مسلم فورم نے حکومت کے ذریعہ سرجیکل اسٹرائک کو عام نہ کئے جانے کا خیر مقدم کیا
02:47PM Fri 7 Oct, 2016
سیاسی جماعتیں اور دانشور سرجیکل اسٹرائک پر سیاست نہ کریں : ڈاکٹر جسیم محمد
علی گڑھ07؍اکتوبر: ملک میں سرجیکل اسٹرائک پر پیدا ہونے والا تنازعہ اور بحث ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت اور فوج ملک کے تحفظ کے تعلق سے کیا اقدامات کرتی ہیں وہ صرف ان پر چھوڑ دینا چاہئے اور اس کو عام کئے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایف ایم ایس اے کے ڈائرکٹرڈاکٹر جسیم محمدنے مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پرفورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس(ایف ایم ایس سے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی افواج ملک کے تحفظ کے تئیں پُر عزم ہیں اور پوری جانفشانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے رہی ہیں اور ملک وخصوصی طور پرکشمیر سرحدپر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اس نے جو بھی کارروائی کی ہے اس پر وضاحت طلب کرنا مناسب نہیں ہے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ہمارے قومی حفاظتی صلاح کار مسٹر اجیت ڈوبھال وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں نہ صرف ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے بلکہ ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لئے پُرعزم اور کوشاں ہیں اور وہ اپنی کوششوں میں کامیاب بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے اور وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ بہتر روابط بنائے رکھنے کی کئی بار پہل کی لیکن پاکستان سرحد پار سے دہشت گردی کو فروغ دیتا رہتا ہے لہٰذا فوج نے اپنا کام کیا اور اب یہ ضروری نہیں ہے کہ اسے عام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سرجیکل اسٹرائک پر بے بنیاد اور ناپاک سیاست کر رہی ہیں جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جانی چاہئے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ کسی بھی ملک کی فوجی کارروائی یا ملک کی حفاظت کے تعلق سے کئے جانے والے اقدامات ایک عظیم راز ہوتے ہیں جنہیں عام کیا جانا ملک کے مفاد میں کسی بھی حالت میں نہیں ہوسکتا کیونکہ ملک دشمن طاقتیں ان کے عام ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاکر ملک و قوم کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔
پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ سیاسی اور فوجی کارروائی پر وزیرِ اعظم کو عالمی سطح پرمرتب ہونے والے اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوتاہے اس لئے حکومت اور فوج کے ہر کام کو عام نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر محمد شبیر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فوج نے خود دو درجن سے زائد ویڈیو فوٹیج جاری کئے ہیں اور اگر کسی کو ان پر اعتماد نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سیاسی جماعت یا سیاستداں کو فوج پر بھی اعتماد نہیں ہے جبکہ یہ صورتِ حال ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
ڈاکٹر آفتاب عالم نے کہا کہ سرجیکل ا سٹرائک یا کسی بھی فوجی کارروائی پر نہ تو سیاست ہونی چاہئے اور نہ ہی بحث کیونکہ اس سے ایک جانب ملک کی شبیہہ اثر انداز ہوتی ہے اور دوسری جانب فوج کا حوصلہ پست ہوتا ہے۔
میٹنگ کے آخر میں فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس نے وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی اور قومی حفاظتی صلاح کار مسٹر اجیت ڈوبھال کو کامیاب سرجیکل اسٹرائک پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے حکومت کے سرجیکل اسٹرائک کو عام نہ کئے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی تبصروں کی پرواہ نہ کرے۔ مسلم فورم نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سرجیکل اسٹرائک پر سیاست نہ کریں اور وزیرِ اعظم کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے فوج کی حوصلہ افزائی کریں۔
میٹنگ میں بڑی تعداد میں اساتذہ، دانشوروں اور سماجی کارکنان کے علاوہ خصوصی طور پر ڈاکٹر محمد فاروق، ڈاکٹر شیریں مسرور، ڈاکٹر دولت رام، ڈاکٹر کپل کمار راگھو، دیبا ابرار بھی موجود تھیں