حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے نام سے ایک خانگی یونیورسٹی کے قیام کی جلد از جلد منظور ی متوقع

02:23PM Mon 1 May, 2017

خواجہ بندہ نواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ساءئینسیس کے گریجویشن ڈے سے شاہ نواز حسین ، الحاج قمر الاسلام اور حضرت سید شاہ خسرو حسینی کا خطاب  گلبرگہ (بھٹکلیس نیوز)میں بہار سے ہوں ، جتنے انجنئیرس حضرت خواجہ بندہ نوازؒ انجنئیرنگ کالج ، گلبرگہ سے فارغ االتحصیل ہوئے ہیں اتنے آج تک ساری ریاست بہار سے بھی نہیں ہوئے ہیں۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں وہاں مجھے گلبرگہ کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ ''ان خیالات کا اظہار مسٹر سید شاہ نواز حسین سابق مرکزی وزیر و ترجمان بی جے پی قومی پارٹی نے 30اپریل کی شام خواجہ بندہ نواز ؒ انسٹٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیسکے 2011کے بیاچ سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کے گریجویشن ڈے کے موقع پر خطاب کرے ہوئے کیا ۔ مسٹرسید شاہ نواز حسین نے کہا کہ زندگی کے مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق گریجویشن و پوسٹ گریجویشن کی اسناد کا حصول ممکن ہے تاہم ایسی مقدس بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے زیر اہتمام چلائے جارہے میڈیکل کالج سے ڈاکٹرئیٹ کی ڈگری ایک اعزاز کا درجہ رکھتی ہے۔ انھوں نے ڈاکٹرس کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پیشہ طب میں خدمات کے ذریعہ یقیناًکافی دولت کماسکتے ہیں ۔ مگر اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ آپ کا پیشہ ایک فرض بھی ہے جس کی ذمہ داری کا تقاضہ ہے کہ محتاج اور غریب کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں تک پہنچ کر اپنی خدمات پیش کرنا بڑی نیکی ہے۔ انھوں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ ڈاکٹرئیٹ کی ڈگری یقیناًقابل قدر ہے مگر جہاں اس ڈگری میں حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کا ذکر بھی ادارہ کے حوالہ سے آجاتا ہے ، تو اس کی عظمت میں مزید اضافہ کا باعث ہوجاتا ہے ۔ اس لئے یہاں کے فار غ التحصیل پر یہ بات بھی لازمی ہوجاتی ہے وہ اس ڈگری کی عظمت کا ہمیشہ خیال رکھیں۔انھوں نے حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی سابق سجادہنشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حضرت سید شاہ محمدمحمد الحسینی سے پہلی مرتبہ اس وقت ملاقات کی تھی جب میں مرکز میں وزیر تھا ۔ انھوں نے اس وقت مجھے دعائیں دی تھیں اور ان سے یہ ملاقات میرے لئے اپنی جگہ ہر گز وزارت سے کم نہ تھی ۔ در اصل حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب کو ان کی عظیم تر تعلیمی خدمات کے پیش نظر انھیں جنوبی ہند کا سر سید کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے والدین کی عین خواہش تھی کہ میں ایک ڈاکٹر بنوں ، لیکن میں ڈاکٹر تو نہیں بن سکا مگر مرکزی وزیر رہا اور آج حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ میڈیکل کالج کے فارغ ؤڈاکٹروں کے میرے ہاتھوں سے اسناد کی تقسیم سے جو میرے وقار میں اضافہ ہوا ہے اس سے میرے والدین کا خواب شرمندہ تعبیرہوتا دیکھ رہا ہوں ۔انھوں نے زیر تعلیم میڈیکل کے طلبا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ حصول علم کے لئے سخت محنت ضروریہے ۔ اگر آپ پانچ سال اچھی محنت کروگے تو آپ کو اس کے نتیجہ میں پچاس سالہ راحت نصیب ہوسکتی ہے۔ انھوں نے حضرت سید شاہ خسرو حسینی سجادہ نشین بارگاہ بندہ نواز ؒ کی تعلیمی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تگ و دو اور جہد مسلسل کے نتیجہ میں حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کی بارگاہ سے بے مثال تعلیمی خدمات انجام دی جارہی ہیں ۔ دنیا بھر میں اولیا ء کرام کی بارگاہوں سے تعویز، شیرینی و دیگر تبرکات کے ذریعہ لوگ یقیناًفیض حاصل کررہے ہیں مگر حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام چلائے جارہے ادارہ جات سے مختلف شعبوں سے گریجویشن ، پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کرنے کی مثال شائد ہندوستان کی کسی اور بارگاہ سے نہیں مل سکے گی ۔ انھوں نے حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی بارگاہ میں حاضری کی تمنا کا اظہار کرتے ہوئےؤ کہا کہ عرصہ دراز سے حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کی بارگاہ کی زیارت کا اشتیاق تھا جس کی تکمیلپر میں بے حد مسرور ہوں ۔ انھوں نے علاقہ حیدر آباد کرناٹک کی پس ماندگی دور کرنے کے لئے دفعہ 371Jکے نفاذ اور اس سے اس علاقہ کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کے اضافہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دستوری ترمیم کیتحت دی گئی مراعات سے اس علاقہ کے عوام کوبھرپور استفادہ کرنا چاہئے ۔انھوں نے گلبرگہ میں اسی ادارہ کے کسی آئیندہ پروگرام میں شرکت کی توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ جب میں آئیندہ یہاںآؤں گا تو میری یہ خواہش ہے کہیہ میڈیکل کالج اس وقت تک ہندوستان کا درجہ اول میں شمار کیا جانے والا کالج بن جائے ۔ حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب ، سابق سجادہنشین بارگاہ بندہ نواز ؒ کا ذکر کرتے ہوئے جناب سید شاہ نواز حسین نے کہا کہ انھوں نے ایک ایسا پودابویا ہے جو آج ایکتناور اور گھنا سایہ دار درخت بن چکا ہے ۔ اس کے سایہ میں ملت کے طلبا و طالبات فیض حاصلکررہے ہیں ۔اس موقع پر جناب سید شاہ نواز حسین نے حضرت سید شاہ خسرو حسینی کے فرزند اور ان کے جانشین حضرت سید شاہ علی الحسینی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بھر پور توقع ہے کہ وہ بھی اپنے دادا حضرت اور والد بزرگوار کی طرح خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے لئے بہتر سے بہتر خدمات انجام دیں گے ۔ اس موقع پر جناب سید شاہ نواز حسین نے کہا کہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے نام سے ایک خانگی یونیورسٹی کے قیام کے لئے کوشش جاری ہے اور توقع ہے کہ اس یونیورسٹی کے قیام کی جلد از جلد منظوری مل جائے گی ۔ رکناسمبلی گلبرگہ و سابق وزیر کرناٹک الحاج قمر الاسلام نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ گلبرگہ کی سرزمین صوفیوں اور سنتوں کی مقدس سرزمین ہے جہاں محبت ملتی ہے ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒ نے جہاں اپنی تعلیمات سے یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا وہیں مہاتما بسویشورکی تعلیمات سے بھی عوام نے علم و آگہی حاصل کی ۔ انھوں نے حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے نام سے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جات اور شری شرن بسویشور مہاراج کے نام سے قائم کردہ تعلیمی اداروں کی کار کردگی کی ستائش کی ۔دستور ہند کی ترمیمی دفعہ 371 Jکا ذکر کرتے ہوئے الحاج قمر لاسلام نے کہا کہ علاقہ حیدر آباد کرناٹک ریاست کرناٹک کا پسماندہ ترین علاقہ تھا جس کے لئے تیلنگانہ اور مہاراشٹرا کے خطوط پر خصوصی مراعات کے حصول کو یقینی بنانے 371J کے ترمیمی بل کی منظوری کے لئے کافی جستجو کی گئی اور گزشتہ تین برسوں سے اس علاقہ میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی مختلف ترقیاتی کاسکیمات کے تحت تیز ترترقی ا؂ہورہی ہے اور ملازمتوں و داخلوں میں بھی اس علاقہ کے امیدواروں کو متناسب نمائیندگی حاصل ہورہی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مسٹر سید شاہ نواز حسین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان سے بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے تحفظ اور ترقی کے لئے موثر نمائیندگی کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ سابق سجادہ ہنشین درگاہ بندہ نواز ؒ حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی نے خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے ذریعہ تعلیمی ادارے قائم کرکرے اس علاقہ میں ایک تعلیمی انقلاب برپا کردیا ہے ۔ مرکزی وزیر صحت و خاندانی منصوبہ بندی مسٹر جگت پرکاش ناڈا نے گریجویشن ڈے کے موقع پر صدر نشین خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب کو آن لائین مبارکبادی دیتے ہوئے کہا کہ وہ کالج کے اسٹاف ، طلبااور وہ گریجویٹس جن کے لئے یہ تقریب منعقد کی گئی ہے انھیں اپنی نیک تمنائیں اور دلی مبارکباد پیشکرتے ہیں ۔ میں خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے تعلیمی اداروں کی 58سالہ طویل خدمات سے نہایت متاثر ہوا ہوں ۔ خود میری دلی خواہش تھی کہ جہاں ساریہندوستان سے زائیرین درگاہ بندہ نواز ؒ پر حاضری دیتے ہیں میں خود بھی یہاں شخصی طور پر حاضر ہوتا لیکن میری مصروفیات کے سبب یہ ممکن نہ ہوسکا ۔ مسٹر جگت پرکاش ناڈا نے ااپنی آن لائین تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نؤریندر مودی کی قیادت میں ان کی حکومت میڈیکل تعلیم کو ترقی دینے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے صدر ڈکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب نے اپنے بزرگوں کی جدو جہد کو آگے بڑھاتے ہوئے جو خدمات سماج کے لئے انجام دی ہیں وہ انتہائی قابل قدر ہیں اور اس ادارہ سے فارغ ا التحصیل ڈاکٹروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ سماجی خدمات پر بھر پور توجہ دیں ۔ سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ و صدر نشین خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی نے اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پیشہ طب کا اختیار کرنا خود اس بات کی ذمہ داری قبول کرنا ہے کہ اپنی تعطیلات، تفریحی پروگرامس ، راتوں کی نیندیں وغیرہ مریضوں کی خدمت کے لئے قربان کرنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بہترین خدمت پریشانیوں میں مبتلا شخص کی مدد کرنا ہے۔ انھوں نے ڈاکٹروں پر زور دے کر کہا کہ وہ اپنے پیشہ کی خدمات دیانت داری کے ساتھ انجام دیں ۔ انھوں نے طبی اخلاقیات سے متعلق ڈاکٹروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس بات کو بنیاد بناکر مریضوں کا علاج کیا جانا چاہئے ۔ جلسہ کا آغاز قراء ت کلام پاک سے ہوا اور پروفیسر امتیاز الحق ڈین و پرنسپل کے بی این میڈیکل کالج نے خیر مقدم کیا ۔ پروفیسر اے ایم پٹھان سیکریٹری جنرل خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی نے سوسائیٹی کی کار کردگی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ پروگرام کے اختتام سے قبل مہمان خصوصی مسٹر سید شاہ نواز حسین کے ہاتھوں میڈیکل کی تعلیم سے فارغ ہوکر ڈاکٹرئیٹ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات میں اسنادات تقسیم کی گئیں ۔ شہ نشین پرحافظ حضرت سید شاہ علی الحسینی نائب صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی، پروفیسر پی ایس شنکر، سینئیر میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر معین الدین ،میڈیکل آفیسر،ؤ الحاج اقبال احمد سرڈگی رکن قانو ن ساز کونسل کرناٹک ،مسٹر دتاتریہ پاٹل ریوور رکن اسمبلی گلبرگہ جنوبی، امرناتھ پاٹل ایم ایل سی ، الحاج الیاس سیٹھ باغبان صدر نشین این اے کے آر ٹی سی ، ڈاکٹر راجیش اگروال صنعت کار حیدر آباد،، الحاج خورشید علی ایڈوکیٹ، شکیل احمد صدیقی ،میڈیکل سیکریٹری کے بی این میڈیکل کالج وغیرہ موجود تھے۔