Mandya woman who begged outside mosque dies, ₹30 lakh found at her home

06:45PM Mon 24 Aug, 2026

منڈیا: 24 اگست، 2026 (ذرائع) کرناٹک کے منڈیا شہر میں ایک بزرگ خاتون کی موت کے بعد ان کے گھر سے ملنے والی بھاری رقم نے سب کو حیران کر دیا۔ خاتون کئی برسوں تک ایک مسجد کے باہر بیٹھ کر بھیک مانگتی رہی تھی، لیکن انتقال کے بعد اس کے گھر سے سکوں اور نوٹوں سے بھری بوریاں ملیں۔ رقم گننے پر معلوم ہوا کہ یہ 30 لاکھ روپے سے زیادہ تھی، جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق مجموعی رقم 30 سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہوسکتی ہے۔

خاتون کی شناخت حور کے نام سے ہوئی ہے، جو منڈیا شہر کے گٹالو لے آؤٹ میں رہتی تھی۔ وہ کئی سالوں سے ایک مقامی مسجد کے باہر بھیک مانگ کر اپنا گزر بسر کر رہی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے اکثر کہتی تھی کہ ان کے گھر والے اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے اور اسی وجہ سے اس کو بھیک مانگ کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

حور کا حال ہی میں ضعیف العمری سے متعلق بیماری کے باعث انتقال ہوگیا۔ محلے کے لوگوں نے مل کر اس کی تجہیز و تکفین کی۔ تاہم اصل حیرت اس وقت ہوئی جب تدفین کے بعد کچھ لوگ اس کے گھر گئے اور وہاں نقد رقم سے بھری بوریاں دیکھیں۔

محلے کے رہنے والوں نے میڈیا کو بتایا کہ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ حور نے برسوں کے دوران اتنی بڑی رقم جمع کرلی تھی۔ رقم گننے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ 30 لاکھ روپے سے زائد ہے اور ممکنہ طور پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔

رقم سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں اور حور کے رشتہ داروں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس رقم کا کیا کیا جائے۔ چونکہ حور نے کئی برس مسجد کے باہر بھیک مانگی تھی، اس لیے کچھ لوگوں نے تجویز دی کہ یہ رقم مسجد کو عطیہ کردی جائے۔ تاہم مسجد کمیٹی نے یہ رقم لینے سے انکار کردیا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ بھیک مانگ کر جمع کی گئی رقم قبول نہیں کرنا چاہتی۔

حور کے دو بھائی بھی بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی مالی طور پر خوشحال تھا اور اس نے بھی رقم میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ بعد میں دوسرے بھائی نے اپنے خاندان کے ساتھ وہاں پہنچ کر موجود لوگوں سے بات چیت کی اور مبینہ طور پر رقم اپنی تحویل میں لے لی۔

اس واقعے نے محلے میں ایک الگ ہی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ کچھ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ حور اپنی زندگی میں مسلسل یہ شکایت کرتی رہی تھی کہ اس کے اہلِ خانہ اس کی دیکھ بھال نہیں کرتے، لیکن اس کے انتقال کے بعد اس کی جمع کی ہوئی رقم رشتہ داروں اور دوسروں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

یہ معاملہ منڈیا ایسٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔ تاہم پولیس نے اس معاملے میں مداخلت نہیں کی، کیونکہ رقم کی ملکیت یا تقسیم کے حوالے سے کسی شخص کی جانب سے کوئی شکایت یا اعتراض درج نہیں کرایا گیا تھا۔