علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے طلبہ کی تیار کردہ دیسی ریسنگ کار کی لندن میں دھوم

04:18PM Tue 9 Aug, 2016

نئی دہلی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے انجینئرنگ طلبہ کی تیار کردہ فارمولہ ریسنگ کار کو لندن میں ہوئے فارمولہ اسٹوڈنٹ دو ہزار سولہ مسابقہ میں لاگت اور مینوفیکچرنگ کے زمرہ میں دنیا بھر میں اکتیسویں نمبر پر بہتر قرار دیا گیا ہے۔ کپتان ارپت اپادھیائے کی زیر قیادت بائیس رکنی طلبہ کی ٹیم اپنے فارمولہ کی نمائش کے لئے لندن گئی ہوئی تھی۔ علی گڑھ کی ٹیم کو لاگت، مینوفیکچرنگ اور پائیداری کے زمرہ میں اٹھاون اعشاریہ پچہتر نمبر ملے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، کار سازی پر پچیس لاکھ روپئے خرچ ہوئے ہیں۔ نیوز ۱۸ سے بات کرتے ہوئے ٹیم لیڈر ارپت اپادھیائے نے کہا کہ اپنے پروجیکٹ پر مزید تحقیق اور اسے جدید طرز پر بنانے کے لئے ہم ہندوستانی کار سازوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو یہ ٹیم لندن سے واپس ہندوستان آئی۔ اپنے پروجیکٹ کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے ارپت نے کہا کہ اس زمرہ میں مسابقہ آرائی ہندوستانی طلبہ کے لئے یوروپی طلبہ کے مقابلہ کافی مشکل تھی کیونکہ یوروپی طلبہ کو آڈی جیسے بڑے کارسازوں کا تعاون حاصل ہے۔ یہ ٹیم مکینیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانکس اور کمپیوٹر انجینئرنگ شعبوں کے چاروں سال کے طلبہ پر مشتمل تھی۔ مسابقہ کے بارے میں بتاتے ہوئے ٹیم کے ایک دوسرے رکن اریب محمود نے کہا کہ مسابقہ کے پہلے دن کاروں کا تکنیکی جائزہ لیا گیا اور اس دوران ریسنگ میں حصہ لینے کے لئے اس کے تمام تر معیارات کی جانچ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ملاقاتی سیشن تھا جس میں طلبہ نے کارسازی کے ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ اکسپوزر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ اس سے ہمیں نئی باتیں اور مینجمنٹ کے معیار کو سمجھنے میں مدد ملی۔ خیال رہے کہ فارمولہ اسٹوڈنٹ یوروپ کا ایک موٹر اسپورٹ مسابقہ ہے جس کا انعقاد انسٹی ٹیوشن آف مکینیکل انجینئرز کرتا ہے۔