سی جے آئی نے سپریم کورٹ کے دو افسروں کو کیا برخاست، انل امبانی سے منسلک معاملہ کے آرڈر سے کی تھی چھیڑ چھاڑ

02:02PM Thu 14 Feb, 2019

عدالت کی توہین کو لے کر ریلائنس کمیونکیشنز کے چئیرمین انل امبانی پر سپریم کورٹ کے ایک آرڈر سے چھیڑ چھاڑ میں ملوث دو افسران کو چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے برخاست کر دیا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو معاون رجسٹراروں نے آرڈر کی کاپی سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ سی جے آئی نے بدھ کو دونوں حکام کو برخاست کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس معاملہ کی شکایت جسٹس روہنگٹن ایف نریمن نے کی تھی۔ وہ انل امبانی کے خلاف ہتک عزت کے معاملہ کی سماعت کر رہے تھے۔ جسٹس نریمن نے شکایت کی تھی کہ حکام نے ان کے بیان کو شامل کئے بغیر آرڈر کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا۔ معاملہ کی جانچ میں دونوں افسران قصوروار پائے گئے۔
 آئین کے آرٹیکل 311 اور دفعہ 11(13) کے تحت سی جے آئی کے پاس خصوصی اختیار ہوتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں کسی بھی ملازم کو بغیر کسی تادیبی کارروائی کے برخاست کر سکتے ہیں۔ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سی جے آئی نے دونوں افسران کو برخاست کر دیا۔سپریم کورٹ میں انڈرٹیکنگ دینے کے بعد بھی انل امبانی نے ایریکسن انڈیا کا قرض ادا نہیں کیا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے انہیں ہتک عزت کا نوٹس بھیجا تھا۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر 7 جنوری کو جو آرڈر اپ لوڈ کیا گیا اس میں لکھا ہے کہ مبینہ ملزم کی ذاتی طور پر حاضری لازمی نہیں ہے۔ جبکہ قانون یہ ہے کہ جس بھی شخص کے خلاف عدالت ہتک عزت کا نوٹس بھیجتی ہے اسے ایک بار عدالت میں پیش ہو کر بعد کی تاریخوں میں پیشی نہیں ہونے کے لئے اجازت لینا ہوتی ہے۔ جسٹس نریمن نے یہ واضح کیا تھا کہ امبانی کی حاضری لازمی ہے۔