مسلمانوں نے اپنی ترجیحات میں کبھی میڈیا کوشامل نہیں کیا،یہ اس قوم کا سب سے بڑا المیہ ہے
12:55PM Tue 31 Jan, 2017
میڈیا کی جابنداری کا رونا رونے کے بجائے اب مسلمان سائبر میڈیا کا سہارا لیں
ملت ٹائمز ویب پورٹل کی پہلی سالگرہ پر منعقدہ پروگرا میں سینئر صحافیوں اور سائبر میڈیا کے ماہرین کا اظہار خیال
نئی دہلی۔۔(بھٹکلیس نیوز) ملت ٹائمز نیوز پورٹل کے ایک سال مکمل ہونے پر آج جامعہ نگرمیں’’ سائبر میڈیا ضروریات اور مشکلات ‘‘کے موضوع پر ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا جس میں معروف صحافیوں اور سائبر میڈیا کے ماہرین نے شرکت کی اور سائبر میڈیا کی اہمیت ،ضرورت اور درپیش مشکلات پر تفصیل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اسی پروگرام میں ملت ٹائمز کے موبائل ایپ کا بھی اجراء عمل میں آیا ۔سمپوزیم کے صدر سینئر صافی اے یو آصف نے اپنی صدارتی خطاب میں ملت ٹائمز کے سی ای او شمس تبریز قاسمی کو مبارکبادپیش کی اور ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ میڈیا کے ذریعہ قوم کی خدمت کرنا اور ملی مسائل کے حل کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اب ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اور جولوگ اس کے ذریعے خدمات انجام دے رہے ہیں وہ قابل مبارکباد ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ بھی سچ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی ضرورت آج بھی برقرار ہے کیوں کہ آج بھی سب لوگ موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کرتے ہیں تاہم سائبر میڈیا سے کسی کو چھٹکارا نہیں ہے اور نہ ہی اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے انکار کیا جاسکتاہے ۔اخبارات کے ذریعہ لوگ اپنی بات کو زیادہ دور تک نہیں پہونچاسکتے ہیں ،دہلی سے نکلنے والا اخبار چھتیس گڑھ تک نہیں پہونچ پاتاہے کچھ اخبار ات ملٹی ایڈیشن ضرورہیں لیکن وہ بھی محدود ہیں، لیکن سائبر میڈیا کے توسط سے صرف ایک کلک پر دہلی سے واشنگٹن تک خبریں پہونچ جاتی ہیں ۔انہوں نے ملت ٹائمز کی اس بات کیلئے تعریف کی یہاں بلا ضرورت پریس ریلیز اور اپنی زبانی تعریف کرنے والی تنظیموں کی خبروں کو بغیر تحقیق کے شائع نہیں کیا جاتاہے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں میڈیا کی آزادی پر زور دیا اور ساتھ یہ بھی کہاکہ نئی نسل کو سائبر میڈیا سے وابستہ ہوکر مثبت انداز میں اس سے بھر پور استفاد ہ کرنا چاہیے اور صرف ایک نہیں بلکہ دسیوں ملت ٹائمز ہوناچاہئے ۔
روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب قاسم سید نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلمانوں نے اپنی ضروریات اور ترجیحات میں میڈیا کو کبھی شامل نہیں کیا اور یہی سب سے بڑااس قوم کا المیہ ہے ،مسلمانوں نے ہمیشہ میڈیا کو برابھلا کہالیکن خود اس کو بطور ہتھیا ر کے اپنانے پر توجہ نہیں دی خواہ وہ سائبر میڈیا ہو یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا ہاؤس کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتاہے خواہ وہ سائبر میڈیا ہو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا ۔قاسم سید صاحب نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ بہت سے صحافی مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں جس سے اس قوم کا بہت بڑا خسارہ ہواہے۔انہوں نے وہاٹس ایپ کا خاص طور پر ذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہاں لوگ بغیرکسی تحقیق کے ایسی چیزیں شیر کرتے ہیں جس کا دور دورتک حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتاہے ،ایک مرتبہ کسی گروپ کو دیکھنے کے بعد کبھی دوبارہ اس کو دیکھنے کا جی نہیں کرتاہے۔
سینئر صحافی اور ’’جنتاکا رپوٹر ‘‘کے سی ای او جنا ب رفعت جاوید نے اپنے خطاب میں سوشل اور سائبر میڈیا کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ آزادانہ طور پر اپنی بات رکھنے کا بہت ہی بڑا پلیٹ فارم ہے ،اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے لیکن ضرورت اس کو اپنانے کی اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہے ۔انہوں نے سائبر میڈیا میں اپنی حصولیابیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جنتا کار پوٹر ایک متبادل میڈیا کے طور پر کام کررہاہے اورصرف ڈیڑھ سالوں میں اب مین اسٹریم میڈیا میں شامل ہوگیاہے ،انڈین ایکسپریس ،ٹائمز آف انڈیا جیسے اخبار جنتا کا رپوٹر پر اعتماد کرکے یہاں سے خبر یں لیتے ہیں،انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی جیسی ایجنسی بھی یہاں سے خبریں لینے پر مجبور ہے۔رفعت جاوید صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کیلئے سنجیدگی اور میعار قائم کرنا بیحد ضروری ہے ،انہوں نے کہاکہ ہر خبر کی تحقیق ہونی چاہیئے کہ کیسی خبر ہے ،کہاں سے آئی ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے ،صرف ٹریفک حاصل کرنے یا شہرت کی غرض کسی بھی خبر کو تحقیق کے بغیر شائع کرنا صحافتی اقدار کے خلاف ہے اور اسی طرح میڈیا میں کوئی بھی اخبار کامیاب نہیں ہوسکتاہے۔انہوں نے ایک اوقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ دنوں ہمارے پاس ایک ویڈیو جس میں بہار پولس کچھ علماء پر ڈنڈا چلارہی ہے ،ویڈیو بھیجنے والے نے کہاکہ اس کو چلائیے کہ نتیش سرکار میں مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے ،جب میں نے تحقیق کی تو پتہ چلاکہ یہ ویڈیا بہار الیکشن سے پہلے کی ہے ۔
بی بی سی کے صحافی جناب اقبال احمد نے بھی سائبر میڈیا کوبے انتہااہم بتاتے ہوئے کہاکہ میڈیا پر اب تک دو قوموں کا قبضہ چلاآرہاہے لیکن سائبر میڈیا کے بعد جن قوموں کی میڈیا تک رسائی نہیں تھی وہ بھی اس کے ذریعہ اپنے مقاصد پورے کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مسلمان اور دلت سب سے زیادہ پسماندہ مانے جاتے ہیں یہ اگر اپنی ترقی چاہتے ہیں تو سائبر میڈیا کے توسط ایک انقلاب برپا ہوسکتاہے ،انہوں ملی اداروں اور مسلمانوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اب مین اسٹریم میڈیا کو لعن طعن کرنے کے بجائے سائبر میڈیا کو اپنا نے کا وقت ہے ،ابھی موقع ہے کہ سائبر میڈیا پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کیا جائے کہ اگلے پانچ سالوں کے بعد اخبارکے ساتھ ٹی وی کی اسکرین بھی ختم ہوجائے گی ،صرف سائبر میڈیا کادوردورہ ہوگا اور سب کچھ موبائل کی اسکرین پر ہوگا ۔
سینئر صافی ڈاکٹر عبد القادر شمس سب ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارانے اپنے خطاب میں کہاکہ اب الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہوچکاہے ،سائبر میڈیا کا زمانہ آگیاہے ،اچھی بات یہ ہے کہ یہاں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ،مختصر سے بجٹ میں اس پلیٹ فارم کے ذریعہ بہت بڑا کارنامہ انجا م دیاجاسکتاہے ،سائبر میڈکے بعد مسلم قوم کو یہ شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں رہ گیا ہے کہ ہمارے پاس میڈیا کی طاقت نہیں ہے ۔
ایم ودود ساجد نے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلے لوگ ہفت روزہ اخبارنکالاکرتے تھے اور چند ماہ بعد کسی وجہ سے وہ بند ہوجاتاتھا لیکن شمس صاحب نے ڈیجیٹل میڈیا کو اپناتے ہوئے ملت ٹائمز کی شروعات کی ہے جس کے بند ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اور لوگ کھل کی اپنی باتیں کرتے ہیں ،اپنے تبصرے کرتے ہیں۔
صحافی یاور رحمن (سی ای او درپن )نے اپنے خطاب میں کہاکہ موبائل کے ذریعہ تمام کام ممکن ہوگیا ہے یہاں تک فلم اور ویڈیو بنانے کیلئے بھی اب کیمرے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے اس لئے موبائل کے ذریعہ بھی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے ،کسی بھی مسئلے کو کور کیا جاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ سائبر میڈیا کا میدان بہت وسیع ہے اور یہ ابھی یتیم وبے سہارا ہے جو لوگ اس پر قبضہ کرلیں گے یہ اگلا دور اسی کا ہوگا اس لئے مسلمانوں کیلئے موقع ہے کہ وہ ابھی سے اس پر خاص توجہ دیں ۔
مولانا حفظ الرحمن قاسمی انچا رج مرکز المعارف دہلی نے اپنے خطا ب میں کہاکہ پہلے اپنی بات کسی دوسرے تک پہونچانے کیلئے بہت کچھ سوچنا پڑتاتھا ،اخبارمیں کسی رپوٹ اور مضمون کا چھپ جانا بہت مشکل ہوجاتاتھا لیکن سوشل میڈیا آنے کے بعد یہ سارے مسائل حل ہوگئے ہیں اور مین اسٹریم میڈیا کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے جس سے ہمیں فائد ہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،ہر چیز کا استعمال صحیح اور غلط ہوتاہے سوشل میڈیا کا ہمیں بہتر اور مثبت استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے توسط ایک بڑا ہدف حاص کیا جاسکتاہے
یو این این کے ایڈیٹر ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے اپنے خطاب میں سائبر میڈیا کا مثبت استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا ۔انٹر نیشنل یونین آف ورچول میڈیا کے ڈائریکٹر اشرف زید ی نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس وقت فکری اور ثقافتی جنگ عالمی سطح پر جاری ہے اور میڈیا سب سے بڑا اسلحہ بناہوا ہے جس کا میڈیا پر غلبہ ہوگا وہی یہ جنگ جیتنے میں کامیاب ہوگا اس لئے میڈیا کو ایک ہدف کے طور پر ہمیں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
قبل ازیں محمد افسر کی تلاوت سے تقریب کا آغاز ہوا اور فداحسین نے نعت پیش کی ،ملت ٹائمز کے منیجنگ ایڈیٹر فیض الاسلام فیضی خطبہ استقبال پیش کیا اور عبدالکبیر نے ملت ٹائمز کا تفصیلی تعارف بیان کیاجبکہ نظامت کا فریضہ شمس تبریز قاسمی نے انجام دیا ۔
سمپوزیم میں دہلی کے معروف صحافیوں،دانشورا ن اور سماجی کارکنان نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر شہا ب الدین قاسمی ،ڈاکٹر اجمل قاسمی ،عابد الرحمن عابد ،عبد النور شبلی ،صحافی نعمان قیصر ،مولانا افسر ندوی،نوشاد عثمانی ،انجم جعفری ،ڈاکٹر توحید عالم ،خرم شہزاد،مولانا فیروز اختر قاسمی ،قاری سلیم رشیدی،مولانا عبد القادر ،محترمہ تبسم فاطمہ،جناب اسد غازی،عارفہ حید ر،ڈاکٹر نیاز عالم سمیت متعدد صحافیوں نے شرکت کی ۔
تمام مقررین اور شرکاء مجلس نے مشترکہ طور پر شمس تبریز قاسمی اور ان کی پوری ٹیم کو سائبر میڈیا کے توسط سے صحافتی خدمات انجام دینے پر مبارکباد پیش کی اور ملت ٹائمز کے ایک سال مکمل ہونے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔