ملک کے موجودہ حالات میں مولانا ابو الکلام آزاد کے نظریہ سیکولرزم اور ہندو مسلم اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت

03:34PM Thu 12 Nov, 2015

لک کے موجودہ حالات میں مولانا ابو الکلام آزاد کے نظریہ سیکولرزم اور ہندو مسلم اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے آج یہاں کانگریس بھون میں مولانا آزاد کے 128 ویں یوم پیدائش و یوم تعلیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمیر احمد صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ نے تقریب کی صدارت کی اس موقع پر ریاستی کانگریس کے ترجمان مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ آنے والی نسلوں کو ملک کے عظیم مجاہدین آزادی کے نظریات سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ مولانا آزاد کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد تحریک آزادی کے جدوجہد کے عظیم رہنما تھے۔ اگر جبکہ وہ مذہبی تعلیم سے واقف تھے لیکن انہوں نے شخصی طور پر اپنی کوششوں سے ھندی فارسی عزلی اُردو میں مہارت حاصل کی تھی اور وہ علوم جدید سے بھی واقف تھے اور آزادی کے تمام رہنما انہیں قدرومتزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے انہوں نے الہلال اور البلاغ کی اشاعت کرتے ہوئے صرف دو نکات ان کے مضامین میں شامل ہوئے تیھ جو ایک طرف سامراجی حکومت کے خلاف اور دوسری طرف ہندو مسلم اتحاد یکجہتی کے پیام کے حامل تھے انہوں نے اپنی تحریروں سے ہندوستانی عوام میں آزادی کی روح اور جذبہ بیدار کیا تھا ان کی حکمت عملی اور تحریروں سے انگریز پریشان رہا کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ بار بار جیل بھیج دئیے جاتے تھے صرف 35 سال کی عمر میں وہ آل انڈیا کانگریس کے صدر بے انتہائی تعلیمافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی تدبیر کے ذریعہ اپنے وجودکا لوہا منوایا تھا آزادی کے بعد بحیثیت وزیر تعلیم انہوں نے IIT اور UGC جیسے تعلیمی ادارے قائم کئے وہ ہمیشہ سیکولر اصولوں پر چلنے کی تعلیم دیتے تھے۔ انہوں نے اپیل کی کہ وہ ملک کے ان رہنماؤں کے افکار سے واقف کرانے کیلئے ہر ممکن کو شش اور جدوجہد کریں۔ طاہر بن حمد صدر ضلع کانگریس نے اپنی تقریر میں مولانا آزاد کی خدمات کوزبردست خراج عقیدت پیش کیا اور مولانا کو ایک عظیم مفکر و دانشور اور باعمل عالم قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک مولانا آزاد کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جو صورتحال پیش آرہی اس کے خلاف ہمیں دوبارہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دو یوم قبل نظام آباد میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی ہتک عزت کرنے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ سنگ بنیاد کی تختی پر ڈپٹی چیف منسٹر کا نام نہیں تھا اور ڈپٹی چیف منسٹر کو ایم پی کے انتظار میں بہت دیر تک انتظار کرنا پڑا اس طرح ایک مسلمان ڈپٹی چیف منسٹر کی بے عزتی کی گئی ۔ سید نجیب علی ایڈوکیٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مولانا ابو الکلام آزاد تحریک آزادی ہند کی عظیم المرتیب شخصیت تھے انہوں نے اپنی تقریروں کے ذریعہ سے جذبہ حریت و آزادی کو فروگ دیا تھا ان کی تحریروں نے ہندوستان عوام میں انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد میں شامل کرنے کیلئے آمادہ کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ 1905 میں تقسیم بنگال کے مسئلہ پر ہندوانقلابی شخصیات کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک میں حصہ لینے کے بعد ہندوانقلابی قائدین نے انہیں متعارف کرایا تھا۔ سری ار بندو اور شیام سندر چکرورتی کے ساتھ تقسیم بنگال مہم میں حصہ لیتے ہوئے ہندوستان تھریک آزادی کے علمبردار بن گئے ۔ سمیر احمد صدر ضلع کانگریس نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کی اور کہا کہ مولانا آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر پہلی مرتبہ ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اقلیتوں کے مسائل حل کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مختلف شعبوں اور بالخصوص صحافت کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والوں کو ایوارڈس کی بھی تقسیم عمل میں لاتے ہوئے اس یوم کو یادگار بنایا جارہا ہے ۔ این رتناکر سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی، ایم اے قدوس فلور لیڈر، سید عابد علی فلورلیڈر کانگریس بودھن، سرینواس یادو صدرنشین گراندھالیہ سمیتی نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر صحافیوں اور سینئر سٹیزنس کو ایوارڈس تقسیم کئے گئے۔ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں عثمان حضرمی، محمد حبیب الدین، سید بابو،نائب صدر ضلع کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ ثناء پٹیل، محمد فصیح ٹاؤن صدر بودھن، محمد اکبر، مصطفی الکاف، عمران بن محسن، عبید حمدان،نظیر الدین اجو،محمد اعجاز، محمد ربانی، ایم اے جلیل این آر آئی و دیگر بھی موجود تھے۔ تہنیت و ایوارڈ سے نوازے جانے والوں میں سینئر جرنلسٹ اختر امیتاز ، رفیق شاہی ،محمد جاوید علی، احمد علی خان ، محمد بلیغ احمد ،سید اسد ، محمد خالد خان، انور خان ، محمد افضل خان ، ذیشان ، عتیق احمد خان ، ظفر خان ، سید یٰسین علی ،غفور احمد ، سینئر سٹیزنس ویلفیر سوسائٹی صدر ایم اے شکور، رضی الدین اسلم لکچرر ، جمیل نظام آباد ی مدیر اعلیٰ ماہنامہ گونج ، محمد امیر الدین بیوروچیف نظام آباد مارننگ ٹائمز کے علاوہ دیگر شامل ہے۔