اردو ،ہندی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان: رام نائک
03:19PM Thu 19 Nov, 2015
لکھنؤ(پریس ریلیز) اترپردیش کے گورنر رام نائک نے کہا ہے کہ ملک کی سبھی ریاستوں میں اردو زبان بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔ ہندی، ہندوستان کی قومی زبان ہے اور ہندی کے بعد ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے۔ وہ آج ہوٹل کلارکس میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تحت عصر حاضر میں مولانا ابوالکلام آزاد کی معنویت موضوع پر منعقد دو روزہ سیمینار کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سبھی ریاستوں میں تین زبانوں کا سنگم ہونا چاہئے جس میں قومی زبان ہندی، متعلقہ ریاست کی زبان اور اردو شامل ہو۔ مسٹر رام نائک نے کہا کہ آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد ایسا لگتا ہے جیسے کہیں کھو گئے، ان کا زیادہ ذکر نہیں ہوتا۔ انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نائب صدر پدم شری مظفرحسین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مولانا آزاد پر سیمینار کا انعقاد کیا۔ انہوں نے سیمینار میں خواتین کی کثیر تعداد پر خوش ہوکر کہا کہ جو کام شروع ہو رہا ہے اس سے ایک نہیں سیکڑوں خواتین پیدا ہوں گی اور ملک کا نام روشن کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مولانا ابوالکلام آزاد کی ضرورت و معنویت پر غور کرنا ہوگا۔ موجودہ دور میں مولانا آزاد کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے اس سے سیمینار سے اس کا پیدا چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کیا ہو رہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان، ہندو مسلم سب کا ملک ہے اور ہمیں ایسے پروگراموں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ریاست کی 25 یونیورسٹیوں کا چانسلر ہوں اور یہ دیکھنا ہوگا کہ نوجوانوں میں مولانا آزاد کی معنویت و افادیت کا پیغام کیسے جائے کیونکہ ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور نوجوان یونیورسٹیوں میں ہوتے ہیں لیکن نوجوانوں کو جس طرح تیار ہونا چاہئے وہ تیار نہیں ہورہے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو اس سلسلہ میں مشورہ دیا جائے تو یہ ایک مثبت نظریہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ نہیں ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے کیونکہ یہ ہندی کے بعد ملک میں سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ گورنر نے کہا کہ پورے ملک میں ثقافتی نظریہ ہر جگہ ایک ہی ہے اور زبان جوڑنے کے لیے ہوتی ہے توڑنے کے لیے نہیں۔ آج ہماری سمجھ میں آرہا ہے کہ مولانا آزاد کی معنویت کیا ہے۔ گورنر نے کہا کہ جنگ آزادی میں لکھنؤ کا کیا کردار رہا ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں لکھنؤ کی علاحدہ شناخت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جاری کی گئی کتاب مولانا ابوالکلام آزاد ایک مطالعہ مرتب پروفیسر عبدالستار دلوی کا ہندی و ملک کی دیگر زبانوں میں شائع کرانے کا بھی مشورہ دیا۔
جامعہ ملیہ نئی دہلی کے پروفیسر رضوان قیصر نے اپنے کلیدی خطبہ میں بیگم حضرت محل کا ذکر کرکے ان کی یادگار قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس زمانے میں جب خواتین بہت زیادہ سرگرم نہیں تھی، بیگم حضرت محل نے انگریزوں کے دانت کھٹے کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کا صحیح طرح سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مولانا آزاد کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد اور ایسی ہزاروں اہم شخصیات تاریخی بحث و مباحثہ سے غائب ہوگئیں۔ جن لوگوں نے ملک کے لیے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں آج ان کا ذکر نہیں ہوتا۔ انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جھانسی کی رانی کو جس طرح یاد کیا جاتا ہے اس کے مقابلے بیگم حضرت محل کو فراموش کر دیا گیا اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد کی مکہ میں ولادت سے لے کر کلکتہ میں قیام، ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور الہلال و البلاغ کی اشاعت سے لے کر 1947 تک کے سفر پر تفصیلی خطبہ پیش کیا اور آزادی کے بعد بحیثیت وزیر تعلیم مولانا کی کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم نظام کی ازسرنو تشکیل ہونی چاہئے اور مولانا آزاد نے ہر شہری کا تعلیم یافتہ ہونے کا جو خواب دیکھا تھا اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ہمیں خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا جو نصب العین تھا قوم نے اسے بھلا دیا لیکن آج بھی مولانا آزاد کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ مولانا آزاد کی توجہ اردو زبان اور قومی یکجہتی پر تھی اور آج دونوں پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے نصب العین کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ جب تک ان کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوں گے ہندوستان مکمل نہیں ہوگا۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نائب صدر پدم شری مظفرحسین نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے میر انیس، پنڈت نول کشور و دیگر رہنماؤں پر جلسہ کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالستار کو مولانا آزاد پر مبنی مضامین یکجا کرکے کتاب مرتب کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالستار دلوی نے مختلف مقامات سے مضامین یکجا کرکے اس کتاب میں مولانا کی زندگی کو سمو دیا ہے۔ مولانا آزاد، ہندوستان اور جنگ آزادی کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا ’اردو دستخط‘ گورنر رام نائک کے توسط سے ملا ہے۔ انہوں نے اس دستخط پر مبنی ایک چاندی کا سکّہ جاری کرنے کی گزارش کی۔ انہوں نے لکھنؤ میں اردو گیلری کے لیے اراضی مہیا کرانے کی گورنر اور وزیر اعلیٰ سے درخواست کی۔ گورنر نے اس سلسلہ میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ سیمینار میں کبیر صدیقی کی تیار کردہ مولانا آزاد پر مبنی مختصر سی ڈی بھی چلائی گئی۔
سیمینار کا دوسرا سیشن پروفیسر شارب ردولوی کی صدارت میں شروع ہوا جس کی نظامت پروفیسر شفیق اشرفی نے کی۔ اس سیشن میں مولانا ابوالکلام آزاد کی فکر کے چند تکثیری پہلو موضوع پر پروفیسر عبدالستار دلوی، تکثیری معاشرہ میں مولانا ابوالکلام کی معنویت موضوع پر خواجہ اے منتقم اور فیروز احمد بخت نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ آخر میں پروفیسر شافع قدوائی اور شاہد لطیف نے بھی مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر شارب ردولوی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ جو بنیاد مولانا آزاد نے تعلیم کے شعبہ میں رکھی ہے، آج بھی ہم اس سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ آج ہم جس تکثیری معاشرہ کی بات کرتے ہیں اس کی پہلی اینٹ مولانا ابوالکلام آزاد نے رکھی تھی۔ اس موقع پر طالبات نے قومی گیت پیش کیا۔