صابر متی ایکسپریس بم دھماکہ معاملہ :

04:22PM Wed 26 Apr, 2017

سپریم کورٹ کا گلزار وانی مقدمہ کی سماعت چھہ ماہ میں مکمل کرنے کا حکم چیف جسٹس نے کی اتر پردیش حکومت کی سرزنش،عدالت عالیہ کے حکم سے وانی کی جلد رہائی کا امکان: مولانا ارشد مدنی نئی دہلی ،(بھٹکلیس نیوز)ملک کی مختلف جیلوں میں جوانی کے تقریباً 17سال گذار چکے پی ایچ ڈی کے ایک مسلم طالب علم کو ضمانت پر رہا کرنے سے متعلق عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے آج اتر پردیش حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ یا اس نوجوان سے متعلق مقدمہ کی سماعت چھہ ماہ کے اندر مکمل کی جائے ورنہ ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں استغاثہ کے کوئی دلائل نہیں سنے جائیں گے۔سپریم کورٹ میں یہ عرضداشت جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کی گئی تھی ۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی دو رکنی بینچ کے جسٹس جگدیش کہر اور جسٹس وائی ڈی چندر چوڑکے سامنے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی وکیل ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف نے کہا کہ ملزم گلزا ر احمد وانی کو31 اگست 2001 کو تحقیقاتی دستہ نے صابر متی ایکسپریس میں ہوئے بم دھماکہ معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات میں گرفتار کیا تھا لیکن ابھی تک اس مقدمہ کی سماعت اختتام کو نہیں پہنچی ہے نیز اس سے قبل بھی عدالت نے نچلی عدالت کو چھ ماہ کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے عدالت بتایا کہ اس معاملے میں گرفتار دو ملزمین محمد علی اور سید مبین کو 2001میں ہی ضمانت پر رہاکیا جا چکا ہے لیکن نچلی عدالت سے لے کر ہائی کورٹ تک نے گلزار احمد وانی کی ضمانت کی درخواست نا منظور کر دی ہے ، حالانکہ وانی پراتنے سنگین الزامات نہیں ہیں جتنے ضمانت پر رہا ہو چکے ملزمان پر استغاثہ نے عائد کئے تھے ۔دفاعی وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف کل 11 مقدمات قائم درج کئے گئے تھے ا س میں سے اب تک وہ 10میں باعزت بری ہوچکا ہے اورایک مقدمہ زیرسماعت ہے ۔چیف جسٹس کوبتایا گیا کہ گلزار وانی ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہے لیکن تحقیقاتی دستوں نے اسے جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرکے اس کی زندگی تباہ و برباد کردی ہے نیز ملزم کا تعلق کشمیر سے ہے لہذا اسے مزید نشانہ بنایا گیا ۔ اس پر چیف جسٹس نے ریاستی حکومت کی سرزنش کی اوراپنے حکم میں کہا کہ 31 اکتوبر 2017 تک ملزم کے مقدمہ کی سماعت مکمل ہو جانی چاہئے نہیں تو یکم نومبر2017 کو اسے ضمانت پر رہا کردیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ 14؍ ستمبر2000 کو ریلوے اسٹیشن روز گاؤں (یو پی) پر کھڑی ٹرین نمبر 9166 (صابرمتی ایکسپریس )میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافروں کو شدید چوٹیں آئیں تھیں جس کے بعد پولس نے نا معلوم لوگوں کے خلاف ’’زیرو ایف آئی آر‘‘ نمبر 148/2000درج کر کے تحقیقات شروع کی تھی ۔دوران تفتیش پولس نے چار ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں گلزار وانی بھی شامل ہے ۔ گلزار وانی کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آج کے حکم پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ حکم انصاف پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوناک بات ہے کہ کوئی شخص 17سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑا رہے اور اپنی جوانی گنوا دے اور ا سکے مقدمہ کا فیصلہ تک نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ انصاف دینے میں تاخیر اصل میں انصاف دینے سے انکار کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسے میں سپریم کورٹ کا چھ ماہ میں مقدمہ ختم کرنے کا ا لٹی میٹم دینا قابل ستائش ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ اب جلد ہی برسوں سے جیل میں قید گلزار وانی کو رہائی مل سکے گی۔