چوطرفہ تنقید کے بعد سلفی مسلک سے متعلق متنازع بیان پر ممبر پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے مانگی معافی
01:50PM Fri 28 Dec, 2018
آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے سربراہ اورلوک سبھا ممبرپارلیمنٹ بدرالدین اجمل نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں سلفی مسلک سے متعلق دئے اپنے متنازع بیان پر چوطرفہ تنقید کے بعد معافی مانگ لی ہے ۔ انہوں نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں طلاق بل پر بحث میں شرکت کرتے ہوئے میں نے سبقت لسانی میں اپنے سلفی بھائیوں سے متعلق ایک غلط اور بے اصل بات کہہ دی تھی ، جس کا مجھے بہت احساس ہے اور میں اپنے بیان سے معذرت کے ساتھ رجوع کرتا ہوں ۔
بدرالدین اجمل نے اپنی پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ میرا سلفی بھائیوں کے متعلق یہ موقف بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں یا وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔ اس لئے میں اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان سے معذرت کے ساتھ رجوع کرتا ہوں ۔ اللہ سے دعا کرتوں کہ وہ ہماری کمیوں کو دور کرے ۔ پارلیمنٹ کے ضابطہ کے مطابق میں نے اپنی تقریر کے اس حصہ کو پارلیمنٹ کے ریکارڈ سے ہٹانے کی بھی درخواست دیدی ہے ، جس کے بعد انشاء اللہ وہاں سے بھی وہ حصہ ہٹ جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز بدرالدین اجمل نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پربحث کے دوران مسلمانوں کی ایک جماعت کو دہشت گردی سے جوڑدیا تھا۔ انہوں نے سلفی مسلک کے بارے میں کہا تھا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ لوگ ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ بدر الدین اجمل کے اس بیان کے بعد ان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی تھی ، جس کے بعد انہوں نے اب معافی مانگی ہے۔