مذہبی تعلیمات کی تشریح کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے

12:51PM Mon 23 Feb, 2015

بھٹکلیس نیوز/23فروری، 15 جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کا مکہ کانفرنس سے خطاب مصر کی معروف درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے شدت پسندی روکنے کے لیے، مذہبی تعلیمات کی تشریح کا طریقہ بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شیخ الازہر نے کہا ہے قرآن اور پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے متعلق، تاریخی ناسمجھی نے اسلام کی عدم برداشت پر مبنی تشریح کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے شہر مکہ میں ’اسلام اور دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے نام سے ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’شدت پسندی کی بنیادی وجوہات قرآن و سنت کی غلط تشریحات ہیں۔‘ شیخ احمد الطیب نے مذہبی برداشت کے فروغ کے لیے اسلامی تعلیمات کی تشریح کے انداز میں اصلاحات کی اپیل کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلم اُمہ کے لیے اتحاد بحال کرنے کا واحد راستہ، سکولوں اور جامعات کے اندر ایسی تشریح کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو دیگر مسلمانوں کو بے عقیدہ قرار دیتی ہیں۔ یاد رہے شیخ احمد الطیب دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اردن کے ایک پائلٹ کو زندہ جلا دیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کر چکے ہیں۔ اتوار کو شروع ہونے والی مکہ کانفرنس میں اُنھوں نے دولتِ اسلامیہ کا نام نہیں لیا البتہ اُنھوں نے دہشت گرد گروہوں کے متعلق بات کی جنہوں نے اُن کے بقول ظلم و بربریت کا راستہ اپنایا ہے۔ جامعہ الازہر کے خطیبِ اعلیٰ نے اپنے خطاب نے خطے میں عدم استحکام کی ذمہ دار ایک سازش کو قرار دیا جو بقول اُن کے صہیونیت کا ساتھ دینے والا نیا عالمی نوآبادیاتی نظام ہے۔ مکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ انتہا پسند مسلمان نہ صرف، مسلمانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں مذہب کا امیج خراب کر رہے ہیں۔ ع،ح،خ