ایڈیورپا کو عدالت میں ملی کامیابی کے سبب

02:47PM Wed 2 Nov, 2016

کانگریس اور جنتادل سیکولر کو نیا طریقہ کا راپنا نا پڑے گا بنگلور:(بی این این ) برسراقتدار کانگریس کو کرناٹکا میں دو معاملات سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ سابق ریاستی وزیر وی سرنیواس پرساد کانگریس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف سی بی آئی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈیورپا کو تمام مقدمات میں بری کردیا ہے ۔ یہ دونوں معاملات کانگریس کیلئے بڑے چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ دونوں قائدین کانگریس کے ووٹ بینک کو توڑ سکتے ہیں مسٹر پرساد کے مستعفی ہونے سے میسور اور چامراج نگر علاقوں میں پارٹی کو دھکہ پہنچنے کا خدشہ ہے ، کیونکہ وہاں پر دلت ووٹرس اگر مسٹر پرساد کی حمایت کرتے ہیں یا مسٹر پرساد ننجنگڈھ ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں تو اس سے کانگریس کو ووٹروں سے دھکہ پہنچنے کا بھی امکان ہے ۔ دوسری جانب سی بی آئی عدالت نے ایڈیورپا کو تمام مقدمات میں جو کلین چٹ دے دی ہے وہ بھی آنیوالے انتخابات پر کانگریس کے لئے چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں اور یہ بات بھی طے ہے کہ عدالت کی جانب سے حاصل کامیابی کا فائدہ بی جے پی خصوصاً ایڈیورپا پوری طرح اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ کیو نکہ ان مقدمات کے سبب ہی ایڈیورپا کوا قتدار سے ہاتھ دھونا پڑ ا تھا ۔ پارٹی کے چند قائدین کا یہ بھی خیال ہے کہ کانگریس حکومت میں اس کی پالیسیوں پر جس طرح اندرونی طور پر نقصان ہورہا ہے وہ بھی آنیوالے انتخابات میں مشکلات پیش کرسکتے ہیں۔ مسٹر ایڈیورپا کی عدالت میں کامیابی کا اثر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لنگایت طبقہ جو بی جے پی سے دور ہوگیا تھا وہ پھر قریب آسکتا ہے، کانگریس ہائی کمان ان سب چیزوں پر برابر نظر رکھے ہوئے ہے اس لئے جی پرمیشور کو کے پی سی سی کے صدر کے طور پر بحال رکھنے یا کسی ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے جس کا تعلق لنگایت یا وکلیگا طبقے سے ہوتا کہ کانگریس کی حمایت جو لنگا یت طبقہ کر رہا ہے اسکو کانگریس سے دورنہ ہونے دیا جائے۔ اگر پرمیشور کو کے پی سی سی صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا تو لنگایت طبقہ کانگریس کے اور قریب آسکتا ہے ۔ اس کی کئی وجو ہات ہیں ۔ حالانکہ ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار چندہ ماہ تک یہی دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ کے پی سی سی صدر بننے والے ہیں مگر عین وقت پر انہوں نے ہائی کمان سے گذارش کی تھی کہ انہیں وزیر کے عہدہ پر ہی بحال رکھا جائے ۔ لنگایت قائدین میں سابق وزیر ایس آر پاٹل اور سینئر رکن اسمبلی سی ایس ناڈگوڈا کے ناموں کو ترجیح دئے جانے کا مکان ہے ۔وزیر اعلیٰ سدرامیا مسٹر پاٹل کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ہائی کمان ایک ایسے شخص کو کانگریس پارٹی کا قائد بنانا چا ہتی ہے جو آنے والے انتخاب میں پارٹی کے لئے کار آمد ثابت ہو، اس سلسلے میں مسٹر پاٹل کا کہنا ہے کہ اگر ہائی کمان مجھے موقع دیگی تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ2018میں کانگریس کو دوبارہ برسراقتدار لاؤنگا۔ دوسری جانب بی جے پی کرناٹکا میں دوسری مرتبہ بر سراقتدار آنے کیلئے پر تول رہی ہے 2014میں پارٹی کی کارکردگی بہتر رہی مگر ایڈیورپا پر لگے الزامات کے سبب اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ جنتادل سیکولر رشوت خوری معاملات کو سمامنے رکھ کر پارٹی کو برسراقتدار لانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ہچڈی کمار سوامی نے ہبلی میں ایک مکان کرائے پر لے لیا ہے او ر ان علاقوں میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے جدوجہد بھی شروع کردی ہے۔ پارٹی ا س بات پر بھی غور کررہی ہے ہے کہ ایڈیورپا کا مقابلہ کرنے نارتھ کرناٹکا کے کسی شخص کو پارٹی صدر بنا یا جائے۔ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حا لات کیا گل کھلاتے ہیں۔