ایک وقت میں تین طلاق اسلام میں نا پسندید ہ ہے : مفتی اشرف علی

04:12PM Tue 22 Aug, 2017

اس طرح کے مسائل کو عدلیہ اور حکومت تک نہیں لے جانا چاہئے : رحمن خان بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) تین طلاق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت کرناٹک اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مفتی محمد اشرف علی باقوی نے بتایا کہ اسلامی قانون میں جو تفصیلات ہیں ا سکے تحت نکاح کے رشتہ کے بعد اگر میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوگیا تو طلاق کے ذریعہ اس رشتہ کو ختم کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ بیوی کو ڈھنگ سے رکھو یا احسان کے ساتھ چھٹکا رہ دے دو۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ ایک بار طلاق پکا رنے سے طلاق ہو جاتی ہے اور عورت اپنی ذات کے بارے میں آزاد اور خود مختار ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی طلاق پکارنے سے طلاق ہو جاتی ہے مفتی صاحب نے کہا کہ بہ ایک وقت تین طلاق سے طلاق ہو جاتی ہے لیکن یہ طریقہ اسلام میں صحیح اور پسندیدہ نہیں ہے۔ اس طرح بہ ایک وقت تین طلاق دینے والا گہنگار ہوگا۔رکن پارلیمان ڈاکٹر کے رحمن خان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ انہوں نے عدالت کے فیصلہ کا مکمل جائزہ نہیں لیا ہے البتہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے اپنی حالیہ میٹنگ میں کہا تھا کہ بہ ایک وقت تین طلاق کا طریقہ صحیح نہیں ہے۔ بورڈ کا مشورہ صحیح ہے قرآن اور حدیث نے بھی بہ ایک وقت تین طلاق کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔ جناب رحمن خان نے بتایا کہ ہمارے اس طرح کے مسائل کو آپس میں حل کرلینا چاہئے حکومت اور عدلیہ تک نہیں لے جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کا فیصلہ دستور کی دفعہ25کے خلاف ہے یا نہیں اس کا جائزہ لینا ہے البتہ اس فیصلہ سے حکومت کو قانوں بنانے کیلئے ایک موقع مل گیا ہے۔ عدالت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت العلماء ہند کرناٹک کے صدر مفتی محمد افتخار احمد قاسمی نے کہاکہ مسلمان قرآن اور حدیث پر رضا کارانہ طور پر عمل کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے نام نہاد مسلم خواتین کو بہانہ بنا کر قرآن وحدیث کے احکامات میں دخل اندازی اور زور زبردستی درست نہیں ہے۔ یہ خالص مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے صدر مولانا اعجاز احمد ندوی نے کہا کہ جو بھی قانون شریعت سے ٹکراتا ہے ہم اس کو قبول نہیں کرتے ہمار ے ملک کے دستور میں اس بات کی گیارنٹی دی گئی ہے کہ ہر مذہب والے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرسکتے ہیں مسلمانوں کو بھی مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنے پرسنل لاء پرعمل کریں ۔ ہمارے شرعی معاملات پر فیصلہ کرنے کیلئے پرسنل لاء بورڈ موجود ہے۔ جامعہ بلال کے مہتمم مولانا ذوالفقار احمد نوری نے بتایا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنا ان کا اپنا حق ہے اس پر رائے زنی ٹھیک نہیں ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے امیر جناب اطہراللہ شریف نے کہا کہ ہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔