مذہب اسلام دنیا کا سب سے مقدس ترین مذہب: مفتی ساجد حسنی
03:45PM Tue 18 Apr, 2017
سونبھدرا(بھٹکلیس نیوز)
آل انڈیاعلماء مشائخ بورڈ ب انجمن نوریہ اہل سنت ول جماعت رینوساگرسون بھدر کی سرپرستی میں شہر کے کرمچاری منورنجن برلا مارکیٹ میں ایک روزہ آل انڈیا جشن خواجہ اور اسلاح معاشرہ کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔پرگرام کی شروعات حافظ محمدطاہر رضا کی تلاوت قرآن سے ہوئی۔ سرپرستی اور صدارت کرتے ہوئے اسلامک ریسرچ اسکالر مفتی ساجد حسنی اے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کی جانب اپنے بچوں کو توجہ دلانا چاہئے. انہوں نے کہا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماں کی گود سے لے کر قبر تک تعلیم حاصل کرنا چاہئے. انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ مقدس مذہب ہے. قرآن پاک سارے عالم کے انسانوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے۔ انہوں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں اعلی تعلیم دلائیں چاہے اس کے لئے انہیں دوسرے ملک ہی کیوں نہ جانا پڑے جس کا جواب عوام نے آدھی روٹی کھائیں گے بچوں کو پڑھائیں کے نعرے لگا کردیا۔مفتی ساجد حسنی نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے مناقب کرتے ہوئے کہا کہ کی پیدائش 9 رجب 530 ہجری، سن 1143 ء میں "وسطی ایشیا" کے سیستان کے سنجر قصبے میں ہوئی تھی. آپ کا بچپن "اسرارے الہی اور رمافت الہی" سے بھرا ہوا تھا. آپ بڑے ہی رحم دل تھے. آپ کو ہمیشہ غریبوں، فقیروں اور نیک لوگوں سے محبت کیا کرتے تھے۔ آپ نے حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت حاصل کی اور پورے 20 سال تک اپنے پیر کی خدمت کی۔ آپ دن رات عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے. آپ کی زندگی بہت ہی سادہ تھی. آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "آپ نے کبھی بھر پیٹ کھانا نہیں کھایا" .آپ بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے زندگی بھر ایک ہی لباس کو پہنا اور جب یہ پھٹ جاتا تھا، تو اس پر پیوند لگا لیا کرتے تھے. پیوند پہ پیوند لگانے سے آپ کا لباس اتنا بھاری ہو گیا تھا کہ آپ انتقال کے بعد، جب اسے تولا گیا تو اس کا وزن "ساڑھے بارہ سیر" تھا۔مولانا عبدالمنان چترویدی جمشید پور جھارکھنڈ نے اپنی تقریر میں کہا کہ کتنے ہی بادشاہ، مہاراجہ، بادشاہوں کے دربار لگے اور اجڑ گئے، مگر خواجہ صاحب کا دربار آج بھی شان و شوکت کے ساتھ جگمگا رہا ہے. ان کے درگاہ میں حاضری دینے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے. غریب نواز کے در پر نہ کوئی امیر ہے نہ غریب. نہ یہاں ذات پات ہے، نہ مذہب کی دیواریں. ہر عام و خاص یہاں آتا ہے اور اپنی جھولی بھر کر جاتا ہے۔صدر محمد اسلم رضوی نے عصری تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارس میں ہو رہی تعلیم کے ساتھ انگریزی اور سائنس، ہندی کمپیوٹر کی طرف بھی توجہ دینا چاہئے۔ کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے مفتی ساجد حسنی قادری پیلی بھیت نے مدرسہ و معاصر تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بغیرزندگی ادھوری ہے. زندگی میں تعلیم کا بہت اہمیت ہے۔آدھی روٹی کھائیں مگر بچوں پڈھائیں۔ تعلیم دینا ہر ماں باپ کا فرض ہے۔مولانا سلیم رضا پیلی بھیت،حافظ امتیاز اختر بلبل پلامو عبادت رضا نوری جھارکھنڈ،وارث رضا ناگپور ،علی رضا صدر محمد اسلم رضوی نے نعت اور منقبت پیش کیا۔ ایس ڈی ایم وایس او ایس آئی کا کانفرنس کرانے میں تعاون رہا ۔مولانا منظورر عالم، مظفر حسین ،نیاز احمدخان ،قاری جمال رضا اوربورڈ کے مقامی ممبران سمیت کافی تعداد میں لوگ موجو درہے۔