مساجد اللہ کے گھر ہیں مسلمان اپنے آپ کو مساجد سے جوڑ رکھیں : مولانا محمد مقصود عمران رشادی
02:28PM Sun 6 Aug, 2017
جس کا مال اللہ کو محبوب ہوتا ہے اس سے اپنے گھر کے لئے قبول کر تے ہیں : ضمیر احمد خان
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)
مساجد جو عظیم ووسیع مقاصد نماز سے وابستہ ہیں ان کی تحصیل و تکمیل کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ نماز کا کوئی اجتماعی نظام ہو اسلامی شریعت میں اس اجتماعی نظام کا ذریعہ مسجداور جماعت کوبنایا گیا ہے ذرا سا غور کرنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس امت کی دینی زندگی کی تشکیل و تنظیم اورتربیت وحفاظت میں مسجد اور جماعت کا کتنا بڑا دخل ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ایک طرف جماعتی نظام کے ساتھ نماز ادا کرنے کی انتہائی تاکید فرمائی اورترک جماعت پر سخت سے سخت وعیدیں سنائیں اور دوسری طرف آپ نے مساجد کی اہمیت پر زور دیا اور کعبۃ اللہ کے بعد بلکہ اسی کی نسبت سے ان کو بھی ’خدا کا گھر‘ اور امت کا دینی مرکز بنایا اور ان کی برکات اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی عظت و محبوبیت بیان فرماکر امت کو ترغیب دی کہ ان کے جسم خواہ کسی وقت کہیں ہوں لیکن ان کے دلوں اور ان کی روحوں کا رخ ہر وقت مسجد کی طرف رہے اسی کے ساتھ آپ نے مساجد کے حقوق اور آداب بھی تعلیم فرمائے اسی لئے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت جس میں حضوراکرم ﷺ نے فرمایا شہروں اور بستیوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض اُن کے بازار اور منڈیاں ہیں مذکورہ زرین خیالات کا اظہار بنگلور سٹی جامع مسجد کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے بروز ہفتہ5 اگست 2017عرفات نگر مسجد ابو بکر صدیقؓ کے سنگ بنیاد کے موقع پر کہی نیز آپ نے بتایا کہمسجد سے دراصل مسلمانوں کی انفرادی تعلیمی تمدنی ثقافتی تہذیبی سیاسی امور کی اجتماعی رہنمائی ہو نی چایئے مسجد نبوی کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں نے ایک عرصہ تک مسجد کو اپنا روحانی عبادتی تعلیمی تدریسی تربیتی سماجی فلاحی سیاسی اور اجتماعی مرکز بنائے رکھا جب تک مسجد کی یہ حیثیت برقرار رہی مسلمانوں میں اجتماعیت مساوات محبت و اخوت سیاسی و معاشرتی اتحاد قائم رہا اور امت مسلمہ امت واحدہ کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیتی رہی لیکن جب یہ رشتہ کمزرو ہو ا اجتماعی زندگی کی مرکزیت مسجد سے منتقل ہو کر دوسری سمتوں میں چلی گئی اور امت مسلمہ افتراق وانتشار کا شکار ہو گئی آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پھر سے مساجد کو اجتماعی زندگی کامرکز بنایں اور مساجد کو وہ مقام دیں جو انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا ہے تاکہ امت اپنا عروج رفتہ پھر سے حاصل کرسکے انسان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و محبت کا مستحق ہوتا ہے، اور ان مبارک اعمال کے خاص مراکز مسجدیں ہیں جو ذکر وعبادت سے معمور رہتی ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو’’ بیت اللہ‘‘ سے ایک خاص نسبت ہے اس لئے انسانی بستیوں اور آبادیوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب مسجدیں ہی ہیں اور بازار اپنے اصل موضوع کے لحاظ سے انسانوں کی مادی و بہیمی تقاضوں اور نفسانی خواہشوں کے مراکز ہیں اور وہاں جاکر انسان عموماً خدا سے غافل ہوجاتے ہیں اور ان کی فضا اس غفلت و منکرات و معصیات کی کثرت کی وجہ سے ظلماتی اورمکدر رہتی ہیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسانی آبادیوں کا سب سے زیادہ مبغوض حصہّ ہیں
مخلس قوم و ملت ہمدرد قوم بی زیڈ ضمیر حمد خان نے دین کے لئے اللہ جن کا مال پسند کر تے ہیں اسی کو قبول کر تے ہیں اور آپ نے مزید کہا کہ میری یہ خدمت آخرت کے لئے ہے رہی بات دنیا کی اللہ نے مجھے بہت کچھ دے رکھا یہ علاقہ مسلمانوں کی کثیر آبادی والا علاقہ ہے یہاں اصلاح کی اور دین بیداری جتنی کوششیں ہو رہی ہیں اس میں بہت اضافہ کی ضرورت ہے لوگ مساجد تو بنا رہے ہیں اس کی آبادی کے لئے بھی فکریں ہو نی چا ہئے اور ہر مسلمان جوان ہو یا بو ڑھا مرد ہو یا عورت اپنے ہر مسئلہ کے لئے مسجد کی طرف رجوع ہو نے کا مزج بنا ئیں آپ نے مسجد ابو بکر صدیقؓ کی جگہ کی خریدی کے لئے چار لاکھ کا گرانقدر عطیہ بھی فی الفور عطا کیا اور محلہ والوں سے التماس کی کہ مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں پوری فراخدلی کا مظاہرہ کریں اور اپنے خطاب میں مسجد میں لگنے والا پیسہ اللہ کے یہاں بڑا ہی مقبول اور پسندیدہ ہو تا لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے خالص اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے لگا ئے شہرت اور نام و نمود مقصود ہو تو سارا کیا کرا یہ ضائع ہو جا تا ہے ۔
اس موقع پر مولانا محمد مقصود عالم رشادی نے بھی حاضرین سے خطاب کر تے ہو ئے فر مایا کہ تعمیر مسجد وہ عمل ہے جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جنت میں محل دئے جانے کا وعدہ کیا ہے لہذا اس عمل کو پوری کوشدلی کے ساتھ اللہ کی رضا اور اس کی کوشنودی کو حاصل کر نے کی نیت سے کر نا چا ہئے حیثیت جتنی بھی نیتیں وسیع رکھیں اس لئے اللہ تعالیٰ اجر نیتوں کے مطابق عطا فر ما تے ہیں
الحاج عادل احمد شریف نے گلو ب انجینئر نگ کمپنی جن کی نگرانی میں مسجد تعمیر کی جا ئے گی آپ نے مسجد کے ذمہ داروں سے گذارش کی محلہ والوں کو ساتھ لیکر ہماری تعاون فر ما ئیں چو نکہ جگہ کی تنگی ہے تعمیر اشیاء کی آمد و رفت میں بیشک دشواریاں پیش آسکتی ہیں اور اہلہ محلہ کو اس سے زحمت بھی ہو سکتی ہے لہذا بر داشت کریں اور ہمارا مکمل تعاون کریں تا کہ اللہ کے گھر کی تعمیر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے پا ئے
اس اجلاس کا آغاز قرأت کلام پاک اورکی نعت پاک سے ہوا مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی کی مستجاب دعاؤں کے ساتھ اجلاس اختتام کو پہنچا اس اجلاس میں اطراف و اکناف کے علماء و عمادین کے علاوہ الحاج خلیل احمد عرف امجد شریف مولانا محمد مقصود عالم رشادی مدرس جامع العلوم بنگلور سٹی، مجلس ملیہ اسلامیہ کے رکن سید اسلم پاشاہ ، کار پوریٹرمجاہد پاشاہ، شکیل احمد نوید احمد سو شیل ورکر حاجی شاہ میر، ابراہیم صدر مسجد ابو بکر صدیق شفیع احمد سکریٹری مسجد ابو بکر صدیق کے علاوہ کثیر تعداد میں میں شریک اجلاس رہے ۔