مسلمان صرف اللہ سے ڈرتا ہے: روشن بیگ

01:17PM Fri 5 May, 2017

کولار(بھٹکلیس نیوز) اس وقت ملک کے حالات خاص کر مسلمانوں کے لئے بڑے پریشان کن رہے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت لے کر دادری میں اخلاق کے قتل تک ہی نہیں یہ سلسلہ بہت آگے تک جائے گا۔ لیکن مسلمان صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ ’’ایسے ظالم اور جابر حکومتیں آتی اور جاتی ہیں۔ لیکن مسلمان اس ملک میں سکیولرزم پر یقین رکھتے ہوئے اپنے مذہبی اصول کے دائرے میں رہ کر امن و امان کے ساتھ زندگی گذار نا چاہتا ہے۔ کولار کے رنگ مندرہ میں متولی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے حض و شہری ترقی جناب آر ، روشن بیگ نے کہا کہ مسلمان اس کا ہمیشہ سے وفادار رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے ہمارے دو فوجی جوان بڑی ہی بربریت سے سرحد پر قتل کردیا ۔ اور ان کی لاشوں کو مسخ کر دیا ہم تمام ہندوستانی مسلمان اس واقع کی سخت مذمت کرتے ہیں آزادی کی خاطر ہمارے علماء کرام ہزاروں کی تعداد میں اپنی جونوں کو قربان کیا ہے۔ تب کہیں جا کر آزادی حاصل ہوئی ،خوش قسمتی سے ہمارے ریاست میں سکیولر جماعت کی حکومت ہے۔ ہمارے وزیر اعلی بھی اقلیت نواز ہیں ، جنہوں نے ٹیپو سلطان جینتی کا سرکاری طور پر اعلان کر کہ مسلمانوں کا ہی نہیں ہر سکیولر ذہین فرد کا دل جیت لیا۔ حج ہاوس کی تعمیر میں بھر پور تعاون دیا ہے۔ ہندوستان بھر کی ریاستوں سے بڑ کر اقلیتوں کے لئے کرناٹک میں بجٹ میں کئی گناہ اضافہ کیا تا کہ ہمارے بچوں کو خصوصی تعلیم میں سہولیات ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ کولار ضلع کی ترقی کے لئے اور شہر کولار کی ترقی اور پانی کی سربراہی کے لئے جہاں تک ہوسکے امداد دی جائے گی۔ اس ضمن میں سابق مرکزی وزیر کے ہچ، منی اپا ، کوڈا کے چیرمن عطا ء اللہ خان ، پرساد بابو کو بتگایا کہ کبھی بھی آپ اُن کی خدمات لے سکتے ہیں۔ اس موقع پر کے ہچ، منی اپا، نے بتایا کہ یہ ملک سکیولر ملک ہے۔ مرحوم عزیز سیٹھ کو میں اپنا سیاسی استاد مانتا ہوں ۔ اس ضلع سے میں نے سات بار کامیابی حاصل کی ہے اس کا کامیابی میں ہمیشہ ہر بار مسلمانوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ہمارے ضلع میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے انہوں نے بتایا کہ اپنے یم پی فنڈ سے عید گاہ کی حصار بندی ،قبرستانوں کی حصٓار بندی، اسکولوں کی تعمیر کے لئے مالی امداد کی ہے۔ کولار میں اقلیتی لڑکیوں کے لئے ایک ہاسٹل ہونا چاہئے اور رہائش اسکول بھی ضروری ہیں۔ مولانا آزاد فونڈیشن کے تحت ہاسٹل اور اسکول کی تعمیر کے لئے ضلع کمشنر کو جگہ فراہم کرنے اور جلد از جلد اسکول اور ہاسٹل کی تعمیر کرنے کی ہدایت دونگا۔ ضلع کولار کے مسلمانوں کو ہمیشہ سے مجھ پر اور میری پارٹی پر بھروسہ ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی یہاں کے مسلمانوں نے اکثریت کے ساتھ ووٹ دئے کر کامیاب کرایا ہے تو خاص کر آلو نثار احمد مرحوم نے بہت ساتھ دیا۔ تنویر سیٹھ وزیر برائے اوقاف ،ثانوی تعلیم نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ وقف مشاورتی کمیٹی نے کم وقت میں اس کانفرنس کا انعقاد کر کے یہ ثابت کر دیا کہ شہر کولار کی سرزمین متحریک افراد سے بھری پڑی ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کانفرنس بڑی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5960قبرستان ہیں جن میں سے 1470 قبرستان کی حصار بندی کے لئے فنڈس جاری کردیا گیا ہے۔ جن 211 عید گاہیں بھی ہیں۔ 85کروڑ جاری کئے گئے ہیں۔ ریاست کے ہر تعلقات میں شادی محلوں کی تعمیر کے لئے بھی رقم جاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1919میںآزادی کی تحریک شروع ہوئی ہمارے اسلاف کی قربانیاں جس سے آج نوجوان نسل واقف نہیں ہے ہمارے بچوں کو آگاہی ہونی چاہئے۔ اس ملک کا مسلمان محمد علی جناح کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کیا ۔ بلکہ ہماتما گاندھی کی قیادت میں آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا ۔ اس ملک کے لئے اپنی جانیں قربان کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کو چاہئے کہ سکیولر ذہن لوگوں کے ساتھ رشتہ بنائے رکھیں۔ انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس ملک کو ہندوتوا کے ایجنڈے پر چلانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ نیپال جیسا ایک چھوٹا ملک ہندوتواا کی بنیاد پر ٹک سکتا ہے۔ جب کہ کثیر تعداد میں کئی ذاتوں پر مشتمل ہندوستان ہندوراشٹرا کیو ں نہیں بن سکتا ؟ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے شاندار مستقبل کے لئے حصول تعلیم پر توجہ دیں۔ اُن کے کردار کو پاک و صاف وشفاف بنائیں۔ جس سے قوم و ملک کا نام ہو۔ اس اجلاس سے مالوں کے یم یل اے منجوناتھ گوڈا نے بھی خطاب کیا۔ کئی سیاسی لیڈرن اور متولیاں بھی اس اجلاس میں شریک رہے۔ سابق وزیر نثار احمد ، وائی سعید صاحب، کے یم ڈی سی کے چیر مین عبدالغفور صاحب ،مدبر آحمد ، عابد اسلم، عبدالقیوم، سابقہ چیر من کولار ضلع وقف بورڈ، مزمل ، یونس اور دیگر سی آر پی او صاحبان، جناب کے یم ضمیر احمد ، صدر انجمن اسلامیہ کولار، عطا اللہ خان، کے ڈی اے چیر مین، پرساد بابو کونسلر، مہالکشمی پرساد ، صدر بلدیہ، سجاد دولا، افروز پاشاہ کونسلر، پیارے جان ، ایوب خان، سابقہ متولی شہید نگر، صادق پاشاہ، وغیرہ لیڈران اس جلسہ میں شریک رہے جب کہ حذب روایت مقامی یم یل اے ورتور پرکاش ملت کے اس جلسہ میں غیر حاضر رہے۔ قرات پاک مولانا سعید الرحمٰن نے سناکر جلسہ کا آغاز کیا، نعت شریف منور تمیز نے پیش کی، اور استقبالیہ تقریر ڈسٹرکٹ وقف چیر من محمد اقبال نے کی اس اجلاس میں خاص بات یہ رہی کہ جناب اعظم شاہد نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ شاہ ابوالحسن کے شکریہ کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔ اردو گھر کے سنگ بنیاد سروے نمبر 7میں رکھا جانا تھا جو ووقف کی جائداد ہے۔ چند تکنیکی وجوہات سے یہ رسم رنگ مندرہ میں ہی ادا کردی گئی۔ مستقبل میں تمام دشواریون کو دور کرتے ہوئے سروے نمبر 7عظمت اللہ شاہ مکان میں ’’اردو گھر ‘‘ تعمیر ہوگا۔