پرائمری تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کیلئے محکمہ کے افسران ہی ذمہ دار!
04:42AM Wed 19 Apr, 2017
سہارنپور (احمد رضا) گزشتہ تعلیمی سیشن میں بھی سرکاری امداد سے چلنے والے پریشد کے تمام پرائمری اور جونیئر ہائی اسکولوں کے علاوہ کستور با گاندھی کنیا ودھالیوں اور سرو سکشا مشن کے تمام اداروں کے تعلیمی سیشن کانتیجہ دکھ دینے والاہی رہاہے اور رواں سال کے تعلیمی سیشن کا بھی حال پچھلے سال کی طرح ہی دکھائی پڑ رہاہے ان اداروں میں بہتر نظام اور ڈسپلن کی کمی کے علاوہ تعلیمی معیار بھی کافی نچلی سطح کاہی قائم ہے اسی لئے حد سے زائد خرچ اور تشہیر کے بعد بھی ان سرکاری اداروں میں بچوں کی تعداد بڑھنے کی بجائے دن بہ دن گھٹتی ہی جارہی ہے ریاستی حکام اس کمی کو سنجیدگی سے نہی لے رہیہیں جو ایک بڑی لاپرواہی ہے! اب ریاست میں بھاجپاکی نئی سرکار وجود میں آئی ہے تعلیم کے سدھا اور معیار کے تئیں نئی سرکار کے سخت احکامات کے بعد بھی بیسک تعلیمی نظام محکمہ کے ملازمین اور چند افسران کی مفاد پرستی کے نتیجہ میں کچھ بہتر ہوتا نظر نہی آرہاہے جبکہ اسکے برعکس پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں اور بچیوں نے ہر میدان پر کمال دکھایاہے سرکار کچھ بھی کہے مگر یہ کڑواسچ ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری امداد کے بغیر چلنے والے پرائمری تعلیمی ادارے اور ان میں پڑھنے والے بچہ ہر میدان میں کافی بہتر ہیں؟ مرکزی اور صوبائی سرکار کے بجٹ سے ریاست کے ویسٹ اضلاع میں چلنے والے سرکاری پرائمری تعلیمی اداروں اور پریشد کے ہزاروں پرائمری اور جونیئر ہائی اسکولوں ہر رواں سال کروڑوں کی رقم سرکار کی جانب سے صرف کئے جانیکے بعد بھی ریاست کے ہزاروں پرائمری اور جونیئر ہائی اسکولوں میں تعلیم کے نام پر مذاق ہو رہا ہے کوئی دیکھنے اور سننے والا نہیں لاکھوں صرفہ کئے جانیکے باوجود ان اسکولوں میں گزشتہ۲۵ سالوں سے بچوں کی تعداد بھی نہی بڑھ پائی ہے اب نیا تعلیمی سیشن شروع ہورہاہے ابھی بھی حالات گزشتہ سال کی طرح ہی بنے ہوئے ہیں محکمہ کے افسران، ملازمین، اساتذہ اور علاقائی رہبر ملت بھی تعلیمی بیداری کے حساس معاملہ میں نئی نسل کے سنہرے مستقبل کی فکر کو چھوڑ کربے خبر بیٹھے ہیں؟ سیکڑوں گاؤں او ر شہری علاقوں کے ذمہ دارلو گو ں نے مندرجہ بالا خامیوں پر مرکزی سرکار اور صوبائی سرکارکو گزشتہ ۲۰ سالوں کے دوران سیکڑوں شکایتیں بھیجی مگر ریاستی سرکار اور محکمہ تعلیم افسران نے جانچ انہیں افسران کے ذریعہ کرائی کہ جن کے خلاف شکایت تھی جانچ افسر سے اپنی رپورٹ از خد محکمہ کے فیور میں لکھ کر صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کو واپس لوٹا دی اور جانچ مکمل ہوگئی شکایت کرنے والے ذہ دار افراد کو ایک پل میں بد عنوانی کرنے والے بیخوف افسران سے جھوٹا ثابت کر دکھایا ؟ مرکزی اور صوبائی سرکار کے بجٹ سے چلنے والے ہمارے ان پرائمری اور پریشد کے اسکولوں میں تعلیم کے نام پر مذاق ہو رہا ہے کوئی تعلیم کا معیار یہاں نظر نہیں آتا ہے بس ہر کام میں کمیشن ( رشوت) کارواج عام ہے !جہاں تک مرکزی سرکار کے سرو شکشا ابھیان کا معاملہ ہے تو یہ کام بھی گزشتہ ۲۵ سالوں سے کاغذوں میں ہی پھل اور پھول رہا ہے یہاں تعلیم کا معیار بہت پست اور ناقابل بیان ہے ان تعلیمی اداروں کی عمارتیں بوسیدہ اور خستہ حال ہیں اسکولوں کے چاروں جانب گندگی کی بہتات ہے صفائی کے نام پر اور پانی کے نام پر یہاں بیماریوں کو زور ہے ۔ کل ملاکر روز با روز حالت تعلیم کے میدان میں ہمارے غریب بچوں کی بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ سرکاریں یہ چینخ چینخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارا دیش تعلیم کے میدان میں بہت آگے جا رہا ہے ؟قابل شرم معاملہ ہے مرکزی سرکار کے زریعہ ضلع وار چلنے والے کستوربہ گاندھی کنیہ ودھیالیوں کا کہ ان کنیہ ودھیالیوں کے نام پر مرکزی سرکار گزشتہ لمبے عرصہ سے جو اربوں روپیہ بجٹ کی شکل میں صوبائی سرکار کو دے رہی ہے اس کا فیض لڑکیوں کو کسی بھی صورت میں نہیں پہنچ رہا ہے ان لڑکیوں کو پڑھانے والے جو ٹیچر محکمہ نے تعینات کر رکھے ہیں ان ٹیچروں سے بھی ہر سال بھاری رشوت محکمہ وصول کر رہا ہے یعنی کے جو تنخواہ انسے طے ہے اس طے شدہ تنخواہ سے ایک ماہ کی رقم بطور رشوت پہلے وصول کیجاتی ہے پھر ان ٹیچرس کی تنخواہ پاس کی جاتی ہے ۔ کستوربہ گاندھی کنیہ ودھیالیوں میں لڑکیوں کو ملنے والی اشیاء جیسے دودھ، کھانہ، ناشتہ صابن ، تیل ، اسکالر شپ، تولیہ ، اورکتابیں میں بھی اسکول کے ذمہ دار بھاری کٹوتی ہر ماہ کرکے بچوں کو روزانہ ناشتہ میں دودھ کی جگہ پانی ملا پاؤڈر اور کھانے میں ڈپو سے جاری کیا ہوا گلا سڑا راشن مہیہ کرا رہے ہیں جو اپنے آپ میں ایک بڑا جرم ہے ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ صوبائی کو تعلیم کے لئے اور تعلیم کے معیار کو سدھارنے کے لئے مرکزی سرکار ہر سال جو بجٹ بھیجتی ہے اس بجٹ کے خرچ ہونے کی زمینی حقیقت مرکزی سرکار نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ کل ملا کر مرکزی سرکار کے افسر اور سیاست داں صوبائی سرکار کے سیاست دانوں اور افسران سے ملکر ہر سال تعلیم کے نا م پر ملنے والی اربوں روپیوں کی اس رقم کو خرد برد کرکے اپنا بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں اگر حق پر مبنی کسی ایجنسی سے اس بندر بانٹ کی جانچ کرائی جائے تو سچائی خدبہ خد عوام کے سامنے آہی جائے گی !سچائی بھی یہی ہے کہ ریاست میں گزشتہ۲۵ سالوں سے زیادہ تر سرکاری پرائمری اسکولوں میں تعلیم کے نام پر مذاق ہو رہا ہے کوئی دیکھنے اور سننے والا نہیں ویسے بھی ان اسکولوں کی پڑھائی، تعلیمی معیار، ڈسپلن ، زیر تعلیم بچوں کی نالج اور زیادہ تر ایسے اسکولوں کی بلڈنگ وغیرہ از خد اپنا حال بیان کرنے کے لئے کافی ہیں ؟ ہمارا کھلا چلنج ہے کہ مرکزی سرکار یا پھر ریاستی سرکار کے کسی اعلیٰ سیاست داں کا ضمیر اگر گوارہ کرے تو ہماری خبر پر کسی بھی وقت آ کر ان اسکولوں کا اچانک معائنہ کرے اور یہاں کی خامیوں کو اور بندربانٹ کو بھری پریس کے سامنے اُجاگر کرتے ہوئے اس معاملہ میں شامل سبھی چھوٹے بڑے ذمہ داران افسران اور سیاست دانوں کے خلاف فوجداری کے مقدمات قائم کرنے کا اعلان کرے تاکہ۲۰۱۹ لوک سبھا الیکشن سے قبل تعلیمی میدان میں مرکز اور ریاستی سرکاری مشینری کے ذریعہ گزشتہ ۲۵ سالوں سے کیجارہی عمدہ کارکردگی کی حقیقت عوام کے سامنے ظاہر ہو جائیگی علاوہ ازیں اس طرح کی جانچ سے فائدہ یہ ہوگا کہ مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ صوبائی سرکار کو بھی اپنی کارکردگی اور پرائمری سطح کے گرتے ہوئے تعلیمی معیارپر پھر سے غور کرنے کا موقع بھی ملیگا ایسے ہی آنکھیں بند کرکے تعلیمی سدھار کیلئے بجٹ جاری کرنا دہلی اور لکھنؤ کے اے سی آفسوں میں بیٹھ کر بیان بازی کرنا اور یہ کہنا کہ ملک ساکشر( تعلیم یافتہ) بن رہا ہے سننے میں اور کہنے میں اچھا محسوس ہوتا ہے مگر اس جملہ کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ سارا بجٹ فضول میں خرچ ہو رہا ہے تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکول بالکل سطح پر ہیں جبکہ پرائیویٹ اور انگلش میڈیم اسکول جو کہ بغیر سرکاری تعاون کے اور عوامی سوسائٹی کے ذریعہ ہی چل رہے ہیں انکا تعلیمی معیار اور سالانہ نتیجہ ہمارے پریشد کے ان اسکولوں سے ستر ( ۷۰)گنا زیادہ بہتر ہے ہمارے ضلع میں پرائمری اسکولوں کی جو حالت ہے ہم اس کی سچائی اگر بیان کرنا شروع کریں تو لکھنے کے لئے دو روز درکار ہونگے اسکے علاوہ سینئر افسران بھی اس سچائی سے خوب واقف ہیں؟