کپل مشرا نے ٹینکر گھوٹالہ معاملے کے ثبوت اے سی بی کو سونپا
03:29PM Mon 8 May, 2017
نئی دہلی ،(بھٹکلیس نیوز)کیجریوال کابینہ میں وزیر کے عہدے سے ہٹائے کئے آپ ممبر اسمبلی کپل مشرا نے 400کروڑ روپے کے ٹینکر گھوٹالہ معاملے کے ثبوت آج دہلی حکومت کی اینٹی کرپشن بیور (اے سی بی)کو سونپ دیا ۔مشرا کا الزام ہے کہ سابقہ شیلا دکشت حکومت کے دور میں ہوئے اس گھوٹالے کی جانچ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال جان بوجھ کر تاخیر کر رہے ہیں۔اے سی بی میں معاملے سے منسلک دستاویزات جمع کرانے کے بعد مشرا نے کہا کہ میں نے حکام کو بتا دیا ہے کہ کس طرح سے کجریوال جان بوجھ کر اس معاملے کی تحقیقات میں تاخیر کر رہے ہیں۔مشرا کا دعوی ہے کہ وہ بطور وزیر ایک سال پہلے ہی اس مبینہ گھوٹالے کی محکمہ جاتی جانچ کرا کر اس کی رپورٹ کیجریوال کو سونپ چکے ہیں۔اس میں انہوں نے ٹینکر گھوٹالہ معاملے میں سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کے خلاف ایف آئی آرز درج کراکر جانچ کرانے کی سفارش کی تھی۔مشرا نے کہا کہ انہوں نے کیجریوال اور ان کے دو دیگر ساتھیوں کی طرف سے ٹینکر گھوٹالہ معاملے کی جانچ کو متاثر کرنے کے دستاویزی ثبوت بھی اے سی بی کو دیئے ہیں۔ان ثبوتوں سے حکومت کی طرف سے دکشت کو بچانے کی بات صاف ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے سی بی اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے مجھے دوبارہ بلائے گی ۔اس دوران مشرا نے کیجریوال کو وزیر صحت ستیندر جین کی طرف سے مبینہ طور پر دو کروڑ روپے کی رقم دیئے جانے کے اپنے کل کے الزام پر قائم رہنے کی بات کا اعادہ کرتے ہوئے اس کی سچائی جاننے کے لیے ان تینوں کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس الزام سے منسلک تمام ثبوت سی بی آئی کو سونپنے کے لیے مرکزی جانچ ایجنسی سے ملاقات کا وقت مانگ چکے ہیں۔مشرا نے کیجریوال کی طرف سے سنیچر کو انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کل وزیر اعلی پر وزیر صحت جین سے دو کروڑ روپے لینے کا سنسنی خیز الزام لگایا تھا۔مشرا نے کہا کہ کچھ دنوں پہلے جین نے انہیں ذاتی بات چیت میں بتایا تھا کہ کیجریوال کے قریبی رشتہ دار کے حق میں انہوں نے 50کروڑ روپے کی زمین کا سودا کیا ہے، حالانکہ مشرا کے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کیجریوال کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
کپل مشرا عام آدمی پارٹی سے معطل، پی اے سی نے لیا فیصلہ ، کیجریوال پر لگائے تھے سنگین الزامات
نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے کپل مشرا کو پارٹی سے باہر نکال دیا ہے۔ پارٹی کی پارلیمانی امور کی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے کپل مشرا نے پیر کو پریس کانفرنس کی تھی، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال کے ساڑھو بھی اس ڈیل میں شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی کے ساڑھو کے لئے 50 کروڑ کی ڈیل کروائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں مشرا نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں سے صاف طور پر انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پارٹی میں ہمیشہ سے بی جے پی کے خلاف بولتا رہا ہوں اور کبھی بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گا۔ مشرا کا کہنا ہے کہ وہ منگل کی صبح سی بی آئی کو ثبوت پیش کریں گے اور اس معاملہ میں کیس درج کرائیں گے۔ ادھر دہلی اے سی بی چیف مکیش مینا پیر کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے ملنے پہنچے۔ لیفٹیننٹ گورنر سے ملنے کے بعد مکیش مینا نے کہا ہے کہ کپل مشرا نے دو کروڑ کی رشوت کے معاملے میں اے سی بی سے شکایت نہیں کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ اے سی بی کپل کا بیان درج کرائے گی۔ مینا کا کہنا ہے کہ اس معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ادھر عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ کپل مشرا بی جے پی کی زبان بول رہے ہیں۔