کسانوں کو بروقت فصلوں کا معاوضہ دیا جائے: شویتا

01:32PM Thu 13 Dec, 2018

ہاسن:13؍دسمبر (سالارنیوز) ضلع میں سیلاب اور قحط سالی کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئی ہیں، جن کا مکمل سروے کروانا ضروری ہے۔ جلد از جلد مکمل سروے اور تحقیق کرانے کے بعد انشورنس اور معاوضہ کی رقم دلانے کیلئے پوری ایمانداری کے ساتھ کوشش کی جانی چاہئے۔ یہ ہدایت ضلع پنچایت صدر بی ایس شویتا نے محکمہ زراعت و باغبانی کے افسروں کو دی۔ ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں منعقدہ ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبوں کے صد فیصد مقررہ وقت سے قبل مستحقین تک پہنچانے کیلئے تمام محکموں کو ذمہ داری کے ساتھ کام انجام دینا ہوگا۔ فصل بیما کی رقم تمام کسانوں کو ملنی چاہئے، ارسیکرے اور چن رائے پٹن تعلقہ میں قحط سالی کے سبب تباہ ہوئے تقریباً 14 لاکھ ناریل کے درختوں کیلئے مقرر شدہ 60 کروڑ روپئے کے معاوضہ کی رقم فوری تقسیم کی جائے۔ضلع پنچایت صدر نے کہا کہ تمام تعلقوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ کے لئے زیادہ تعداد میں کرشی ہونڈا کی تعمیر کر کے اس کے اطراف باڑھ لگائی جائے۔ شویتا نے مزید کہا کہ مختلف محکموں کی جانب سے نئے کاموں کے آغاز اور سڑکوں وغیرہ کی توسیع و مرمت کی سنگ بنیاد تقریب اور افتتاحی پروگراموں میں اکثر پروٹوکال کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس بارے میں سرکاری افسر خصوصی توجہ دیں۔ مقامی بلدیات اداروں کے پروگراموں کی ترقی سے متعلق تفصیل پیش کی جائے۔ بے گھر افراد کیلئے گھر فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ضلع پنچایت چیف ایگزی کیٹیو آفسر پٹا سوامی نے کہا کہ مہاتما گاندھی قومی روزگار گیارنٹی منصوبے کے تحت بہت سارا فنڈ موجود ہے۔ زراعت، باغبانی، جنگلات، ریشم سمیت مختلف محکمے اس منصوبے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ محکمہ مویشی پالن میں بیرونی ٹھیکہ کی بنیاد پر مقرر شدہ 114 افراد پر مشتمل عملے کو بغیرکسی سبب کے کام سے نکال دیا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ ان افراد کو دوبارہ کام پر لینے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ سی ای او نے کہا کہ ایچ 1- این 1- منہ اور کھر کی بیماری کے تعلق سے بیداری لائی جانی چاہئے اور قبل از وقت اقدامات کئے جانے جاہئیں۔علاقہ میں پینے کے پانی اور مویشیوں کے چارہ کی قلت کا اندیشہ ظاہر کیا گیاہے۔ اس لئے قبل از وقت ان حالات سے نمٹنے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ ایسا انتظام کیا جانا بہت ضروری ہے کہ مستقبل میں پانی اور چارہ کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ قبل از وقت اقدامات کے تحت چار بینکس قائم کئے جائیں۔ضلع پنچایت صدر نے محکمہ صحت وخاندانی بہبود کے افسروں کو ہدایت دی کہ ضلع میں محکمۂ صحت کی خدمات میں مزید سدھار لانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں آنے والی حاملہ خواتین کو زچگی کے لئے پرائیویٹ اسپتال روانہ کئے جانے کی شکایتیں عام ہیں۔ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں کو یہ روایت بدلنی ہوگی اس معاملہ میں لاپروائی برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسم گرما میں پینے کے پانی کی سربراہی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ منظور شدہ تعمیری کاموں کو اندرون دو ماہ مکمل کیا جائے۔ سی ای او پٹا سوامی نے کہا کہ ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی سربراہی کے نظام کو ختم کریں اور مستقل منصوبہ تیار کر کے کامیابی کے ساتھ اس کے نفاذ کے لئے جدوجہد کریں۔ ضلع میں اس مرتبہ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی سال دوم کے نتائج میں ضلع کوبہتر مقام دلانے کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ اس کے لئے امتحان سے قبل اسپشیل کلاسس کا اہتمام اور طلبہ کے لئے تربیتی کارگاہوں کا انعقاد کیا جائے۔ ماہر اساتذہ کے ذریعہ بچوں کو تعلیم دی جائے۔ اس اجلاس میں ضلع پنچایت اسٹانڈنگ کمیٹی کی چیر پرسن ممتا رمیش، کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے رکن دنیش، چیف پلاننگ آفیسر پریا سوامی سمیت دیگر شریک تھے۔