20 خواتین نے جنسی استحصال کے الزام عائد کئے تھے، جس کے بعد انہوں نے 17 اکتوبریعنی بدھ کو اپنے عہدےسے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنے استعفیٰ میں اکبرنے کہا کہ وہ اپنے اوپرعائد الزامات کا ذاتی طورپرسامنا کریں گے۔
ساتھ ہی خود کوملک کی خدمات کرنے کا موقع دینے کے لئے انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی اوروزیرخارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا۔ اس معاملے میں فی الحال ایم جے اکبرنے خود پرجنسی استحصال کا الزام لگانے والی صحافی پریا رمانی کے خلاف ایم جے اکبرنے مجرمانہ ہتک عزت کامعاملہ درج کرایا ہے۔ تاہم آج بھی ایم جے اکبرنے ٹوئٹرپراپنے تعارف میں تبدیلی نہیں کی ہے، ٹوئٹرکے لحاظ سے آج بھی وہ وزیرمملکت کے عہدے پرفائز ہیں۔
اب بھی ٹوئٹرپران کا تعارف وزیرمملکت برائے خارجہ امورکے طورپرہی دیاہوا ہے۔ حالانکہ جن سے انہوں نے ٹوئٹرپراپنا استعفیٰ پوسٹ کیا ہے، اس کے بعد سے ہی انہوں نے کوئی ٹوئٹ نہیں کیا ہے۔

صحافی رمانی کے خلاف کیس درج ہونے کے بعد "دی ایشین ایج" اخبارمیں کام کرچکیں 19 خاتون صحافی اپنی ساتھی کی حمایت میں آگئی تھیں۔ ان خاتون صحافیوں نے ایک مشترکہ بیان میں رمانی کی حمایت کی تھی اورعدالت سے گزارش کی تھی کہ ایم جے اکبرکے خلاف انہیں سناجائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کچھ کا ایم جے اکبرنے جنسی استحصال کیا اوردیگراس کی گواہ ہیں۔
انہوں نے اپنے دستخطی بیان میں کہا کہ رمانی اپنی لڑائی میں اکیلی نہیں ہے۔ ہم ہتک عزت کے معاملے میں سماعت کررہی معززعدالت سے گزارش کرتے ہیں کہ عرضی گزارکے ہاتھوں ہم میں سے کچھ کے جنسی استحصال کولےکراوردوسری دستخط کرنے والی صحافیوں کی گواہی پرغورکیاجائے، جو اس استحصال کی گواہ تھیں۔