بابا بڈھن گری تنازعہ حل کرنے حکومت نے اعلی سطعی کمیٹی تشکیل دی
03:01PM Tue 5 Sep, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز):۔ ریاستی حکومت نے گذشتہ تین دہائی سے تنازعہ کا شکار بنے چکمگلور ضلع کے مذہبی حلقہ گرودتاترید بابابڈھن گری درگاہ میں پوجا کرنے کے تنازعہ کو حل کرنے کے تعلق سے اعلی سطعی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔حکومت کے اس اقدام سے کئی لوگوں نے ناراضگی جتائی ہے ۔ہائی کورٹ کے سابق جج ایچ این ناگ بھوشن کی زیر نگرانی کمیٹی تشکیل دی ہے اور دو اراکین کے طور پر مشہور ماہر تاریخ اور ہمپی کنٹرا یونیورسٹی کے کنٹرا پروفیسر رحمت تری کیرے کو نامزد کیا ہے اور اس کمیٹی کو تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت نے دوسال بعد کمیٹی تشکیل دی ہے اور لوگ یہی تصورکرنے لگے ہیں کہ اسمبلی انتخابات قریب آنے کی وجہ سے حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے ۔جنوبی کینرا ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے وہا ں امن وامان اور نظم و ضبط خراب ہے اور اب حکومت نے کمیٹی تشکیل دے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا ہے ۔شری گرد تاتریہ بابابڈھن درگاہ میں پوجا کے معاملہ کو لیکر دوفرقہ کے لوگوں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ سال 1989سے لیکر سال 2010تک جھگڑا ہورہا تھا۔ محکمۂ مجرائی کے کمشنر نے سپریم کورٹ میں ایک بندلفافہ پیش کیا تھا اور اس میں چند سفارشیں کی گئی تھیں۔سپریم کورٹ نے اس بندلفافہ میں سفارشوں اور تفصیلات کو اجاگر کئے بغیر اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا اور یہ حکم گذشتہ 2ستمبر 2015 کو دیا تھا۔ یہ حکم جاری کرکے دو سال کا عرصہ ہوگیا اور حکومت نے اس حکم پر عمل کرنے کے بجائے لاپرواہی کا مظاہر کیا تھا۔ گذشتہ 19اپریل 2017 کو ریاستی کابینہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم پر غور کیا گیا تھا اس کے بعد وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور ٹی بی جئے چندر کی زیر نگرانی پانچ وزراء کولیکر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی نے جج ناگ بھوشن کی زیر نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور یہ کمیٹی تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گی ۔حکومت نے اس کمیٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ محکمۂ مجرائی کے کمشنر کی سفارشوں پر غور کرنے اور اس معاملہ میں دونوں فرقہ کے لوگوں کو اعتمادمیں لیکر رپورٹ تیار کی اور اس معاملہ میں کسی کی حمایت نہ کی جائے۔ اس تعلق سے ناگ بھوشن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بہت جلد ہوگا اور اس کے بعد دوسرے اجلاس کے لئے تاریخ مقرر کی جائے گی اور اس تنازعہ کے تعلق سے تمام دستاویزات اور ریکارڈس کاجائزہ لیاجارہا ہے۔ا س کے علاوہ اس معاملہ میں ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ کی جانکاری رکھنے والے ماہرین سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اسی درمیان وشوا ہندو پریشد کے رکن اور آرگنائزنگ سکریٹری کے گوپال نے کہا کہ ان کی تنظیم سب سے پہلے اس کمیٹی کی مخالفت کرتی ہے اور اس کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس کمیٹی میں دونوں فرقہ کے لوگوں کو شامل کرناچاہےئے اور حکومت نے اس معاملہ میں یک طرفہ فیصلہ لیا ہے۔