شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل
07:26PM Thu 22 Aug, 2013
رطانیہ، فرانس اور ترکی سمیت چھتیس ممالک نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت پر سخت عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
شام میں بدھ کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں شامی حزبِ اختلاف کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت دمشق کے نواح میں اس مقام تک رسائی دی جائے جہاں پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
کلِک’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘
کلِک’کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں ہلاک‘
کلِک’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مزید واقعات‘
فرانس کے وزیرِ خارجہ لورنٹ فیبیس کا کہنا ہے کہ اگر حملہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا ’طاقت سے ردعمل‘ ہونا چاہیے۔
وزیرِ خارجہ نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ ’اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ کے معائنہ کار اس وقت وہاں موجود ہیں‘۔
انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ’طاقت‘ کا کیا مطلب ہے لیکن یہ بتایا کہ شام میں فوجی مداخلت کا امکان نہیں ہے‘۔
ابھی تک ایسا کوئی امکان نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جائے وقوعہ تک رسائی دی جائے گی۔
برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق’برطانیہ سمیت چھتیس ممالک نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے تحریری طور مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ فوری توجہ چاہتا ہے اس لیے شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے ہی اس معاملے کی تحقیقات کریں‘۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ نے بھی کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔’ تمام سرخ لائنوں کو عبور کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے‘۔
BBC URDU