سہارنپور کے قصبہ دودھلی اور شبیر پورفساد ات کے اصل ملزم کون؟
02:26PM Tue 9 May, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) اسمیں کوئی دورائے نہیں کہ جہاں ضلع کا عوام امن پسند ہے وہیں ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان کا رویہ بھی امن وسلامتی کیلئے شاندار تسلیم کیاجارہاہے دونوں افسران کی سوجھ بوجھ سے ہی حالات آج پرامن بنے ہیں اور انہی افسران کی کوششوں سے دونوں فرقہ کے افراد کو سمجھا بجھاکر حالات نارمل بنانیکو کہا جارہا ہے۔ دوسری جانب شبیر پور فساد کیخلاف تین روز سے دلتوں کے مظاہرے لگاتار مختلف علاقوں میں جاری ہیں ضلع کا عوام بھی اصل ملزمان کی گرفتاری کیلئے مانگ اٹھانیکوو مجبور ہے دوسری جانب ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ حالات پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے افواہ پھیلانیوالوں پر اور غیر سماجی عناصر پر کڑی کاروائی کی تیاری ہے پولیس گشت بڑھادیگئی ہے افسران خد ہی خاص مقامات اور موقع پر رہکر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔واضع ہوکہ ضلع کے تھانہ بڑگاؤں کے گاؤں ہاشم پورہ میں بھاجپا سے جڑے ٹھاکر فرقہ کے افراد نے مہارانا پرتاپ جینتی کے جلوس کے دوران جس تنگ ذہنیت کا مظاہرہ کیا اسکی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے گزشتہ دنوں بھی اسی انداز میں بھاجپاکے چند ذمہ داران نے سہارنپور کے دودھلی گاؤں میں جاکر جبریہ ڈھنگ سے بابا امبیڈ کر کی یاترا نکال کر جس کرتوت کا مظاہرہ کیا وہ بھی قابل مذمت کہارہاہے پندرہ دنوں کے وقفہ میں دو فساد ایک ہی انداز میں رونما ہونا اپنے آپ میں بڑی حیرت ناک بات ہے؟ تین دن قبل کے شبیر پور فساد نے پندرہ روز پرانے دودھلی فساد کی یاد تازہ کرادی ہے جس طرح دودھلی میں بھاجپائیوں نے جبریہ طور سے بابا صاحب کی شوبھا یاترا نکال کر مسلم فرقہ کو سبق سکھانیکا ناکام اور شرمناک قدم اٹھایاتھا اسکے بعد پچھلے تین روز قبل پھر سے اسی طرز پر بھاجپا کے ضلع کے سب سے طاقتور ٹھاکر گروپ کے طاقتور افراد نے تھانہ بڑگاؤں کے شبیر پور گاؤں میں مہارانا پرتاپ جینتی کا جلوس نکالتے ہوئے بیہودہ انداز سے بابا صاحب کی مورتی کو توڑا، دلت افراد پر حملہ کیا درجن بھر گھروں کو جلایااور دلتوں کے مندر پر بھی پتھراؤ کیا اس معاملہ میں نتیجہ کے طور پر دونوں جانب سے شبیر پورہ میں گھنٹے بھر تک زبردست پتھراؤ، آگ زنی اور فائزنگہوتی رہی درجن بھر افراد بری طرح سے مجروح ہوئے ایک کی موت واقع ہوگئی ہے اور لاکھوں کی املاک کو بھی آگ کے حوالہ کردیاگیاہے مگر یہاں بھی سچ کو چھپادیا گیاہے سیاسی لبادہ اوڑھے بڑے افراد کو بچالیاگیاہے کمزوروں کو پولیس نے اپنا ملزم بنادیاہے ٹھیک اسی طرح جیسے پہلے جھگڑے میں دودھلی گاؤں کے بیقصور مسلمانوں کوہی مہرہ بنادیاگیاہے اور بھاجپاکے بڑے کارکنان کو بچا لیا گیاہے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کل ڈی جی پی سلکھان سنگھ اور ہوم سیکریٹری دیواشیش پانڈے سہارنپور فسادات کی جانچ کیلئے آئے تو یہ دونوں سینئر افسر فساد زدہ دودھلی اور شبیر پور گاؤں میں گئے ہی نہی سرکٹ ہاؤس میں بھاجپائی لیڈران اور کچھ دیگر افراد سے ملکر واپس لوٹ گئے اس قدم کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کے قائدین نے شاذان مسعود کی زیر قیادت صبح سے شام تک انتظامیہ اور پولیس برتاؤ کے خلاف دھرنا دیکر اپنا غصہ نکالا!بھاجپاکے ممبر لوک سبھا اور ممبران اسمبلی نے گزشتہ ہفتہ گاؤں دودھلی میں بنا اجازت بابا صاحب کی شوبھا یاترا نکال کر ماحول کو زہر آلودہ کرنیکا شرمناک کھیل کھیلا اور ضلع کا پر امن ماحول ہندومسلم فساد کی خبروں سے شرمندہ ہوکر رہگیا اتر پردیش کی یوگی سرکار نے سہارنپور کے سڑک دودھلی دنگے پر انتظامیہ رپورٹ پر ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کئے تو انتظامیہ نے ملزمان کے خلاف معاملہ درج کرلئے مگر اس دودھلی فساد کے اصل ملزم آج بھی آزاد ہیں لکھنؤ سے سینئر ریاستی افسرانیہاں آئے بھی چلے بھی گئے مگر پریس کو یہ سچ نہی بتاپائے کہ اصل گنہگار کون لوگ ہیں اور فساد کیوں کرانا چاہتے ہیں؟ پندرہ دن قبل شہر سے چار کلو میٹر دور سڑک دودھلی گاؤں میں کل باباامبیڈکر کی شوبھا یاترا نکالنے کو لیکر جو ببال مچا اور جس طرح سے ایس ایس پی لوکمار ،کمشنر ایم پی اگروال، ایس پی دیہات، سی او ، ای ایچ او اور کمشنر کی گاڑیوں پر زبردست پتھراؤ گالی گلوچ اور شرمناک کھیچا تانی کیگئی اس کی ہر زیشعور شخص نے زبردست مذمت کی اور اس تمام معاملہ کے لئے بھاجپاکے ایم پی راگھو لکھن پال شرماانکے بھائی راہل شرما اور چند ممبران اسمبلی کو بھی ذمہ دار مانا جارہاہے سڑک دودھلی میں ضلع انتظامیہ نے ۲۰ اپریل کو بابا صاحب کی شوبھا یاترا نکالنے کی اجازت ہی نہی دی مگر اسکے بعد بھی بھاجپائی ممبر لوک سبھا اور تین ممبران اسمبلی نے جان بوجھ کر دلت طبقہ کو شوبھا یاترا نکالنے کا حوصلہ دیا اورخد بھی اس ناجائز ڈھنگ سے نکالی جارہی شوبھا یاترا میں مگر بھاجپائی اس پر بھی چپ نہی ہوئے اور پھر آج سے تین روز قبل تھانہ بڑگاؤں کے دیہات شبیر پورہ میں جبریہ طور سے بنا اجازت مہارا پرتاپ کی شوبھا یاترا نکال کر دلت فرقہ کو اپنی رنجش کا نشانہ بنایا اس واردات سے ٹھاکروں اور دلتوں میں بھاری ٹکراؤ پتھراؤ، آگ زنی اور فائرنگ تک جا پہنچا نتیجہ کے طور پر دلتوں پر ہی ظلم ڈھائے گئے مگر انکے خلاف کوئی ایکشن نہی لیاگیا ادھر ادھر سے کچھ افراد کو گرفتار کر معاملہ کو سیز کیا جارہاہے جبکہ سچائی جاننے کیلئے عوام بیچین ہیں! بہوجن سماج پارٹی کے قائدین نے شاذان مسعود کی زیر قیادت درجن بھر بسپا عہدے داران نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان سے ملکر مندرجہ بالا دونوں جھگڑوں کے اصل ملزمان کو گرفتار کر جیل بھیج نے اور دلت و مسلم فرقہ کو انصاف دلائے جانے کی پرزور مانگ کی ہے