اکھلیش حکومت میں مذہب کی بنیاد پر ہوتا ہے تعصب 

01:41PM Thu 2 Mar, 2017

بی جے پی نے مودی کی ’’ہاں میں ہاں ‘‘ملائی  لکھنؤ،(بھٹکلیس نیوز)بی جے پی نے اکھلیش حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا ہے۔پارٹی ہیڈکوارٹر پر صحافیوں سے بات چیت میں بی جے پی کے ریاستی ترجمان راکیش ترپاٹھی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں اکھلیش حکومت نے ذات، مذہب اور اپنے پرائے کی بنیاد پر بھاری امتیازی سلوک کیا ہے۔حکومت نے آئینی ذمہ داریوں کو درکنار کرکے منھ بھرائی کی پالیسی اپنائی ، جس کا اعتراف ایک سینئر کا بینہ وزیر احمد حسن نے بھی کیا ہے۔لیپ ٹاپ، بیوہ پنشن، اسکالرشپ ، کنیا ودیادھن، شادی کے لیے گرانٹ سمیت سبھی اسکیموں میں سرکاری فنڈ کی تقسیم مذہب اور ذات کی بنیاد پر امتیازی طورپر کیا ہے۔حکومت نے قبرستان کے لیے 1300کروڑ روپے الاٹ کئے وہیں، شمشان کے لیے محض 627کروڑ روپے الاٹ کئے گئے۔ترپاٹھی نے کہا کہ منتخب حکومت آئین سے باہرنہیں ہوتی ہے لیکن اتر پردیش کی اکھلیش حکومت نے آئین کی بنیادی روح کی دھجیاں اڑا کر سرکاری فنڈکی منمانا تقسیم کی اور منھ بھرائی کا سیاسی ایجنڈ ہ چلایا۔اسمبلی میں سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریری طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ 2014-15اور 2015-16میں غریب دلت، پسماندہ اور بڑی ذاتوں کی بچیوں کی شادی کے لیے فنڈ نہیں ہے لیکن اقلیتی طبقے کی غریب بچیوں کے لیے گرانٹ کی رقم جاری کی گئی۔ترپاٹھی نے الزام لگایا کہ بجلی کنکشن، سڑک کی تعمیر، روزگار سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں میں بھی مذہبی و نسلی امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔افسران کی تقرری میں نسلی، مذہبی امتیازی سلوک کیا گیا ہے، مجرموں پر کارروائی میں بھی ذات مذہب کا خیال رکھا گیا ہے، اکھلیش حکومت کے اسی امتیازی سلوک کی وجہ سے پورے صوبہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کئی بار خراب ہوئی ۔بی جے پی اکھلیش حکومت کے اس امتیازی سلوک کو عوام کی عدالت میں لے کر جا رہی ہے، ترقی میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کی جانی چاہیے ، بی جے پی سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے عزم کو لے کر چل رہی ہے۔