دہلی کے ائمہ مساجد نے کی اقلیتی کمیشن کے صدر سے ملاقات؛ کئی اہم موضوعات پر ہوئی گفتگو
11:15AM Thu 5 Oct, 2017
بھٹکلیس نیوز / 05 اکتوبر، 17
نئی دہلی : دہلی کے ائمۂ مساجد کے ایک وفد نے کل بروز بدھ دہلی اقلیتی کمیشن آکر صدر کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے ائمہ اور مسلمانان دہلی کے مختلف مسائل کے بارے میں بات چیت کی ۔ أئمہ کرام نے بالخصوص وقف بورڈ کی طرف سے أئمہ اور موذنین کی تنخواہیں بہت تاخیر سے دینے کی شکایت کی اور بتایا کہ اکثر کئی کئی ماہ بعد تنخواہ ملتی ہے اور فی الحال بھی کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ نئے وقف بورڈ کی تشکیل نہ ہونا ہے اور دوسری وجہ مستقل چیف ایگزیکیٹیو افسر (سی او) کا نہ ہونا ہے۔ موجودہ صورت حال میں فائلیں سی او کے پاس ان کے آفس میں بھیجی جاتی ہیں جس میں کافی تاخیر ہوتی ہے۔
صدر کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے وفد سے ان شکایتوں کو لکھ کر دینے کی ہدایت کی اور ان کی توجہ خاص طور سے مسلم قوم کی اخلاقی تنزلی کے بارے میں دلائی اور کہا کہ آپ لوگ مسلسل اپنے خطبوں میں اسلام کی بتائی ہوئی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات اور ہمارے اسلاف کے نمونوں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائیں تاکہ ملت کی اخلاقی حالت میں سدھار آئے اور جس عزت واحترام کے ہم مستحق ہیں وہ ہمیں مل سکے۔
کسی اسکول کو گائتری منتر یا وندے ماترم گانے کا حکم نہیں دیا گیاہے: نارتھ دلی کارپوریشن
نئی دہلی : پچھلے ماہ کچھ اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ نارتھ دلی میونسپل کارپوریشن نے اپنے علاقے کے اسکولوں سے رپورٹ مانگی ہے کہ وہاں صبح کی اسمبلی میں گائتری منتر اور وندے ماترم پڑھا جاتا ہے یا نہیں۔ خبر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس طرح کا کوئی حکم مذکورہ علاقے کے اسکولوں کو دیا گیا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے فورا اس کا نوٹس لیتے ہوئے نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے وضاحت طلب کی۔مذکورہ ڈپارٹمنٹ نے اپنے جواب میں کمیشن کو بتایا ہے کہ مذکورہ علاقے کے اسکولوں سے صبح اسمبلی کی کارروائی کے بارے میں کچھ سوالات پوچھے گئے تھے لیکن ان کو ایسا کوئی آرڈر نہیں دیا گیا ہے کہ صبح کی اسمبلی میں گائتری منتر یا وندے ماترم پڑھیں۔
وزیر آیوش کو خط
نئی دہلی: صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مرکزی وزیر آیوش شری شریپد نائک کو خط لکھ کر ان کی توجہ یونانی کے مسائل کی طرف مبذول کرائی ، جس میں ایک اہم مسئلہ حکومت کے یونانی شفاخانوں میں یونانی فارمیسسٹ کا نہ ہونا ہے۔ شاہدرہ میں آخری یونانی فارمیسسٹ کے ریٹائر منٹ کے بعد اب کسی بھی یونانی شفاخانے میں کوئی فارمیسسٹ نہیں ہے اور یہ کام دوسرے لوگوں سے لیا جارہا ہے جو ضوابط کے خلاف ہے۔صدر اقلیتی کمیشن نے وزیر آیوش کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذ ول کرائی کہ سنٹرل کاؤنسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن میں گزشتہ تین سال سے کوئی مستقل ڈائرکٹر نہیں ہے ، جس کی وجہ اس اہم تحقیقی ادارے کا کام متاثر ہورہا ہے۔ کمیشن نے وزیر آیوش سے مطالبہ کیا کہ اس اہم پوسٹ پر جلد ہی مستقل تقرری کی جائے۔