ہندو راشٹربنانی کے کھیل میں اقتدار کے بھوکے سیاست داں بھی شامل؟

01:13PM Sat 25 Mar, 2017

سہارنپور ۔(بھٹکلیس نیوز) جائزہ احمد رضا) ملک میں مسلم ووٹ پاکر گزشتہ ۶۸ سالوں سے یہاں پھل پھول رہی سیاسی جماعتوں نے آج خد کو اس قدر مضبوط کی غلامی اور حمایت کرتے کرتے آج مسلم قوم کی تیسری نسل کا مستقبل ہم سبھی کے سامنے ہے ہماری قوم میں سیاست کے غازیوں اور گفتار کے غازیوں کی لمبی فوج ہر سیاسی جماعت کے ساتھ اس اسمبلی الیکشن میں بھی پہلے ہی کی مانند ساتھ ساتھ ہے مگر گزشتہ سرکاروں اور موجودہ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے بنوانے میں تعاون کرنے اور کرانیکا نتیجہ ہم سبھی کے سامنے موجودہے کہ گزشتہ ۶۸ سالوں سے ملک میں ۲۰ کروڑ مسلم آبادی دو فیصد آئی اے ایس، آئی پی ایس اور فرسٹ کلاس افسر یاجج بھی پیدا نہی کر سکی جبکہ دیگر فرقوں میں یہ تعداد انکی آبادی کے لحاظ سے ہر صورت کہیں زیادہ ہی نہی بلکہ دس سے تیس فیصد تک ہے جبکہ جوش اور خود غرضی میں مست مسلم طبقہ ہر میدان میں بری طرح سے پچھڑتا جارہاہے سماجوادی پارٹی، لوکدل، کانگریس،عام آدمی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی دریاں بچھانے اور انکے نعرے لگانے میں ہماری حصداری ۷۰ فیصد سے بھی زیادہ بڑھتی جارہی ہے مگراسکے بعد بھی ہماری حصہ داراعلیٰ سرکاری عہدوں پر صفر سے ایک فیصد ہی ہے جو بیس کروڑ مسلم اقوام کیلئے لمحہٗ فکر و ندامت ہی ہے ؟ آخر ہماری قوم کے ساتھ ایسا سوتیلا برتاؤ کیوں ہوتا آرہاہے اور اسکے لئے قوم کیرہبر اور سیکولر سیاسی جماعتیں دونو ہی برابر کی ذمہ دار ہے یہ ایک اہم سوال ہے اپنی پستی کو دیکھ تے ہوئے ہماری نئی نسل قوم کے رہبروں سے اس سوال کا جواب مانگتی ہے ۔ مندرجہ بالا اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کل دیر شام پریس سے روبرو ہوتے ہوئے پچھڑا سماج تحریک کے سربراہ اور سوشل قائد بھائی احسان ملک نے کہاہیکہ غیر بھاجپائی مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی ملی بھگت نے اپنے اپنے دور اقتدار میں رونما ہونے والے فسادات کے نتائج نے گزشتہ ۶۸ سالوں سے اس پسماندہ، پچھڑے اور مظلوم مسلم سماج کو معاشی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی لحاظ سے ایک صدی پیچھے کر د یا گیاہے ؟ موقع پرست ، فرقہ پرست اور اقتدار کے بھوکے قائدین اور سیاست دانوں کا ملک کے وطن پرست بیس کروڑ مسلمانوں کے ساتھ اندرونی سطح پرسیاسی، سماجی اور اخلاقی اختلاف لگاتار بڑھتا ہی جا رہا ہے جو حکومتیں گزشتہ پچاس سالوں سے مسلمانوں کا ہمدرد ہونے کا دم بھرتی رہی ہیں انہی سیاسی جماعتوں نے ایک خاص پلاننگ کے تحت مرکز اور ریاست میں بر سر اقتدار آجانے کے بعد اس قوم کا استحصال کرنا اور قوم کو پست کرانا اپنا فرض اول سمجھا اور سمجھتی بھی رہی ہیں اور انہی کانگریس، سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹیوں نے ہمیشہ ہی اس قوم کا تانا بانا بکھیر نے کاشرمناک عملی کام انجام دیکر فرقہ پرستوں کو ہر قدم پر تقویت پہنچاتی ہیں! افسوس کی بات ہے کہ دستور ہند کی پابند مرکزی سرکار اور صوبائی سرکاریں بھلا کس سازش یا مصلحت کے تحت مسلمانوں کا بیوقوف بنانے میں مصروف سیاست دانوں کی اقلیت دشمن پالیسی اور سوچ پر چپ رہتی ہیں ہاں اگر آپ غورکریں تو پچھلے ۶۸ سالوں میں مرکز اور یوپی میں تینوں سرکاروں کی کارکردگی اقلیتیوں کے لئے اطمینان بخش نہیں رہی ہے صرف ووٹ کے لئے ہی لمبے عرصہ سے ملک بھر میں اقلیتوں کو بہکا یا اور اپنے سیاسی مفاد کیلئے ہی استعمال کیا جا رہا ہے مسلمانوں کو ملک میں فرقہ پرستی اور سرکارمشینری کی تنگ نظری کا خوف دکھایا جاتا ہے تاکہ مسلم طبقہ اپنے بنیادی مسائلسے دور رہے اور بللوجہ کی بری صورت حال سے جوجھتارہے اور ہمیشہ کی مانند مستقبل میں اسی طرح کی بے سود الجھنوں سے الجھتاہی رہے کوئی بھی سیاسی قائد ۱۹۵۲ سے مسلم قوم کیلئے رحمت نہی بن سکا سبھی نے قوم کا خون ہی چوساہےْ قابل غور بات ہے کہ دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل ریز رویشن میں شامل کرنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ۲۰۰۴ سے چل رہا ہے لیکن مرکزی حکومت اسے کس سنجیدگی کے ساتھ لیتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی حکومت (کانگریسی سرکار)نے لگاتار دس سالوں تک جبکہ اب مرکز میں قائم لگاتار تین سالوں سے بھاجپا کی سرکار نے بھی ابھی تک بھی اس اہم مقدمہ میں اپنی جانب سے سپریم کورٹ میں اپنا رخ( نظریہ ) واضع کیاجاناتودور اپناجوا ب تک بھی داخل نہیں کیا ہے جبکہ دس سالوں تک کانگریس اور تین سالوں سے بھاجپا کی سرکار راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں یہ کہ کر گمراہ کرتی آرہی ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ہماری بیان بازی یا رائے درست نہی ہوگی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکار اس حساس مسئلہ کو خود حل کرنا ہی نہیں چاہتی ہے عالم بھر میں رنگا ناتھ مشراکمیشن اور سچر کمیٹی کی رپورٹوں کی چرچائیں گشت کر رہی ہیں سچر کمیٹی کے مطابق مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے مگر سدھار کیلئے کچھ بھی تدابیر ابھی تک بھی سامنے نہی لائی گئی ہیعلاوہ ازیں ملک کا ہر دانشور جانتا ہے سرکار جب آئین کی دفعہ ۳۴۱ ؍ میں سکھوں و بدھوں کو ان کے پچھڑے پن کی وجہ سے جوڑ سکتی ہے تو مسلمانوں اور عیسائیوں کو جوڑنے میں کیا ا ڑ چن ہے؟ مسلمانوں کا بنیادی مطالبہ رنگ ناتھ مشر ا کمیشن اور سچر کمیٹی کی رپورٹوں اور سفارشات کے نفاذکا ہے ملک کے عظیم سوشل رکن اور بہت سے تنظیموں کے سرپرست جناب احسان الحق ملک اس بابت گزشتہ دس سالوں سے لگاتار جدو جہد کر رہے ہیں جناب احسان الحق ملک کا کہنا ہے کہ انکی تنظیم پچھڑا سماج مہا سبھا یہ چاہتی ہے کہ مرکزی سرکار جلد از جلد رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرے اورمسلمانوں کوبیوقوف بنانا چھوڑ دے ملک میں۶۸ سالوں سے دلتوں کو آرکشن اور پھر نوکریوں میں آرکشن دیکر دلتوں کو اپر کلاس سے بھی بہتر رہن سہن عطا کرنے والی مرکزی سرکار ہے مگر مرکزی سرکار دلتوں سے بھی بد تر زندگی گزار رہے مسلمانوں کے رہن سہن کو اونچا اٹھانے کے لئے زرہ برابر بھی سنجیدہ نہیں ہے پورے ملک میں رزرویشن اور رزرویشن میں پرموشن کے ایشو کو لیکر ایککہرام مچا ہے مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاریں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔ اسی بیچ ایک خاص سوچ نے متحد ہوکر بڑی عیاری کیساتھ بہوجن سماج پارٹی ، سماجوادی پارٹی، کانگریس اور بھاجپا کو ساتھ لیکر ایسا ناٹک تیار کیا کہ رزرویشن میں بھی پرموشن کی مانگ مان لیگئی اور مسلمان بیس کروڑ ہونیپر بھی ٹھگا کا ٹھگاہی رہگیا گہری اور دور کی فکر رکھنے والے موقع پرست سیاست داں اس ایشو پر بھی کامیاب ہوگئے ؟ گزشتہ لوک سبھامیں موقع پرستی پر مبنی سیاسی جماعتوں کا مندرجہ بالا تماشہ دیکھ کر پورا ملک حیرت زدہ رہ گیا آج چاروں جانب اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کی جیت پر یہی جماعتیں زمین کھسکنے پر کوما کی پوزیشن میں ہیں مگر مسلمانوں کو بھاجپاکے خلاف ابھی بھی بھڑ کانے سے باز نہی آرہی ہیں؟