بھٹکل میں کورونا کے بڑھتے معاملات پر عوام گھبرانے کے بجائے محتاط رہیں: مجلس اصلاح و تنظیم

02:54PM Tue 7 Jul, 2020

بھٹکل:  7 جولائی 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل میں دن بدن کورونا کی بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر عوام تشویش میں مبتلا ہورہے ہیں اور بھٹکل میں ہورہے لاک ڈاؤن اور دیگر چیزوں کو لے کر کافی تشویش ظاہر کر رہے ہیں. عوام کے ان شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے آج صبح مجلس اصلاح و تنظیم نے اخباری کانفرنس منعقد کی اور لوگوں کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حنیف شباب صاحب نے بتایا کہ بھٹکل میں اپریل کے مہینے میں شروع ہونے والے کورونا معاملات سے لے کر اب تک تین ادوار ہوچکے ہیں۔ پہلے کے دو ادوار میں باہر سے معاملات آرہے تھے لیکن اب تیسرے مرحلہ میں بیرون سے آنے والے تو کم ہیں لیکن اس سے پرائمری و سکینڈری رابطہ والے حضرات زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو پر اعتماد رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ کورونا کی اس  بڑھتی تعداد پر خوف نہ کھائیں بلکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں میں ہی محفوظ رکھیں۔ عوام ان دنوں میں خود بھی بے جا کہیں نہ جائیں اور کسی سے ملنے میں بھی احتراز کریں۔ موصوف شباب صاحب نے کہا کہ اس تیسرے دور میں الجھن کی بات یہ ہے کہ اس دور میں اموات بھی ہورہی ہیں لیکن جیسے لوگ سوائن فلو، ڈینگی اور بہت ساری اس جیسی بیماریوں کے ساتھ جی رہیں ہیں اسی طرح اس کے ساتھ بھی ان کو جینا سیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے جو پابندیاں اور لاک ڈاؤن لاگو کیا گیا ہے ان قوانین کی پابندی کریں۔ سوشیل ڈسٹنسک اور ماسک پہننے کو بھی اپنے اوپر لازم کرلیں۔ انہوں نے ایسے حالات میں بھی بازاروں میں جمع ہورہی بھیڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں سمجھداری کی بات یہ ہے کہ وہی شخص بازار میں جائے جس کو کام ہے لیکن بھٹکل میں صورتحال یہ ہے کہ بازاروں میں عورتیں اپنے تین چار بچوں کو بھی ساتھ لے کر گھوم رہی ہیں حتی کہ جن کے رشتہ داروں میں پوزیٹیو معاملات سامنے آئے ہیں وہ بھی بازاروں میں گھوم رہے ہیں جو کہ تشویش کی بات ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ لوگوں کا اعتراض ہے کہ مینگلورو اور اڈپی کے مقابلہ میں بھٹکل میں انتظامیہ جلد پابندیاں لگادیتی ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھٹکل کی بات الگ ہے اور ان مقامات کی بات الگ ہے کیوں کہ وہاں کی جو تعداد ہے وہ پورے ضلع کی ہے لیکن یہاں بھٹکل میں ہی زیادہ معاملات سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جو کہ عوام کی بہتری کے لیے ہی ہے۔ انہوں نے ایک اور اشکال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے جو پوزیٹیو معاملات آئے ہیں اور ان میں علامت نہیں ہے تو ان کو ویمن سینٹر میں رکھا گیا ہے ان میں کورونا کی علامت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو فی الحال دوائیں نہیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویمن سینٹر ایک کیر سینٹر ہے، اگر یہاں کسی کی حالت زیادہ خراب ہوجاتی ہے یا کورونا کی علامت آجاتی ہیں تو ان کو کاروار لے جاکر مزید علاج کیا جاتا ہے، لہٰذا عوام کی طرف سے یہاں دوائیاں نہ دینے کی شکایت کرنا فضول ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے عوام کے ایک اور شبہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک ساتھ رہنے والوں میں سے ایک کی رپورٹ پوزیٹیو آئے اور دوسرے کی نگیٹیو آئے کیوں کہ ایک کے جسم کا مدافعاتی نظام کمزور ہوگا اور ایک کا مضبوط ہوگا اور عین ممکن ہے کہ آگے جاکر اسکو بھی پوزیٹیو آئے۔ ڈاکٹر شباب صاحب نے کہا کہ کورونا کے مریضوں میں علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے اس بیماری پر سوالات اٹھانے کے بجائے احتیاط کا راستہ اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے عوام کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا موجودہ صورت حال سے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اس بیماری سے جوجنے کے لیے تنظیم کے تمام اراکین سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ گھر سے بلا وجہ باہر نہ آئیں۔ اگر کسی میں کورونا کی علامت پائی جاتی ہے تو ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور اس سلسلہ میں بے پرواہی نہ کریں۔ کیوں کہ اگر یہ پھیل گیا تو اتنے زیادہ لوگوں کو میڈٰکل اسٹاف مہیا کرانا مشکل ہے اس لیے احتیاط برتیں اور ہوشیاری کا مظاہرہ کریں۔ اس موقع پر صدر تنظیم جناب ایس ایم سید پرویز صاحب، جناب عمران لنکا صاحب و غیرہ بھی موجود تھے۔