شاہ سلمان کی کابینہ میں رد وبدل، وزیر تیل برطرف
05:33AM Sun 8 May, 2016
ریاض: سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے ایک بار پھر کابینہ میں رد وبدل کر دیا۔ وزیر تیل علی النعیمی کو برطرف کر کے خالد الفلیح کو عہدہ سونپ دیا گیا۔ النعیمی گزشتہ بیس برس سے اس عہدے پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔ انکی جگہ اب سابق وزیر برائے صحت خالد الفلیح کو یہ عہدہ سونپا گیا ہے۔ الفلیح نے 30 سال ملک کی سرکاری تیل کمپنی ارامکو میں کام کیا ہے اور اِس وقت وہ بطور چیئرمین ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے گزشتہ ماہ معاشی اصلاحات کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ملک کا تیل پر سے انحصار کم کرنا ہے۔ تیل کی گرتی قیمتوں سے سعودی عرب کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سعودی عرب : کابینہ کی جامع تشکیل نو
سعودی عرب میں ہفتے کے روز حکومتی سطح پر جامع تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی [SPA] کے مطابق یہ تبدیلیاں ترقی کے مسلسل عمل اور "ویژن 2030" پروگرام کے ساتھ مطابقت کا حصہ ہیں۔
شاہی فرمان کے مطابق مملکت میں وزارت محنت اور وزارت سماجی امور کو ضم کردیا گیا ہے۔ پانی اور بجلی کی وزارت کو ختم کردیا گیا ہے جب کہ وزارت حج کا نام بدل کر وزارت حج و عمرہ کردیا گیا ہے۔
شاہی دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزارت پٹرول کا نام بدل کر وزارت توانائی، صنعت اور معدنی دولت کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تفریح کی ایک جنرل باڈی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
شاہی فرمان کے مطابق وزیر پٹرول انجینیئر علی النعیمی کو سبک دوش کر کے ان کی جگہ خالد الفالح کو توانائی، صنعت اور معدنی دولت کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ توفیق بن فوزان الربیعہ کو خالد الفالح کی جگہ وزیر صحت مقرر کیا گیا ہے جب کہ ماجد القصبی کو تجارت اور سرمایہ کاری کا وزیر بنایا گیا ہے۔
اس دوران وزیر حج ڈاکٹر بندر بن محمد حجار، وزیر مواصلات انجینئر عبدالل بن عبدالرحمن المقبل اور سماجی امور کے وزیر ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی کو ان کے عہدوں سے سبک دوش کردیا گیا ہے۔
شاہی فرمان میں شامل نمایاں ترین احکامات مندرجہ ذیل ہیں:
· "وزارت پانی و بجلی" کا خاتمہ۔
· "وزارت تجارت و صنعت" کا نام "وزارت تجارت و سرمایہ کاری" ہوگا۔
· "وزارت پٹرول و معدنی دولت" کا نام "وزارت توانئی، صنعت و معدنی دولت" ہوگا۔
· "وزارت زراعت" کا نام "وزارت ماحولیات، پانی و زراعت" ہوگا۔
· "وزارت اسلامی امور، اوقاف، دعوہ و ارشاد" کا نام "وزارت امور اسلامی، دعوہ و ارشاد" ہوگا۔
· "وزارت حج" کا نام "وزارت حج و عمرہ" ہوگا۔
· وزارت "محنت" اور وزارت "سماجی امور" کو ایک وزارت میں ضم کرکے اس کا نام "وزارت محنت و سماجی ترقی" ہوگا۔
· "ثقافت کی جنرل اتھارٹی" کا قیام جس کی مجلس عاملہ کے سربراہ وزیر ثقافت و ذرائع ابلاغ ہوں گے۔
· محنت اور سماجی ترقی کے وزیر جنرل اتھارٹی برائے اوقاف کی مجلس عاملہ کے سربراہ ہوں گے۔
· تجارت و سرمایہ کاری کے وزیر "جنرل اتھارٹی فار انویسٹمنٹ" کی مجلس عاملہ کے سربراہ ہوں گے۔
· صحت کے وزیر "سعودی ہلال احمر انجمن" کی مجلس عاملہ کے سربراہ ہوں گے۔
· جنرل اتھارٹی برائے غذا و دوا کی مجلس عاملہ کے سربراہ کا تقرر شاہی فرمان کے ذریعے ہوگا۔
· الیکٹرسٹی اینڈ کوجنریشن ریگولٹری اتھارٹی کی مجلس عاملہ کے سربراہ کا تقرر شاہی فرمان کے ذریعے ہوگا۔
· "جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن" کو وزیر مواصلات سے مربوط کیا جائے گا۔
· تفریحی سرگرمیوں سے متعلق حکومتی ادارے بدستور اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے۔ اس دوران ایک "جنرل اتھارٹی فار لييزر" کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
سعودی کابینہ میں ماہرین کی کمیٹی متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ کوآرڈی نیشن کے ذریعے تین ماہ کی مدت کے اندر شاہی فرمان میں شامل تمام احکامات اور نکات پر عمل درامد اور ان کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔