معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متعلق ممبئی پولیس نے رپورٹ پیش کی ، لگائے کئی سنگین الزامات

04:13PM Tue 9 Aug, 2016

ممبئی : ممبئی پولیس نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملے میں اپنی مکمل جانچ رپورٹ ریاستی حکومت کے سپرد کردی ہے ۔ ممبئی پولیس کی اسپیشل برانچ کی ٹیم نے ڈاکٹر ذاکر نائک کے سینکڑوں ویڈیوز کی جانچ کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق جانچ ٹیم نے ڈاکٹر نائیک پر کئی سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔ جانچ ایجنسی نے ڈاکٹر نائیک پر دو طبقوں کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے کا بھی الزام لگایا ہے۔ ذاکر نائک اور اس فاؤنڈیشن پر مجموعی طور 72 صفحات پر مشتمل جانچ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ریاست کی وزارت قانون سے مشورہ طلب کیا گیا ہے کہ کیا ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ بنتا ہے؟ جانچ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کے آڈیو اور ویڈیو سے صاف ہے کہ وہ اسلام مذہب کو سب سے عظیم مذہب مانتے ہیں اور تقابل کے انہیں دیگر مذاہب کو کمتر بتاتے ہیں اور لوگوں کو تبدیلی مذہب کے لئے اکساتے ہیں۔ادھر مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس نے ڈاکٹر نائیک کے فاؤنڈیشن پر ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس کا حکومت کا مطالعہ کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ کل ہی ممبئی کے ناگپاڑہ پولیس تھانے میں بھی ڈاکٹر ذاکر نائک کے گیسٹ ریلیشن افسر عرشی قریشی کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی جانچ کرائم برانچ کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز وزارت داخلہ نے بھی آئی اے آر ایف کو نوٹس بھیج کر 30 دنوں میں جواب مانگا ہے۔ وزرات داخلہ نے فاؤنڈیشن پر غیر ملکی چندہ کا سیاسی اور شدت پسندی پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے ۔