بھٹکل میں فاریسٹ افسران کی زبردستیوں کے خلاف عوام کا احتجاجی اجلاس؛ سینکڑوں افراد نے کی شرکت
04:36PM Thu 10 Oct, 2019
بھٹکل: 10 اکتوبر، 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل و اطراف میں فوریسٹ افسران کی طرف سے اتی کرم داروں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف بھٹکل میں آج صبح ضلع ارینیا بھومی ہوراٹا سمیتی کے بینر تلے احتجاجی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں تعلقہ بھر کے سینکڑوں عوام نے شرکت کی۔
اس موقع پر مشہور وکیل اے رویندر نائک نے فوریسٹ زمین پر رہنے والے افراد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کئی سالوں سے اتی کرم جگہوں پر رہتے آرہے ہیں اور کئی سالوں سے بجلی کا بل بھر رہے ہیں ایسے میں اگر ان کو گھر سے نکال دیا گیا تو وہ افراد سڑک پر آجائیں گے اس لیے ضروری ہے کہ محکمہ کے افسران اور متعلقہ منسٹر اس سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کریں اور ایسا فیصلہ کریں جس سے عوام کو خوشی ہو۔
انہوں نے اس موقع پر شراوتی جنگلات کو ملانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصوبہ بند کارروائی قرار دی اور عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کہا۔
سابق صدر تنظیم جناب مزمل قاضیا صاحب نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کی حفاظت کے بہانے ایسے افراد کو نکالنا جو برسوں سے رہتے آرہے ہیں صحیح نہیں ہے۔
جناب عنایت اللہ شابندری صاحب نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اتی کرم داروں کو کو ان کا حق دینے کی اپیل کی۔
اس موقع پر احتجاجیوں کی جانب سے فاریسٹ افسران کو موقع پر بلانے کی مانگ کی گئی اور نہ پہنچنے پر تھوڑا سا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ جس کے بعد ڈی سی کی ایماء پر اسسٹنٹ کمشنر جلسہ گاہ پہنچے اور احتجاجیوں کی جانب سے میمورنڈم کو وصول کیا۔
انہوں نے اس موقع پر شراوتی جنگلات کو ملانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصوبہ بند کارروائی قرار دی اور عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کہا۔
سابق صدر تنظیم جناب مزمل قاضیا صاحب نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کی حفاظت کے بہانے ایسے افراد کو نکالنا جو برسوں سے رہتے آرہے ہیں صحیح نہیں ہے۔
جناب عنایت اللہ شابندری صاحب نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اتی کرم داروں کو کو ان کا حق دینے کی اپیل کی۔
اس موقع پر احتجاجیوں کی جانب سے فاریسٹ افسران کو موقع پر بلانے کی مانگ کی گئی اور نہ پہنچنے پر تھوڑا سا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ جس کے بعد ڈی سی کی ایماء پر اسسٹنٹ کمشنر جلسہ گاہ پہنچے اور احتجاجیوں کی جانب سے میمورنڈم کو وصول کیا۔