ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا 'میں دو ہفتے پہلے وزیراعظم مودی کے ساتھ تھا اورہم نے اس موضوع (کشمیر) کے بارے میں بات کی اورانہوں نے حقیقت میں کہا 'کیا آپ ثالثی یا ثالث بننا چاہیں گے؟ میں نے کہا کہ 'کہاں'؟ (مودی نے کہا) 'کشمیر'۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مدد کے لئے تیارہیں۔ اگردونوں ممالک اس کے لئے کہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان، پاکستان کے دہشت گردوں کے ذریعہ جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے ٹھکانے پرحملے کے بعد سے پاکستان سے بات چیت بند ہے۔
وزارت خارجہ نے بیان کو کیا خارج
وہیں وزارت خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جموں وکشمیر سے متعلق بیان پروضاحت دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے ٹوئٹ کیا 'کشمیرمسئلے پر ہندوستان کو تیسرے فریق کی ثالثی منظورنہیں ہے۔ ہندوستان نے واضح طورپرکہا ہے کہ پاکستان سے صرف دوطرفہ بات چیت ہوگی'۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وہائٹ ہاوس میں ملاقات کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کشمیرمسئلے میں ثالثی کا آفردیا۔ عمران خان نے کشمیرکا موضوع اٹھایا تو ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ثالثی کرنے کے لئے تیارہے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے بھی انہیں ثالثی کرنے کوکہا تھا۔
امریکہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی۔
وہائٹ ہاوس کوبھی دینا پڑا استعفیٰ
ڈونالڈ ٹرمپ کےاس متنازعہ بیان کے بعد وہائٹ ہاوس کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ کیا کشمیرکولےکرامریکہ کی پالیسی بدل گئی ہے۔ اس پرترجمان نے کہا 'کشمیردونوں فریق کے درمیان دو طرفہ مدعا ہے، ٹرمپ انتظامیہ اس کا استقبال کرتی ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کربات کریں اورامریکہ تعاون کے لئے ہمیشہ تیارہے'۔
امریکہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی۔
وہائٹ ہاوس کوبھی دینا پڑا استعفیٰ
ڈونالڈ ٹرمپ کےاس متنازعہ بیان کے بعد وہائٹ ہاوس کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ کیا کشمیرکولےکرامریکہ کی پالیسی بدل گئی ہے۔ اس پرترجمان نے کہا 'کشمیردونوں فریق کے درمیان دو طرفہ مدعا ہے، ٹرمپ انتظامیہ اس کا استقبال کرتی ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کربات کریں اورامریکہ تعاون کے لئے ہمیشہ تیارہے'۔