سعودی عرب میں پہلی بار خاتون کونسلر منتخب
04:21PM Sun 13 Dec, 2015
بھٹکلیس نیوز / 13 دسمبر، 15
ریاض / (ایجنسی) سعودی عرب میں خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ ایک خاتون نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے میونسپل کونسل کی نشست حاصل کی ہے۔
سعودی عرب کے انتخابی کمیشن کے مطابق سلمیٰ بن حزاب العتیبی نے سنیچر کو ہونے والے انتخاب میں مکہ صوبے سے کامیابی حاصل کی۔اطلاعات کے مطابق مکہ کے علاوہ قاطف اور جدہ میں میں خاتون امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔یہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے انتخابات تھے جن میں خواتین کو نہ صرف ووٹ ڈالنے بلکے انتحاب لڑنے کا بھی کا حق دیا گیا تھا۔ اس اقدام کو قدامت پسند ریاست میں ایک سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی انتخابات میں 5938 مردوں کے ساتھ ساتھ 978 خواتین امیدواروں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔حکام کے مطابق ان انتخابات کے لیے ساڑھےے تیرہ لاکھ مردوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ 30 ہزار خواتین کے ووٹ رجسٹر کیے گئے تھے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووٹرز کی تعداد کے اس فرق کا ذمہ دار بیورو کریٹک رکاوٹوں اور ذرائع نقل و حمل کی کمی کو ٹھہرایا گیا۔
اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران خواتین امیدواروں کو براہِ راست مرد ووٹوں سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔انتخابی کمیشن کے صدر اسامہ البدر نے بتایا کہ سلمیٰ بن حزاب العتیبی نے مکہ کے علاقے مدرکہ سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا مقابلہ سات مردوں اور دو خواتین سے تھا۔سعودی عرب میں کسی بھی قسم کے انتخاب نایاب ہوتے ہیں۔ سنیچر کے انتخابات تاریخ میں محض تیسرا موقع ہے جب سعودی عرب میں کوئی انتخاب ہوا ہے۔
سنہ 1965 سے لے کر 2005 تک یہاں کسی قسم کا کوئی انتحاب نہیں ہوا۔خواتین کو شرکت کا موقع دینے کا فیصلہ شاہ عبداللہ کا تھا۔ انھوں نے اصلاحات میں اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین نے اپنا مقام دکھایا ہے اور صحیح آرا اور مشورے دیے ہیں۔جنوری میں انتقال سے قبل انھوں نے 30 خواتین کو اعلی ترین مشاورتی کونسل کا رکن بنایا تھا۔
سنیچر کے انتخابات میں کونسل کی 2100 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ جبکہ 1050 نشستوں پر شاہ کی منظوری سے تقرریاں کی گئی۔