تبصرہ کتب : التنبیہ و الاشراف

06:17PM Thu 13 Jul, 2017

نام کتاب:            التنبیہ والاشراف

مصنف:   ابوالحسن علی بن الحسین بن علی مسعودی

مترجم:    مولانا عبداللہ العمادی -   رکن شعبہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن

نظرثانی و تہذیب:  ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر- سابق صدر شعبہ اسلامی تاریخ، کراچی یونیورسٹی، کراچی

ناشر:  قرطاس۔ فلیٹ نمبر A-15، گلشن امین ٹاور، گلستان جوہر، بلاک15، کراچی

موبائل: 0321-3899909

ای میل: saudzaheer@gmail.com

ویب گاہ: www.qirtas.com.nr

یہ مشہور کتاب التنبیہ والاشراف ابوالحسن علی بن حسین بن علی المسعودی کی تحقیق ہے۔ مسعودی تیسری صدی ہجری میں عراق میں پیدا ہوئے جو کہ علوم و فنون کا سنہری زمانہ تھا۔ اس زمانے میں بغداد علما، فضلا، فقہا، ادبا، مؤرخین، مترجمین، لُغویوں، نحویوں۔ ۔ ۔  غرضیکہ ہر شعبہ علم کے ماہرین کی آماج گاہ تھا۔ مسعودی کے بہت سے اساتذہ تھے، ان میں ایک نفطویہ تھے جو بغداد کے مشہور ادیب، نحوی اور مؤرخ تھے۔ دوسرے ابوالخلیفہ الجمحی اپنے زمانے کے مشہور فقیہ اور محدث تھے۔ مسعودی کی بیشتر تصانیف دست بردِ زمانہ کی نذر ہوگئیں۔ ان کی تاریخ پر تیئس(23)، علم و حکمت پر چار، علم سیاست پر تین، اصول قانون پر تین اور اصولِ مذہب پر پانچ کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ نامکمل فہرست ہے۔ تاریخ پر ان کی صرف دو کتابیں ’’مروج الذھب و معاون الجوہر‘‘ اور ’’التنبیہ و الاشراف‘‘ محفوظ رہ سکیں ۔

زیر نظر کتاب التنبیہ والاشراف مسعودی نے اپنی زندگی کے آخری برس میں تحریر کی۔ اس میں اسلام کی ابتدائی صدیوں کے اہم واقعات بیان کردیے ہیں۔ مسعودی کا بیان ہے ’’یہ (التنبیہ والاشراف) فقط ایک تاریخی کتاب ہے، مباحثے اور مناظرے کی کتاب نہیں‘‘۔ بقول مسعودی التنبیہ والاشراف کا ایک مقصد یہ ہے کہ ساری گزشتہ تصانیف کا خلاصہ ہوجائے اور اس کتاب کے ذریعے دوسری تصانیف سے لوگ آگاہ ہوجائیں ۔

التنبیہ والاشراف 1894ء میں لائیڈن سے پہلی بار شائع ہوئی۔ اس کا فرانسیسی میں ترجمہ 1897ء میں ہوا۔ اردو میں مولانا عبداللہ عمادی نے منتقل کیا جو جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے 1926ء میں شائع ہوا۔ اسی ترجمے کو ڈاکٹر نصیب اختر کے مقدمے اور کچھ حواشی کے ساتھ 1967ء میں ایجوکیشنل پریس کراچی نے شائع کیا۔

ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے اس پر معلومات افزا جامع مقدمہ تحریر کیا ہے اور مسعودی کے حالات دیے ہیں ۔ پاکستان میں یہ کتاب پہلی مرتبہ 1967ء میں شائع ہوئی۔ دوسری بار چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔ نصف صدی بعد یہ ادارۂ قرطاس سے شائع ہوئی ہے۔

نجی اور سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدارس کے کتب خانوں کو چاہیے کہ اس قسم کی نایاب کتب کو فوراً خرید کر اپنے ذخیرۂ کتب میں شامل کرلیں۔ ہوسکتا ہے پھر پچاس، سو سال بعد اگلا ایڈیشن شائع ہو۔

کتاب مجلّد ہے۔ عمدہ طبع ہوئی ہے۔ ادارۂ قرطاس کی کتب مندرجہ ذیل مکتبوں سے مل جائیں گی:

کتاب سرائے اردو بازار۔ ۔ ۔  لاہور

بیکس بکس۔ ۔ ۔ ملتان

رائل بک، اقبال روڈ۔ ۔ ۔ راولپنڈی

مکتبہ اسلامیہ۔ ۔ ۔ فیصل آباد

مکتبہ امام اہلِ سنت۔ ۔ ۔ گوجرانوالہ

بک کارنر شوروم۔ ۔ ۔ جہلم

"بشکریہ  : فرائیڈے اسپیشل"

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔