سرکاری اسکیموں کے بارے میں صرف اشتہار لگانا کافی نہیں اقلیتوں کو ان کا حق دیا جانا ضروری: ڈاکٹر راکیش کمار

01:25PM Sun 28 Oct, 2018

ٹمکور:28؍اکتوبر(نامہ نگار) سماج کے ہر ایک طبقہ کی فلاح وبہبودی کے لئے حکومت کی طرف سے مختلف اسکیمیں جاری کی جاتی ہیں ۔عام طور پر عوام کو ان اسکیموں کی جانکاری ملتی رہتی ہے۔لیکن اقلیتوں کے لئے جاری کردہ اسکیموں اور منصوبوں کے تعلق سے اقلیتی طبقہ کو خاطر خواہ معلومات نہیں فراہم کی جاتی ہیں۔اقلیتی طبقہ سرکاری سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتاہے۔اس خصوص میں نمائندوں کی طرف سے بھی غفلت برتی جاتی ہے اور خود سرکاری محکمے بھی لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے اقلیتیں سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھاپاتی ہیں۔اس طرح وہ اپنے حق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ اقلیتوں کو بھی ملے ۔یہ ان کا حق ہے کہ سرکاری سہولیات اقلیتوں کوحاصل ہوں۔یہ بات ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر راکیش کمار نے بتائی۔ڈپٹی کمشنر دفتر کے عدالتی ہال میں اقلیتوں کی بہبودی کے لئے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے نفاذ کے تعلق سے منعقدہ اجلاس سے وہ خطاب کررہے تھے۔اس اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جارہاتھا کہ 15نکاتی پروگرام پر کس قدر عمل ہواہے۔ڈپٹی کمشنر تمام محکموں سے تفصیلات طلب کرکے یہ جائزہ لے رہے تھے کہ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کے لئے جو رقم مختص کی گئی ہے اور جو سہولتیں انہیں دی جاتی ہیں اس میں کہاں کمی رہ گئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ دیہات میں سرکاری اسکیموں کے بارے میں صرف دیواروں پر لکھ دینے سے یا کہیں بورڈ لگادینے سے کام پورا نہیں ہوجاتا۔تمام محکموں کے افسروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ سرکاری اسکیموں کو مکمل طور پر نافذ کریں۔انہوں نے بتایاکہ عام طور یہ دیکھا جاتاہے کہ محکمہ کے لوگ سال بھر خاموش رہتے ہیں لیکن مالی سال کے آخر میں جلدی جلدی روپیہ خرچ کرکے حکومت کے سامنے اعدادوشمار پیش کردیتے ہیں۔جبکہ سرکاری اسکیموں کا عام لوگوں کو فائدہ نہیں ملتاہے۔عوام کی یہی سب سے بڑی شکایت ہے۔اجلاس کے دوران پندرہ نکاتی کمیٹی کے رکن سید قدیر نے الزام لگایاکہ اقلیتوں کے لئے جاری کردہ سہولتیں اقلیتوں کو نہیں دی جارہی ہیں۔اردو اسکولوں میں کنڑا اور انگریزی کی تعلیم کا مناسب انتظام نہیں ہے۔وہاں قابل اساتذہ کا تقرر نہیں کیا جارہاہے۔اس لئے ان اسکولوں کے خراب نتائج آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس تعلق سے ضلع کے ڈپٹی ڈائرکٹربرائے تعلیم کو توجہ دینی چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں کے اسکولوں میں ہر ماہ بچوں کا ڈاکٹری معائنہ ہونا چاہئے۔انہوں نے الزام لگایاکہ مولانا آزاد اور مرارجی دیسائی اسکولوں کا تعلیمی معیار دیگر اسکولوں کے مقابلے بالکل خراب ہے ۔اس لئے اقلیتی طلبہ اور بچے وہاں داخلہ لینے سے پیچھے ہٹتے ہیں۔