تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ وفود بغداد سے آئے تھے یا کردستان سے تھے۔ اسرائیل عراق کے صوبہ کردستان کی علاحدگی کی حمایت کرتا ہے۔
گذشتہ ہفتے عراق کی پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ کے ایک متنازع بیان کے بعد ان سے پارلیمنٹ میں وضاحت طلب کی تھی۔ عراقی وزیر خارجہ محمد الحکمیم نے کہا کہ تھا کہ ان کی حکومت فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی حامی ہے۔
خیال رہے کہ عراق ماضی میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا رہا ہے مگر دو ریاستی حل کہہ کر وزیر خارجہ نے فلسطین میں صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
عراق کے ایک سرکردہ رہ نما مثال الالوسی نے وفود کےدوروں کی خبریں سامنے آنے کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تل ابیب کے ساتھ رابطے شروع کرے۔