ائمہ و موذنین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کئے جانے سے مسلم تنظیمیں ناراض
04:13PM Thu 22 Sep, 2016
بھوپال۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے ذریعہ ائمہ وموذنین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کئے جانے سے مسلم تنظیمیں ناراض ہیں۔ مسلم تنظیمیں جہاں بورڈ کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہیں وہیں بورڈ امام و موذن کی تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے کی پیچھے اپنی کم آمدنی کا جواز پیش کر رہا ہے ۔مد ھیہ پردیش وقف بورڈ ہزاروں کروڑ کی ملکیت کا ما لک ہے لیکن وقف بورڈ کے تحت آنے والے مساجد کے ائمہ وموذنین کنگال ہیں۔ بورڈ کے تحت آنے والی مساجد کے ائمہ وموذنین کی تنخواہیں آج بھی آٹھ سو سے ہزار روپیہ کے بیچ میں ہی ہیں۔ یہ زمانہ مہنگائی کا زمانہ کہلاتا ہے ۔ بورڈ نے اپنے ملازمین کے لئے چھٹے پے کمیشن کا بھی نفاذ کر دیا ہے لیکن بورڈ کے تحت آنے والی مساجد کے ائمہ وموذنین کے لئے آج تک اس نے ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے ائمہ وموذنین کی تنخواہوں میں اضافہ ہو سکے اور وہ ایک با وقار زندگی گز ار سکیں ۔
حالانکہ بورڈ کے تحت آنے والی مساجد کی تنخواہوں میں اضافہ کو لیکر سپریم کورٹ نے تیرہ مئی1993ے کو ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا لیکن بورڈ نے آج تک سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق بورڈ کے ائمہ وموذنین کو تنخواہیں ادا نہیں کیں۔ بورڈ کی اس غیر سنجیدگی سے مسلم تنظیمیں سخت ناراض ہیں اور انہوں نے اب اس کے خلاف آر پار کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے پندرہ ہزار سے زیادہ وقف املاک ہیں ۔ان زمینوں سے بورڈ کو انکم بھی کروڑوں میں ہوتی ہے ۔ اس کے لئے بورڈ کو ہر سال حکومت کی جانب سے گرانٹ
بھی ادا کی جاتی ہے ۔ لیکن بورڈ کے ذمہ داران وقف مساجد میں امامت کرنے والے ائمہ وموذنین کی حالت کو بدلنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ائمہ وموذنین کی تنخواہوں کو لیکر بورڈ سپریم کورٹ کے احکام کا نفاذ کیوں نہیں کر رہا ہے اور بورڈ کے تحت آنے والی مساجد کے ائمہ وموذنین کی تنخواہوں کو لیکر بورڈ سنجیدہ کیوں نہیں ہے، یہ ایک سنگین سوال ہے۔ تاہم جس طرح سے مسلم تنظیمیں ایک بار پھر ائمہ وموذنین کی تنخواہوں میں اضافہ کو لیکر سنجیدہ ہو رہی ہیں اس سے آنے والے دنوں میں بورڈ کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔