نیو شمس اسکول میں سالانہ ڈکلیمیشن ڈے کا انعقاد
02:04PM Thu 8 Nov, 2018
بھٹکل: 08 نومبر، 18 (بھٹکلیس نیوز) طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ادارہ تربیت اخوان کے تحت چلنے والے نیو شمس اسکول میں سالانہ ڈکلیمیشن ڈے کا انعقاد کیا گیا جس میں فائنل راؤنڈ کے لیے منتخب ہونے والے 13/طلبہ کے درمیان کڑا مقابلہ ہوا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک انجمن کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری جناب اسحاق شابندری صاحب نے طلبہ کی کاوشوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں آکر انہیں بھی بہت سی چیزیں جاننے اور سیکھنے کو ملی ہیں۔ انہوں نے تقریر کی صلاحیت کو انسان کے لیے اہم اور ضروری بتاتے ہوئے کہا کہ اس صلاحیت سے انسان کسی بھی میدان میں اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تقریروں میں ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ ان میں ایسے بھی لیڈر تھے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے کردار کا حکومت کے ایوانوں میں بھی ببانگ دہل اعلان کیا۔ موصوف نے تعلیم کو عصری اور دینی طور پر الگ نہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ تمام علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہیں اس لیے ایسی تفریق صحیح نہیں ہے۔
محترم اسحاق صاحب نے اس موقع پر طلبہ کو سکھانے والے اساتذہ کرام کو بھی مبارکباد دی اور ان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مہمان اعزازی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ تربیت اخوان کے نائب صدر جناب محمد نذیر قاضی صاحب نے طلبہ کو مستقبل کے لیڈر سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مستقبل کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اپنے اندر ایکسلینس پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی چیز میں جب یہ چیز شامل ہوگی تو اسے کامیابی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی ہے۔
انہوں نے بولنے کی صلاحیت کو اللہ کی خاص نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اس نعمت کی قدر کریں اور مستقبل میں اس سے کام لیں۔ انہوں نے ایکسلینس کے ساتھ طلبہ کو اونچی سوچ رکھنے اور ساری دنیا کے لیے نور کا مینار بننے کی ترغیب دی اور اس کے لیے محنت ضروری ہے۔
صدر ادارہ تربیت اخوان جناب قادر میراں پٹیل صاحب نے اس موقع پر صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو مفید باتیں بتائیں۔
ڈائس پر جناب مولانا عزیز الرحمٰن رکن الدین ندوی صاحب، جناب صلاح الدین ایس کے صاحب، جناب محمد رضا مانوی صاحب، جناب اسماعیل ضوریز صاحب، جناب طلحہ سدی باپا صاحب اور دیگر لوگ موجود تھے۔
اجلاس کا آغاز سالف ادیاور کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد انیس صدیقہ نے انگریزی میں ترجمہ پیش کیا۔ فارض رکن الدین کی نعت کے بعد طلبہ نے اسکولی ترانہ پیش کیا۔ جناب محمد رضا مانوی صاحب نے استقبالیہ کلمات پیش کیے تو جناب طلحہ سدی باپا صاحب نے شکریہ کلمات ادا کیے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب شاذر حسین صاحب نے بخوبی انجام دیے۔
محترم اسحاق صاحب نے اس موقع پر طلبہ کو سکھانے والے اساتذہ کرام کو بھی مبارکباد دی اور ان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مہمان اعزازی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ تربیت اخوان کے نائب صدر جناب محمد نذیر قاضی صاحب نے طلبہ کو مستقبل کے لیڈر سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مستقبل کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اپنے اندر ایکسلینس پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی چیز میں جب یہ چیز شامل ہوگی تو اسے کامیابی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی ہے۔
انہوں نے بولنے کی صلاحیت کو اللہ کی خاص نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اس نعمت کی قدر کریں اور مستقبل میں اس سے کام لیں۔ انہوں نے ایکسلینس کے ساتھ طلبہ کو اونچی سوچ رکھنے اور ساری دنیا کے لیے نور کا مینار بننے کی ترغیب دی اور اس کے لیے محنت ضروری ہے۔
صدر ادارہ تربیت اخوان جناب قادر میراں پٹیل صاحب نے اس موقع پر صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو مفید باتیں بتائیں۔
ڈائس پر جناب مولانا عزیز الرحمٰن رکن الدین ندوی صاحب، جناب صلاح الدین ایس کے صاحب، جناب محمد رضا مانوی صاحب، جناب اسماعیل ضوریز صاحب، جناب طلحہ سدی باپا صاحب اور دیگر لوگ موجود تھے۔
اجلاس کا آغاز سالف ادیاور کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد انیس صدیقہ نے انگریزی میں ترجمہ پیش کیا۔ فارض رکن الدین کی نعت کے بعد طلبہ نے اسکولی ترانہ پیش کیا۔ جناب محمد رضا مانوی صاحب نے استقبالیہ کلمات پیش کیے تو جناب طلحہ سدی باپا صاحب نے شکریہ کلمات ادا کیے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب شاذر حسین صاحب نے بخوبی انجام دیے۔