نوٹ بند ی کے بعد اب زبان بندی اور سوچ بندی چاہتی ہے مودی حکومت:کانگریس

02:11PM Thu 2 Mar, 2017

نئی دہلی،(بھٹکلیس نیوز)کارگل شہید کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں ملنے کے بعد کانگریس نے منگل کو کہا کہ نوٹ بند ی کے بعد اب نریندر مودی حکومت زبان بندی اور سوچ بندی بھی کرانا چاہتی ہے تاکہ لوگ آزادانہ طریقہ سے سوچ اور بول نہ سکیں۔کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ہندوستانی فوج کے ایک شہید کیپٹن کی بیٹی گرمہر کور کی جانب سے آر ایس ایس کی طلبا شاخ اے بی وی پی کے خلاف چلائی گئی مہم کے بعد اس پر ہوئے زہریلے حملوں کی بوچھار پر یہ تبصرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ثقافت اور روایت بدلہ لینے کے ایسے طریقوں کو قبول نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے اختلاف کرنے والوں کے لیے دھمکی کی زبان اور گالیوں کا استعمال بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے سرجیوالا نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کی قسمیں کھانے والے اور ہمارے فوجیوں کی شہادت کا الیکشن میں استعمال کرنے کا ایک بھی موقع نہیں گنوانے والی پارٹی 20سال کی ایک طالبہ کو ملی ریپ کی دھمکی کی حمایت کررہی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ یونیورسٹی اور کالج اساتذہ کی پٹائی ، طلبا ء کے خلاف تشدد کی ثقافت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اس درمیان، کانگریس کے سینئر لیڈر جناردن دویدی نے کہا کہ ان دنوں طلبا تحریک غیر جانبدار نہ ہو کر منصوبہ بند ہوتی ہیں، ملک بھر میں کالجوں میں بگڑتے ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دویدی نے کہا کہ یہ صرف اظہار رائے کی آزادی کا سوال نہیں ہے ،بلکہ اس سے کہیں سنگین مسئلہ آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری نے کہاکہ آج ملک میں تعلیمی اداروں کا ماحول ویسے ہی آلودہ کیا جا رہا ہے، جیسے معاشرے کا۔معاشرے کو ذات اور فرقہ پرستی کی بنیادوں پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ صرف اظہاررائے کی آزادی کا سوال نہیں ہے، یہ تعلیمی اداروں میں تعلیمی ماحول کا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ملک کے وسیع مفاد کا سوال ہے، جسے ذہن میں رکھا جانا چاہیے ۔دویدی نے کہا کہ ان دنوں سیاسی فائدے کے لیے مسئلہ اٹھائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان دنوں مسائل حل کرنے کے لیے مسائل نہیں اٹھائے جاتے، اب پہلے ان کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، پھر اس پر عمل کیا جاتا ہے، اب کسی مسئلے کو اٹھانے کے لیے سازش رچی جاتی ہے اور مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے لیے پہلے ہی منصوبہ بنایا جاتا ہے ، اس سے ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔